• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرشمہ کپور کے بچوں کا سنگین الزام، سنجے کی دوسری بیوی کیخلاف عدالت سے فوجداری کارروائی کا مطالبہ

--فائل فوٹوز
--فائل فوٹوز

بھارتی معروف کاروباری شخصیت اور اداکارہ کرشمہ کپور کے سابق آنجہانی شوہر سنجے کپور کی وصیت کا معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔

اداکارہ کرشمہ کپور کے بچوں سمائرا اور کیان کپور اپنے والد کی تیسری اہلیہ پریا کپور پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے عدالت سے اِن کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

سمائرا اور کیان نے دہلی ہائی کورٹ میں پریا کے خلاف فوجداری کارروائی کی درخواست جمع کروائی ہے، اس مطالبے کے بعد معاملہ دیوانی مقدمے سے نکل کر فوجداری کیس بن سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کرشمہ اور سنجے کے بچوں کا الزام ہے کہ پریا کپور نے ایک جعلی وصیت تیار کی ہے جس میں اِنہیں وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر پریا سچدیو پر لگے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اِنہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سنجے اور کرشمہ کے بچوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جس دن وصیت پر دستخط دکھائے گئے، اس دن نہ سنجے کپور اور نہ ہی پریا کپور گروگرام میں موجود تھے بلکہ دہلی میں تھے۔

اسی دوران کرشمہ کپور واٹس ایپ پر سنجے کپور سے بچوں کی پرتگالی شہریت کے معاملے پر رابطے میں تھیں۔

پریا کپور کے مطابق وصیت 10 فروری 2025ء کو تیار ہوئی، 17 مارچ کو اس میں ترمیم کی گئی اور 21 مارچ کو گروگرام کے دفتر میں دو گواہوں کی موجودگی میں دستخط کیے گئے تاہم بچوں کا کہنا ہے کہ 17 مارچ کو سنجے کپور اپنے بیٹے کیان کے ساتھ گوا میں تھے اور بعد میں اپنی والدہ کی عیادت کے لیے دہلی گئے، اس لیے ترمیم کی تاریخ مشکوک ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وصیت کے گواہوں کے بیانات میں بھی یہ واضح نہیں کہ دستخط گروگرام میں ہوئے یا گوا میں۔ 

سنجے کپور کے بچوں کا دعویٰ ہے کہ یہ وصیت واضح طور پر جعلی ہے۔ اُنہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ پریا کپور، سنجے کپور اور دونوں گواہوں کے موبائل فون ضبط کر کے ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جائے۔

کیان اور سمائرا نے ڈیجیٹل ریکارڈ پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ بچوں کے مطابق وصیت کا پہلا ڈیجیٹل ثبوت ایک گواہ کے موبائل کی اسکرین شاٹس پر مشتمل ہے جبکہ سنجے کپور کی طرف سے کسی بھی چیٹ یا پیغام کا کوئی جواب موجود نہیں۔

عدالت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وصیت کسی وکیل نے نہیں بلکہ خود ایک گواہ نے تیار کی۔ وصیت میں املا اور گرامر کی غلطیاں بھی پائی گئی ہیں جن کے بارے میں بچوں کا کہنا ہے کہ ان کے والد جیسا تعلیم یافتہ شخص ایسی غلطیاں نہیں کر سکتا تھا۔

واضح رہے کہ یہ کیس تاحال زیرِ سماعت ہے جس پر آئند دہ عدالتی کارروائی  20 جنوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ گگن دیپ سنگھ کے سامنے ہوگی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید