• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ گل پلازا: شوبز شخصیات غم و غصے میں مبتلا، حکومت پر تنقید

فائل فوٹوز
فائل فوٹوز

کراچی کے معروف تجارتی مرکز گل پلازا سانحے پر پاکستانی شوبز انڈسٹری اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

اداکارہ ہانیہ عامر، ماہرہ خان، منال خان، نادیہ حسین، مشی خان اور خالد انعم سمیت کئی فنکاروں نے انسٹاگرام اسٹوریز کے ذریعے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔

اداکارہ و میزبان ندا یاسر نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ اکثر اپنے شو کے لیے گل پلازا سے سامان خریدا کرتی تھیں، انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید رنج کا اظہار کیا۔

اداکارہ مشی خان نے جائے حادثہ کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد ایک جذباتی پیغام میں روتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ صرف ایک عمارت کا نقصان نہیں بلکہ بے شمار خاندانوں کی زندگی اجڑنے کا سبب بنا ہے، انہوں نے اعلیٰ حکام کی غفلت کو آڑے ہاتھوں لیا اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

سابقہ صحافی و اینکر ریحام خان نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ صرف گل پلازا نہیں جلا، بلکہ کراچی برسوں سے جل رہا ہے، جب سے یہ حکومت آئی ہے، شہر مسلسل لاوارث ہے۔

اداکارہ امبر خان اور سینئر اداکار و ہدایتکار احتشام الدین نے بھی ویڈیوز کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ماہرہ خان نے اپنی پوسٹ میں غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز دیکھ کر مجھے غصہ آرہا ہے، کیا یہ صرف حادثہ تھا؟ میں گل پلازا جاچکی ہوں وہاں عام دنوں میں باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے، کیوں باہر نکلنے کا راستہ بہت پیچیدہ ہے، حادثے میں ہونے والی اموات کا خمیازہ کیسے پورا کیا جائے گا؟

نادیہ حسین نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ آخر کب تک انسانی جانیں حکومتی غفلت کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی؟

اداکارہ سحر خان نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ گل پلازا کی خبر نے مجھے  ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ لوگ حقیقی انسان تھے جنہوں نے اپنی ساری جمع پونجی کاروبار میں لگائی تھی، کچھ نے عید کے لیے قرض بھی لیا تھا۔

انہوں نے حکومتِ سندھ سے فوری مداخلت اور متاثرین کو منصفانہ معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا اور ریسکیو 1122 کے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اداکارہ منال خان نے ایک تفصیلی پوسٹ میں لکھا کہ کراچی ایک عجیب یتیم شہر ہے، سب اس کے نگہبان ہیں مگر کوئی ذمہ دار نہیں، گل پلازا صرف ایک عمارت نہیں تھا، یہ ہر کراچی والے کی یادوں کا حصہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سانحہ معاشرتی بے حسی اور حفاظتی نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی واقعے کو محض حادثہ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غفلت، لاپرواہی اور خاموشی کا نتیجہ ہے، متاثرین کو صرف تعزیت نہیں بلکہ جوابدہی چاہیے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید