• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: شادی کے وقت جو جہیز دیا جاتا ہے، لڑکی والے لڑکے کو جہیز دیں گے یا لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو دیاجائے گا، اس بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے ؟ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بی بی فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی شادی کے وقت حضرت علیؓ نے کچھ سامان حضرت عثمان ؓ کے ہاتھوں فروخت کیا تھا۔(انس نظامی ،جدّہ )

جواب: شریعت میں جہیز دینے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے اپنی ایک بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو شادی کے وقت کچھ سامان مثلاً: چکی ، پانی کا برتن اور تکیہ وغیرہ دیا تھا۔ حدیث پاک میں ہے: ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺنے حضرت فاطمہ ؓ کو اپنے شوہر (علی المرتضیٰ ؓ ) کے گھر بھیجنے کے لیے ایک چادر، مشک اور تکیہ کے ساتھ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی، پر مشتمل جہیز دیا،(سنن نسائی:3382)‘‘۔

یہ سامان اس دور کے مطابق گھر بسانے کے لئے بنیادی ضروریات تھے۔ رسول اللہﷺ کی باقی بیٹیوں کے متعلق ایسی کوئی روایت نہیں ملتی۔ حضرت ابو العاصؓ کا گھر پہلے سے موجود تھا، اس لئے سیّدہ زینبؓ کے نکاح کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے ایسا کوئی انتظام نہ کیا۔ سیّدنا عثمان غنی ؓ کا الگ گھر بھی پہلے موجود تھا، اس لئے سیّدہ رقیہؓ اور امّ کلثومؓ کے لیے حضورﷺکو ایسے کسی انتظام کی ضرورت نہ پڑی۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی زوجیت میں جوخواتین آئیں، اُن کے والدین کو بھی ایسے کسی انتظام کی حاجت نہ تھی۔

رسول اللہ رﷺحضرت فاطمہ زہراؓ اور حضرت علی ؓدونوں کے کفیل اور سرپرست تھے۔ اس لئے دونوں کے ازدواج کا اہتمام بھی رسول اللہ ﷺہی کو کرنا تھا۔ خانہ داری کے انتظام کے لئے جو کچھ مختصر سامان مثلاً چار پائی، اَذخر گھاس سے بھری توشک تکیہ، مشکیزے، گھڑے اور چکی کا اہتمام آپ ﷺ نے فرما دیا۔ چاندی کا ہارحضرت فاطمہؓ ہی کا تھا، جو آپ کو سیّدہ خدیجہ ؓ کے ترکے سے ملا تھا۔ یہ سارا انتظام حضورﷺکو اس لئے کرنا پڑا کہ آپ کو ایک الگ گھر بسانا تھا۔ 

اگر حضرت علی ؓ کا پہلے ہی سے کوئی الگ گھر ہوتا تو حضور ﷺ شاید اتنا کچھ بھی نہ کرتے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کی حیثیت ان سے مختلف تھی، اب تک وہ حضورﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے اور جب نکاح ہوا تو سیّدنا علی ؓ کے پاس کوئی الگ گھر نہ تھا۔ ایک انصاری حارثہ بن نعمانؓ نے اپنا ایک گھر رسول اللہ ﷺکی خدمت میں بخوشی پیش کردیا، جس میں یہ پاکیزہ نیا جوڑا منتقل ہوگیا اور خانہ داری کے مختصر اسباب وہاں بھیج دیئے گئے۔ ہمارے عرف کے معیار کا جہیز نہ تھا، بلکہ خانہ داری کی کم ازکم بنیادی ضروریات کا انتظام تھا۔

رسول اللہ ﷺنے حضرت علی ؓ سے حق مہر پہلے ہی لے لیا تھا، ایک زرہ تھی جو حضرت علی ؓ نے حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ تقریبا ًپانچ سو درہم میں فروخت کی تھی۔ یہی رقم حضرت علی ؓ حضورﷺکی خدمت میں لے کر آئے اور اسی رقم سے حضورﷺ نے خانہ داری کا سب سامان اور کچھ خوشبو وغیرہ منگوائی تھی۔

حضرت علی ؓ نے فرمایا: ترجمہ:’’ میں نے جب رسول اللہ ﷺ کو آپ کی صاحبزادی (فاطمہؓ)کے نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ کیا، تو مجھے یاد آیا کہ میرے پاس توکچھ بھی نہیں ہے، پھر مجھے آپ ﷺ کی عادتِ مبارکہ اور آپ کا فضل واحسان یاد آیا، تو میں نے پیغام دے دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس کچھ ہے جو تم اسے (سیّدہ فاطمہؓ کو) مہر کے طور پر دو، میں نے عرض کی: کچھ نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ حُطَمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے فلاں دن تمہیں دی تھی، میں نے عرض کی: وہ میرے پاس موجود ہے، فرمایا: اُسے لے آؤ، آپ بیان کرتے ہیں: میں نے وہ زرہ آپ کو دے دی اور آپ ﷺ نے (فاطمہؓ سے) میرا نکاح کردیا، جب آپ نے انہیں(فاطمہؓ کو) میرے گھر بھیجا تو فرمایا: میرے آنے تک تم کچھ نہ کرنا،پس آپ ﷺ آئے اورہم چادر اوڑھے ہوئے تھے۔

جب آپ ﷺ کوہم نے دیکھا توآپ نے ہمیں اپنی آمد کی خبر دینے کے لیے آواز نکالی اور فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو، پھر آپ نے ایک برتن میں پانی منگوایا اوراس پر دعا فرماکر (یعنی دَم کرکے) ہم پر چھڑکا، پھرمیں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ!آپ کویہ (فاطمہؓ)زیادہ محبوب ہیں یا میں ؟،آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے فاطمہ ؓزیادہ محبوب ہیں اور تم مجھے ان سے زیادہ عزیز ہو،(مسند حمیدی : 38 )‘‘۔

اگر لڑکا بہت زیادہ غریب ہو کہ گھر کا ضروری سامان خریدنے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں لڑکی کے والدین اگر اس کے ساتھ مالی تعاون کرنا چاہیں، تو حرج نہیں، بلکہ باعثِ ثواب ہے لیکن آجکل کے دور میں رائج جہیز کسی بھی صورت جائز نہیں۔ موجودہ دور میں بصورتِ جہیز دیا جانے والا سامانِ تعیّشات ایک معاشرتی لعنت ہے۔

نکاح کے وقت کسی طرح کا مال دینا اور لینا جائز نہیں ہے، علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ’’عورت اپنے نکاح کے عوض جو مال دے، وہ باطل ہے ،اس لیے کہ نکاح میں عوض عورت پر نہیں ہے (بلکہ مہر کی شکل میں مرد پر ہے)، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار، جلد8)‘‘۔ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:’’ رخصتی کے وقت لڑکی والوں نے اگر کچھ لیا تو شوہر کو اسے واپس لینے کا حق ہے ،کیونکہ وہ رشوت ہے ‘‘۔

اس کی شرح میں علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ یعنی اگر لڑکی کے بھائی یا کسی دوسرے ولی نے کچھ لیے بغیر رخصتی یا نکاح کرنے سے انکار کردیا، تو شوہر کو حق حاصل ہے کہ اسے واپس لے لے، خواہ وہ مال موجود ہو یا ختم ہوگیا ہو، اس لیے کہ یہ (مال) رشوت ہے ، ’’بزازیہ‘‘ ،(جلد ،ص:520)‘‘۔

اسی طرح لڑکی والوں کا لڑکے سے مہر کے سوا کسی اور شے کا مطالبہ رشوت اور باطل ہے، علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ’’کسی شخص کی بہن کو کسی نے نکاح کا پیغام دیا، بھائی نے انکار کردیاکہ جب تک کچھ روپے نہیں دو گے، رشتہ منظور نہیں، مرد نے وہ رقم دے دی اور نکاح کرلیا، سو مردنےجو رقم دی، وہ اسے واپس لے سکتا ہے، اس لیے کہ یہ رشوت ہے،’’قنیہ‘‘ میں اسی طرح ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد4)

شریعت کا اصل حکم یہ ہے کہ عورت کا ماں یا بیوی یا بیٹی یا بہن کی حیثیت سے وراثت میں جو حق بنتاہو، وہ اُسے دیا جائے، لیکن ہمارے ہاں خواتین کو وراثت کا حق دینے کا شِعار بہت کم ہے اور اُس کی بجائے جہیز کی رسم کو اپنے گلے کا طوق بنالیا ہے اور اس کی وجہ سے رشتے بنتے اور ٹوٹتے ہیں اور بعض لوگوں کو معاشرے میں اپنی عزت برقرار رکھنے یا اپنی بیٹی اور بہن کے لیے سسرال کے گھر میں گنجائش پیدا کرنے کے لیے بعض اوقات قرض لے کر جہیز کا انتظام کرنا پڑتا ہے اور بعض برادریوں اور علاقوں میں اس کی نمائش بھی کی جاتی ہے، جو مالی اعتبار سے کمزور طبقات میں احساسِ محرومی پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔

اقراء سے مزید