• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ نے گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیدیا، برطانوی میڈیا کا دعویٰ

تصویر، بشکریہ غیرملکی میڈیا
تصویر، بشکریہ غیرملکی میڈیا

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کریں۔ تاہم سینئر امریکی فوجی گرین لینڈ پر حملے کے منصوبے کے مخالف ہیں اور صدر ٹرمپ کی توجہ نسبتاً کم متنازعہ سمجھے جانے والے امور کی جانب کرائی جارہی ہے جن میں روس کے گھوسٹ جہازوں کو سمندروں میں روکنا یا ایران پر حملہ کرنا بھی شامل ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق امریکا کےصدر نے جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ حملے کی منصوبہ بندی تیار کریں۔ تاہم جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی جارہی ہے، ان کے نزدیک یہ عمل غیرقانونی ہوگا اور کانگریس اس کی حمایت نہیں کرے گی۔

اخبار کے مطابق صدارتی مشیر اسٹیفن ملر سمیت کئی اہلکار گرین لینڈ پر حملہ چاہتے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسٹیفن ملر جیسے اہلکاروں کا وینزویلا کیخلاف کامیاب کارروائی سےحوصلہ بڑھا ہے۔

دعویٰ کیا گیا ہےکہ صدر ٹرمپ امریکی معیشت کی صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، صدر ٹرمپ مڈٹرم الیکشن سے پہلے ووٹرز کی توجہ ملک کی معاشی صورتحال سے ہٹا کر گرین لینڈ کی جانب کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہےکہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یہ برطانوی وزیراعظم سے کھلا اختلاف ہوگا اور اس صورت میں نیٹو اتحاد ٹوٹ جائے گا۔

اخبار کے مطابق بعض یورپی حکام کو شبہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں شامل میک امریکا گریٹ اگین کے حامیوں کا یہی مقصد ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کانگریس صدر ٹرمپ کو نیٹو سے کبھی بھی نکلنے نہیں دے گی تاہم گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یورپی ممالک خود نیٹو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اگر ٹرمپ نیٹو سے نکلنا چاہیں تو یہ آسان ترین رستہ ہوگا۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ڈنمارک اس بات پر تیار ہوسکتا ہے کہ وہ امریکا کو گرین لینڈ تک مکمل فوجی رسائی دیدے اور چین و روس کی رسائی روک دے۔

اخبار کے مطابق نومبر میں ہونے والے انتخابات کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس صورتحال قابو میں لینے کا وقت موسم گرما تک ہے، اس لیے امریکی اقدام جلد ممکن ہے۔

نیٹو سربراہ اجلاس سات جولائی کو ہورہا ہے اور یہ سمجھوتے کے تحت ڈیل کے لیے فطری لمحہ ہوگا۔

بعض جنرلز کے حوالےسے دعویٰ کیا گیا ہےکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے ڈیل کرنا پانچ سال کے بچے سے ڈیل کرنے کے مترادف ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید