ڈاکٹر نعمان نعیم
سرورِ کونین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ملائے اعلیٰ کی سیر کرانے، عالم آخرت کو دکھانے اور بالمشافہ اپنی زیارت و ملاقات کرانے کے لیے معراج کے اعزاز و اکرام سے مالامال فرمایا۔ معراج کا یہ سفر قرآن مقدس اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے (جس کا جھٹلانا محال اور ناممکن ہے) معراج کا یہ سفر بالتحقیق آپﷺ کو بے داری کے عالم میں بقائم ہوش و حواس جسم اطہر کے ساتھ کرایا گیا۔
رحمۃ للعالمین سیدالمرسلین نبی کریمﷺ سارے نبیوں کے سردار ہیں، ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی معجزہ عطا فرمایا مگر حضوراکرمﷺ کو دو معجزے ایسے عطا فرمائے گئے جو پہلے کسی نبی کو عطانہ ہوئے۔ ایک معجزہ قرآن مجید کا ہے جو آج تک اپنی اصلی حالت میں ہمارے سامنے موجود ہے اور تاقیامت موجود رہے گا۔ دوسرا عظیم معجزہ واقعۂ معراج ہے۔
جب نبی کریمﷺ بے کسی کے عالم میں مظلومانہ دین کی دعوت دے رہے تھے،مکہ مکرمہ میں کفارکے ہاتھوں آپ نے تمام تکلیفیں برداشت کی تھیں، انسانی تصورسے بالاتر مظالم کے پہاڑ آپ پر توڑے گئے تھے۔ غرض تکالیف کی تمام گزرگاہوں سے پار ہوجانے کے بعد سن۱۱؍نبوی میں راجح قول کے مطابق ماہ رجب ۲۷؍ویں شب کو اللہ تعالیٰ نے پیارے محبوبﷺ کو راز ونیاز کے لئے عالمِ بالا اور ملائے اعلیٰ کی طرف بےداری میں اور جسدِ عنصری کے ساتھ اٹھایا اور معراج کروا کر دنیا والوں کو بتا دیا کہ! تم میرے محبوب پیغمبر کا پیغام نہیں سنتے، ان کی عزت اور قدر نہیں کرتے، بلکہ ان کی توہین اور گستاخی کے مرتکب ہوئے ہو، دیکھ لو اب ہم اپنے اس عظیم بندے کی کیا عزت کرتے ہیں اور انہیں کیا مقام دیتے ہیں، کن عظمتوں اور برکتوں سے نوازتے ہیں، تم انہیں زمین پر ٹھکرا رہے ہو، ہم انہیں عرش پربلائیں گے، تم انہیں سلام کرنے کے لئے تیارنہیں، ہم انہیں فرشتوں کی سلامی دلائیں گے، تم انہیں اپنا امام نہیں مان رہے، ہم انہیں نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کا امام بنا کر دکھاتے ہیں۔
دیکھو بیت المقدس کے امام کوجس کے پیچھے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ؑ نماز پڑھ رہے ہیں، وہ مکہ اوراس کے اطراف کے گلی کوچوں میں دین کا پیغام پیدل پہنچا رہے ہیں، ان کے پاس سواری کا کوئی انتظام نہیں ہے، مگر ہم انہیں بجلی سے تیزسواری دے رہے ہیں، روح الامین جس کی رکاب تھامے ہوئے ہیں۔ تم میرے عظیم پیغمبر کو اہمیت نہیں دے رہے، ذرا دیکھو فرشتوں کا سردار ان کی غلامی کررہا ہے،جس کی حیثیت پہچاننے میں تمہاری نظریں خطا کررہی ہیں، میرے نزدیک وہ سب سے معزز ہے، اسے میں اپنا دیدار کرارہا ہوں۔
انبیاء علیہم السلام کے بلند مراتب ملاحظہ کیجئے، حضرت آدم علیہ السلام کی معراج سجودِ ملائک سے ہوئی، حضرت ابراہیم ؑکی معراج آگ کے گل گلزار ہونے میں ہوئی، حضرت نوحؑ کی معراج عالمی طوفان میں ہوئی، حضرت اسماعیل ؑ کی معراج چھری کے نیچے ہوئی، حضرت یحییٰ ؑ کی معراج آرہ سے چیراکر ہوئی، حضرت موسیٰ ؑ کی معراج کوہِ طور پر اللہ سے ہم کلامی میں ہوئی، حضرت عیسیٰؑ کی معراج یہودیوں کے حملہ کے وقت ہوئی، اور ان سب سے بڑھ کر معراج بلکہ معارج کی انتہاء ہمارے آقا و سردار سیدنا محمد مصطفیٰﷺ کو نصیب ہوئی،اور وہ بھی تمام وسائل اورآلاتِ جدیدہ کے بغیراس مقام وبلندیوں تک پہنچے، جہاں سائنس کی رسائی بھی نہیں۔
پھر اس پر بھی غور کیجئے کہ اربوں کھربوں تاروں میں زمین سے قریب ترچاند تھا جس کی دوری دولاکھ اڑتیس ہزار میل بتائی جاتی ہے، اس تک پہنچنے کے لئے ڈرتے ڈرتے کھربوں روپیہ خرچ کیا، سالہا سال تک اعلیٰ ترین دماغوں نے عرق ریزی کی، تب کہیں جاکر انسان چاند پر پہنچ کرکچھ ریت اور پتھرلے آیا، اگر یہ رقم تمام عالم کے محتاجوں میں تقسیم کی جاتی تو شاید دنیا میں کوئی فقیر نہ رہتا۔
دوسری طرف انبیاء علیہم السلام کی بلندیٔ مراتب کا تصور کیجئے، خاتم الانبیاء علیہ السلام کوان اسباب وتدابیر، آلات و وسائل کے بغیرجب چاہا آسمانوں کی سیر کرادی، فضائے بسیط کا سارا فاصلہ چند لمحوں میں طے کرادیا اور آناًفاناً تمام آسمانوں سے اوپر پہنچا دیا، رفعتِ انسانی کی تمام حدیں پست رہ گئیں، اور ملکوتِ الہٰیہ کے وہ عجائبات دکھلا دیئے کہ نسلِ انسانی اسباب کے دائرے میں کروڑوں برس تک تحقیقات اور محنت کرے، مگر ناممکن ہے کہ اس کا لاکھواں حصہ بھی حاصل کرسکے‘‘۔
سرورکونین ﷺ کواللہ نے خود آسمانوں پر بلایا، نبیوں فرشتوں کا امام بنایا، آسمانوں پر فرشتوں سے استقبال کرایا، نبیوں سے ملاقات کرائی، جنت ودوزخ دکھلائی، اعمال نیک وبد پر ملنے والی جزاو سزا دکھائی، ملکوت ارض وسماء دکھائے، عرش دکھایا، کرسی دکھائی اور پھر اپنے دیدار کا شرف عطا کرکے خصوصی ہم کلامی کی دولت عظمیٰ سے نوازا، اہم احکامات عطا فرمائے، نماز ملی اور مشرک کے علاوہ سب کے لئے معافی کاپروانہ ملا۔
کچھ شک نہیں کہ معراج نبی کریم ﷺکے مقامات اعلیٰ میں سے ایک اونچا مقام ہے، لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس واقعے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں بھی اور سورۂ نجم میں بھی ’’عبد‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، رسول اللہ ﷺکی شان عبدیت کوبیان فرمایا ہے، تاکہ مخلوق الہٰی خوب سمجھ لیں اور اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ اس مقدس ہستی کے لئے بھی جس کی شان’’بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ سے آشکارا ہے، سب سے بلند ترین مقام عبودیت ہی کا ہے اور کسی کویہ وہم نہ ہوجائے کہ آپ کی حیثیت عبدیت سے آگے بڑھ گئی، اور آپ کی شان میں کوئی ایسا اعتقاد نہ کرلے کہ مقام عبدیت سے آگے بڑھا کراللہ تعالیٰ کی شانِ الوہیت میں شریک قرارنہ دے دے اور جیسے نصاریٰ حضرت عیسیٰ ؑکی شان میں غلو کرکے گمراہ ہوئے، اس طرح کی کوئی گمراہی امت محمدیہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام میں نہ آجائےاور امت محمدیہ کو بھی اسی مقام عبودیت میں ارتقاء کی ہدایت کی گئی ہے۔
بے شک حضورﷺ کے اس فرمان کہ’’نماز مومن کی معراج ہے‘‘ کے معانی بھی اس نکتے سے حل ہوتے ہیں، کیونکہ اظہارِ عبودیت وبیان عجزوافتقار اور تشکل بندگی کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی صورت نہیں۔
اس مبارک، عظیم اور پُر سعادت سفر سے واپسی پرامام الانبیاءﷺ اپنی امت کے ہر بالغ، عاقل مرد و عورت کے لیے ایک عطیۂ خداوندی بطور تحفہ لے کر آئے، رب العالمین جلّ جلالہ کے اپنے بندوں سے تعلق کی معراج دیکھیے کہ اس عطیے کو عطا فرمانے کے لیے رحمۃ للعالمینﷺ کو ملائے اعلیٰ سے اوپر اپنے پاس بلا کر براہ راست بغیر کسی واسطے کے عطا فرمایا۔ اس عطیۂ خداوندی کا عربی نام الصّلوٰۃ ہے۔
ہماری زبان میں اسے نماز کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا بہترین عمل ہے جسے ہمارے پالنہار نے تفویض فرمایا ہے، جو ہمارے نبیﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، جو فرشتوں کی عبادات کا مجموعہ ہے جو مؤمنین کے لیے یقینی معراج کا درجہ رکھتا ہے جس کی ادائیگی کے دوران اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نمازی کے درمیان حائل تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں، جو تمام اہم امور کے انجام بخیر کا کامل و مکمل ذریعہ ہے، جو ہر قسم کی برائی اور ناپسندیدہ کاموں سے مکمل تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے، رزق کی تنگی ہٹا دیے جانے کی ضمانت ہے، چہرے کی رونق بڑھانے کا نسخہ ہے،دل کی ظلمت و کثافت اور بدن کی بیماریوں کا علاج، اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے، عذاب قبر سے چھٹکارا دلانے، اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں دلوانے، پل صراط پر بجلی کی طرح گزروا دینے، بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخلہ دلوا دینے والا عمل ہے۔
نیز محبیّن کے لیے محبوب کے سامنے محبوبانہ طور پر جھکنے اور اپنے عشق کا اظہار کرنے کے حوالے سے اس سے بہتر تحفہ، اس سے پہلے نہ تھا، نہ ہوسکا ہے، نہ آئندہ اس کا احتمال ہے۔