• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: میرے والد محترم تعویذ اور دم دونوں کرتے ہیں، لیکن وہ تعویذ یا دم کرنے کے بدلے لوگوں سے شکرانہ نہیں لیتے، کیا شکرانہ نہ لینے سے ہمارے خاندان پر اس کا کوئی اثر ہوتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ دیگر علاج ومعالجہ کی طرح دم اور تعویذ بھی علاج کی ایک قسم ہے، جائز کلمات پر مشتمل دم اور تعویذ کے ذریعے شرعی احکام کی رعایت کرتے ہوئے علاج کرنا اور اس پر معقول معاوضہ لینا یا نہ لینا دونوں جائز ہے، اگر دم اور تعویذ پر عوض نہ لے تو یہ تبّرع اور احسان ہے، اس عوض نہ لینےکی وجہ سے تعویذ کرنے والے کے خاندان پر اثر ہونا شریعت یا تجربے سے ثابت نہیں ہے، اور اگر اس پر معقول معاوضہ لیا جائے تو یہ بھی منع نہیں ہے، بہرصورت تعویذ کے ذریعے علاج کرنا اور اس پر اجرت لینا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1.ان کا معنی ومفہوم معلوم ہو۔2.ان میں کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو اور نہ ہی جنّات اور شیاطین سےاستعانت مانگی گئی ہو۔3.ان کے مؤثر بالذات ہونےکا اعتقاد نہ ہو۔4.دم/ تعویذ سے علاج کرنے والا اس طریقۂ علاج سے واقف اور ماہر ہو، فریب نہ کرتا ہو۔5.کسی بھی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑے، مثلاً: اجنبیہ عورتوں سے اختلاط و بے پردگی وغیرہ۔

لہٰذا ایسے دم اور تعویذ جو آیاتِ قرآنیہ ، ادعیۂ ماثورہ یا کلماتِ صحیحہ پر مشتمل ہوں انہیں لکھنا، استعمال کرنا اور ان سے علاج کرنا شرعاً درست ہے، اور اس پر معقول معاوضہ لینا بھی جائز ہے، صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ میں سے کچھ لوگ عرب کے ایک قبیلے کے پاس گئے، اس قبیلے والوں نے صحابہؓ کی اس جماعت کی ضیافت و اکرام نہیں کیا، اسی دوران اس قبیلے کے سردار کو کسی موذی جانور نے ڈس لیا، قبیلے والوں نے صحابہ ؓسے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی دوا یا کوئی دم کرنے والا ہے؟

صحابہؓ نے کہا: تم لوگوں نے ہماری ضیافت نہیں کی (جب کہ عرب کے عرف اور اسلامی آداب کے مطابق ضیافت ان مسافروں کا حق تھی) لہٰذا ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے، جب تک تم ہمارے لیے معاوضہ مقرر نہ کرو، چناں چہ قبیلے والوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت کے طور پر طے کیا، صحابہؓ میں سے ایک شخص نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر اپنا تھوک منہ میں جمع کرکے متاثرہ جگہ پر تھتکارا (پھونک کے ساتھ تھوک کے ہلکے سے چھینٹے اس جگہ پھینکے) تو قبیلے کا سردار تندرست ہوگیا۔ 

صحابۂ کرامؓ بکریوں کا وہ ریوڑ اپنے ساتھ لے آئے، اور انہوں نے کہا: جب تک ہم رسول اللہ ﷺ سے پوچھ نہ لیں ہم اسے استعمال نہیں کریں گے، چناں چہ رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے پوچھا، آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: اسے (دم کرنے والے کو) کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورۂ فاتحہ) دم ہے؟ (اور فرمایا:) بکریوں کا ریوڑ لے لو اور (ان کی دل جوئی و اطمینان کے لیے فرمایا) میرا حصہ بھی نکالو! (صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الرقی بفاتحۃ الکتاب 7/ 131، ط: السلطانیۃ بالمطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ ببولاق مصر -فتح الباری، کتاب الطب، باب الرقی، 10/ 195، ط: دارالمعرفۃ)

اور جن تعویذوں میں شرکیہ یا مجہول کلمات یا نامعلوم قسم کے منتر لکھے جائیں یا ا نہیں مؤثرِ حقیقی سمجھا جائے تو ان کا استعمال اور اس پر اجرت لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

اقراء سے مزید