ڈنمارک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکی کے بعد اپنے خود مختار علاقے گرین لینڈ میں مزید فوجی بھیج دیے ہیں۔
ڈنمارک کے میڈیا کے مطابق رائل ڈینش آرمی کے سربراہ پیٹر بوئسن سمیت 58 فوجی مغربی گرین لینڈ کے شہر کانگرلوسواک پہنچے ہیں جہاں پہلے سے تقریباً 60 فوجی موجود ہیں۔
یہ دستے کثیر القومی فوجی مشقوں ’آپریشن آرکٹک اینڈیورنس ‘ ( Operation Arctic Endurance) میں حصہ لے رہے ہیں۔
ڈنمارک کے فوجیوں کی یہ تعیناتی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں گرین لینڈ پر فوجی طاقت کے استعمال کے امکان کو رد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال یہ علاقہ امریکا کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ڈنمارک نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے تاہم اس نے وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ادھر یورپی یونین نے امریکا کی جانب سے ممکنہ ٹیرف اور دباؤ کے جواب میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لائن نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی خود مختاری کے احترام پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 85 فیصد گرین لینڈ کے عوام امریکا میں شامل ہونے کے حق میں نہیں ہیں جبکہ صرف 6 فیصد نے امریکا میں ضم ہونے کی حمایت کی ہے۔