ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے، صورت حال مکمل قابو میں ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، داعش طرز کی دہشت گرد کارروائیاں کیں اور پولیس اہل کاروں کو زندہ جلایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں، ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، یہ معلومات دوسری طرف کے بہت اہم ذرائع سے موصول ہوئی ہیں کہ ہلاکتیں رک گئی ہیں اور پھانسیاں نہیں ہوں گی۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کا حکم دے چکی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔