یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس میں روس اپنے زیرِ قبضہ حصوں کو تیزی سے ایک بڑے فوجی اڈے میں تبدیل کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ ڈونباس کے مقامی باشندوں، یوکرینی حکام اور ماہرین کا مطابق اس عمل کا مقصد یورپ پر دباؤ ڈالنا اور جنگ کو طویل کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین کے قبضہ شدہ علاقوں میں روسی فوج کی بڑی تعداد موجود ہے جس کے باعث غیر قانونی کاروبار فروغ پا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق روس ڈونباس کی معیشت کو مکمل طور پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ڈونباس کی آبادی کم ہو رہی ہے جبکہ پورا خطہ ایک عسکری مرکز میں بدلتا جا رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینکس کے مطابق یہ سب روسی سرزمین کے باہر ایک مستقل جنگی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش ہے۔ روس نے اگرچہ تعمیر نو کے نام پر اربوں روبل جھونکے ہیں مگر شدید بدعنوانی کے باعث منصوبے ناکام ہو رہے ہیں۔ پانی کی شدید قلت ہے اور لوگ بارش اور برف پگھلا کر پینے پر مجبور ہیں۔ ایک بڑی آبی پائپ لائن کے منصوبے میں کرپشن کرنے کے سبب کئی افراد جیل جا چکے ہیں۔
روس نے اپنے مالی دباؤ کے باعث درجنوں روسی علاقوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ڈونباس کے شہروں کی تعمیر نو کی ’سرپرستی‘ کریں جس کے نتیجے میں خود روس کے کئی علاقوں میں بنیادی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونباس آہستہ آہستہ ایک شہری خطے کے بجائے مکمل طور پر فوجی زون میں تبدیل ہو رہا ہے جس کے نتائج خطے اور یورپ دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔