کچھ دن پہلے رات کو ایک کھانے سے واپس آ رہا تھا کہ گاڑی چلاتے ہوئے اچانک سامنے سڑک پر ایک بچہ لیٹا ہوا نظر آیا، فوراً بریک نہ لگاتا تو شاید وہ نیچے ہی آ جاتا۔ اتر کر دیکھا تو آٹھ دس سال کا بچہ تھا جس نے شدید سردی میں ایک میلی سی جیکٹ پہنی ہوئی تھی، اسے زبردستی سڑک سے اٹھا کر کھڑا کیا، وہ مسلسل روئے جا رہا تھا، ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان بھی رک گئے، باقی کسی نے رکنے کی زحمت نہیں کی۔ اُس بچے کو بہت پوچھا کہ کیا ہوا، کہاں جانا ہے، یہاں کون چھوڑ گیا، مگر اُس نے کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنی گاڑی سڑک سے ہٹا کر پرے کی اور ون فائیو کو فون ملا کر ساری صورتحال بتائی، پولیس والوں نے کہا کہ وہ موقع پر پہنچ رہے ہیں۔ فون بند کرکے بچے کی طرف دیکھا تو وہ سڑک پار کرکے کسی کے ساتھ جا چکا تھا۔ چند منٹ بعد پولیس بھی پہنچ گئی، انہوں نے بتایا کہ یہ پورا گروہ ہے جو بچوں سے بھیک منگواتا ہے۔ دوسرا واقعہ بھی سن لیں۔ ہم ایک کھوکھے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے، ہمارے سامنے والی میز پر ایک لڑکا اور لڑکی تھے جن کے ساتھ ایک غریب سی عورت تھی جس کی گود میں بچی تھا جو بمشکل ایک سال کی ہوگی، بچی کی آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ عورت وہاں سے اٹھ گئی، جاتے ہوئے انہوں نے اسے دودھ کا ڈبہ اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں دیں۔ ہم نے بھی اسے روک لیا، پوچھا کہ اُس کا خاوند کیا کرتا ہے، پتا چلا کہ وہ گزشتہ ایک برس سے فالج کا شکار ہے۔ ہم نے بھی اسے کچھ پیسے دے دیے، بچی کی آنکھوں کی چمک مجھے اب بھی یاد ہے۔
غربت اور افلاس کی یہ داستانیں چپے چپے پر بکھری ہوئی ہیں۔ جن بچوں سے بھیک منگوائی جاتی ہے وہ بہرحال معصوم بچے ہیں، اُن کا اِس میں کوئی قصور نہیں کہ وہ کسی گروہ کے ہتھے چڑھ گئے یا ’غلط‘ ماں باپ کے گھر میں پیدا ہو گئے۔ جس اندھا دھند طریقے سے ہم نے آبادی بڑھائی ہے اُس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ گھر میں اناج منگوانے کے پیسے نہیں اور بیوی تیسری مرتبہ حاملہ ہے، پوچھو تو جواب ملتا ہے کہ شاید نیا آنے والا ہمارے نصیب بدل دے۔ لیکن غریبوں کو کیوں موردِ الزام ٹھہرائیں، مجرم تو وہ ہیں جو اپنی دولت سے غریبوں کے لیے حصہ نہیں نکالتے اور اگر ٹیکس کی صورت میں نکالتے بھی ہیں تو وہی ٹیکس واپس انہی دولت مندوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔ کچھ ایسے مخیر حضرات بھی ہیں جو پبلک ریلیشننگ کے ماہر ہیں، وہ آمدن پر ٹیکس نہیں دیتے لیکن اپنے دستر خوانوں اور نام نہاد فلاحی منصوبوں کی مشہوری پر دل کھول کر خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اُن کی ’دردمندی‘ کا علم ہو سکے۔ جو خرچہ وہ اپنے فلاحی منصوبوں پر کرتے ہیں، وہ اُس کا عشرِعشیر بھی نہیں جو انہیں ٹیکس کی صورت میں ادا کرنا پڑتا، ظاہر ہے کہ یہ گھاٹے کا سودا وہ کیوں کریں؟ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں دردمند دل رکھنے والے لوگوں کی کمی ہے، کچھ لوگ ایسا ایسا کام کر رہے ہیں کہ بندہ سوچتا ہےکہ میں یہ کیوں نہ کر سکا! مثلاً لاہور میں Active Research Collective (آرک) نامی ایک ادارہ ہے جو ڈاکٹر نوشین زیدی چلا رہی ہیں، ڈاکٹر نوشین مالیکیولر بائیولوجسٹ ہیں، حال ہی میں انہیں جارج فوسٹر ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، یہ عالمی اعزاز سال میں صرف دو لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نوشین کافی عرصے سے لاہور میں تحقیق کر رہی ہیں اور اُن کی تحقیق کے مطابق لاہور جیسے شہر کے صنعتی علاقوں میں پینے کے پانی میں ایسے جراثیم (Coliforms) پائے گئے ہیں جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ غریب بستیوں میں 60 فیصد سے زائد گھرانے یہ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، یہ محض آلودگی نہیں، بلکہ بیماریوں کا وہ ریلہ ہے جو ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور جلد کی بیماریوں کی صورت میں ان بستیوں پر شب خون مارتا ہے۔ لاہور کا ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں لوہے کی بھٹیوں اور صنعتی فضلے نے مٹی اور پانی میں سیسے کی مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، یہاں کے 93 فیصد بچے خون کی کمی کا شکار ہیں۔ڈاکٹر نوشین کا کارنامہ یہ نہیں کہ وہ صرف تحقیق کرکے بیٹھ گئیں بلکہ اِن نامساعد حالات میں انہوں نے رضاکاروں اور ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے اِن بچوں کی زندگیوں میں عملی تبدیلی لانے کا تہیہ کیا ہے۔ اِس وقت وہ غذائی کمی کا شکار دو سو بچوں کو متوازن غذا اور صاف پانی مہیا کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ اِس پروگرام کے تحت ہفتے کے پانچ دن اِن بچوں کو پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور متوازن کھانا فراہم کیا جاتا ہے، اسکول کی سطح پر فلٹریشن اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ بچے بیماریوں سے بچ سکیں اور بچوں کے خون کے باقاعدگی سے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر نوشین یہ کام اکیلے نہیں کر سکتیں، انہیں اِن بچوں کے کھانے پینے کا مستقل بندوست کرنے کیلئے عطیات کی ضرورت ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے ماں باپ نے دن رات کارخانوں کی بھٹیوں میں جل کر ہمارے لیے آرام و آسائش کا سامان پیدا کیا لیکن بدلے میں ان کے اپنے بچوں کو زہریلا پانی اور فاقے ملے۔ یہ جو ہم آئے روز واویلا کرتے ہیں کہ ملک میں ٹیلنٹ تو بہت ہے مگر نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے تو وہ ٹیلنٹ اسی قسم کی بھٹیوں میں جل کر خاکستر ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر نوشین کا ادارہ اِس وقت تیس بچوں کے کھانے کے اخراجات پورے کر رہا ہے لیکن ابھی مزید 170 بچوں کو اس چھتری تلے لانے کیلئے 6120000روپے کی ضرورت ہے۔ ایک بچے کے چھ ماہ کے کھانے کا خرچ صرف 36000روپے ہے، اتنے روپے تو آج کل ہم ایک بوفے ڈنر پر اڑا دیتے ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ حج اور عمرے پر پیسے خرچ کرنے کی بجائے غریبوں پر خرچ کریں (حالانکہ ایک سے زائد حج یا عمرے والے پیسے اگر غریبوں پر لگا دیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے) البتہ آج کل جس قسم کی شادیاں ہو رہی ہیں اُنکے خرچے کا اگر ایک فیصد بھی براہ راست غریب بچوں کے کھانے پر خرچ کر دیا جائے تو کوئی بھوکا نہ سوئے۔ اگر آپ اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہتے ہیں یا مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو براہِ کرم ARC کی ٹیم سے رابطہ کریں۔ ای میل: [nosheen.mmg@pu.edu.pk]۔ واٹس ایپ0336-2824775
کالم کی دُم: انگریز نے ایک ترکیب ایجاد کر رکھی ہے جسے Full Disclosure کہا جاتا ہے یعنی کامل انکشاف۔ سو، اِس کے تحت میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر نوشین زیدی پنجاب یونیورسٹی میں استاد ہیں اور میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر علی عثمان قاسمی کی اہلیہ ہیں۔