• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لاٹھی مارنے سے جو چشمے جاری ہوئے، وہ کہاں ہیں؟

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: سورۂ بقرہ،آیت 60، میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک پتھر پر لاٹھی مارنے اور سے بارہ چشمےجاری ہونے کا ذکر ہے، یہ چشمے آج کل کس علاقے میں ہیں؟

جواب: آپ نے سورۂ بقرہ ، آیت نمبر 60 میں مذکور چشموں سے متعلق سوال کیا ہے، جواب سے پہلے آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو:” اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے، اس پر ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کو) حکم دیا کہ" اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو ، پس فوراً اس سے پھوٹ نکلے بارہ چشمے ( اور بارہ ہی خاندان تھے بنی اسرائیل کے ، چنانچہ) معلوم کرلیا ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع، کھاؤ اور (پینے کو) پیو اللہ تعالیٰ کے رزق سے اور حد (اعتدال) سے مت نکلو فساد (وفتنہ) کرتے ہوئے سرزمین میں۔“ (بیان القرآن)

یہ واقعہ ” وادی تِیہ“ کا ہے، بنی اسرائیل کو وہاں پانی کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانی طلب کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا عصا پتھر پر مار دیجیے، اللہ تعالیٰ کے حکم اور قدرت سے صرف عصا مارنے سے ایک خاص پتھر سے بارہ چشمےنکل پڑے۔

حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’قصص القرآن‘‘ میں ان چشموں کے مقام سے متعلق ’’قصص القرآن‘‘ ( للنّجّار) کے حوالے سے لکھتے ہیں: پانی کے وہ چشمے جن کا ذکر بنی اسرائیل کے واقعات میں آیا ہے، بحر احمر کے مشرقی بیابان میں سوئز کے زیادہ دور نہیں ہیں، اور اب بھی عیونِ موسیٰ علیہ السلام (موسیٰ کے چشمے) کے نام سے مشہور ہیں، ان چشموں کا پانی اب بہت کچھ سوکھ گیا ہے، اور بعض کے تو آثار بھی قریب قریب معدوم ہوگئے ہیں اور کہیں کہیں ان چشموں پر اب کھجور کے باغات نظر آتے ہیں۔“مزید فرماتے ہیں : ”قرآن عزیز کے ذکر کردہ واقعات سے کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عصا مار کر پانی کے حاصل کرنے کا واقعہ صرف ایک ہی مرتبہ پیش نہیں آیا، بلکہ تیہ کے میدان میں مختلف مقامات پر متعدد مرتبہ پیش آیا ہے۔“ (قصص القرآن، سیوہاروی ، 1/ 365، ط: دارالاشاعت)

ان چشموں کے موجودہ جغرفیائی محل وقوع کے بارے میں تاریخی و تفسیری بیانات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ : یہ مقام خلیجِ سوئز (Gulf of Suez) کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور قاہرہ سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب مشرق میں پڑتا ہے، اسے "Oyun Musa") Moses Springs، عيونِ موسیٰ) کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ مقام احمد حمدی ٹنل سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب اور سوئز سے شرم الشیخ جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے، تاریخی و جغرافیائی قرائن کی بناء پر اسے عام طور پر اسی مقام کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے ، جسے تورات میں Elim کہا گیا ہے، جب کہ اسلامی تاریخی روایت میں یہ مقام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چشموں سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم)

اقراء سے مزید