جاپان میں اپنی غیر معمولی ذہانت اور یادداشت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور مادہ چمپینزی ’آئی‘ (Ai) 49 برس کی عمر میں مر گئی۔
کیوٹو یونیورسٹی کے ریسرچ سینٹر کے مطابق آئی بڑھاپے اور جسمانی اعضا کے ناکام ہونے کے باعث پُرسکون انداز میں دنیا سے رخصت ہوئی، اس دوران مرکز کا عملہ اس کے ساتھ موجود تھا۔
آئی کو جانوروں کی ذہانت پر تحقیق کی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل تھا، اسے 1977 میں مغربی افریقہ سے جاپان لایا گیا تھا، جہاں وہ چمپینزیوں کی سوچ اور یادداشت پر ہونے والی ایک اہم تحقیقی منصوبے کا مرکزی کردار بنی، آئی کو ڈرائنگ اور پینٹنگ کا بھی شوق تھا اور وہ کاغذ پر تصاویر بناتی تھی۔
سائنس دانوں کے مطابق آئی اس قدر ذہین تھی کہ وہ اعداد، رنگوں اور اشیا کو بخوبی پہچان سکتی تھی، اسے بچپن ہی سے ایک خصوصی کمپیوٹر کی بورڈ کے ذریعے تربیت دی گئی تھی اور صرف پانچ سال کی عمر میں وہ نمبرز، رنگوں اور مختلف اشیا کو آسانی سے شناخت کرنے لگی تھی۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق آئی 100 سے زائد چینی حروف (Chinese characters)، انگریزی حروفِ تہجی، صفر سے نو تک گنتی اور 11 مختلف رنگ پہچاننے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے ایک بار دوسرے چمپینزی کے ساتھ مل کر چابی کے ذریعے پنجرہ کھول کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔
سال 2000 میں آئی کے ہاں ایک بیٹے آیومو (Ayumu) کی پیدائش ہوئی، جو خود بھی اپنی غیر معمولی یادداشت کے باعث سائنسی دنیا میں شہرت رکھتا ہے۔
آئی کی حیران کن ذہانت کی بدولت اس پر متعدد سائنسی تحقیقات اور میڈیا پروگرامز بنائے گئے، جبکہ اس کی صلاحیتوں پر معروف سائنسی جریدے ’نیچر‘ (Nature) میں بھی تحقیقی مضامین شائع ہوئے۔