• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی سیاست بعض اوقات ایسے نازک موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں ایک بظاہر معمولی سفارتی اقدام درحقیقت آنے والے برسوں کی سمت متعین کر دیتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترک صدر رجب طیب ایردوان کوغزہ امن بورڈ کے بانی رکن ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو اس بورڈ میں شامل کرنے کی دعوت (دیگر کن اسلامی ممالک کے رہنماؤں کی یہ دعوت ارسال کی گئی ہےتا دم تحریر کوئی اطلاعات نہیں ہیں ) بھی اسی نوعیت کا ایک فیصلہ ہے، جس کے اثرات محض امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمِ اسلام اور فلسطینی کاز تک پھیلے ہوئے ہیں۔یہ دعوت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ عالمی ضمیر کے لیے ایک مستقل سوال بن چکا ہے۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب طاقت، اخلاق اور مفاد کے باہمی تصادم میں کہیں گم ہو گیا ہے۔ غزہ گزشتہ کئی دہائیوں سے محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا بلکہ یہ ظلم، محاصرے، مزاحمت اور عالمی بے حسی کی علامت بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، انسانی حقوق کی رپورٹس اور عالمی اداروں کے بیانات اپنی جگہ، لیکن غزہ کا عام شہری آج بھی عدم تحفظ، غربت اور غیر یقینی مستقبل کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ اسی پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور اس کے تحت غزہ امن بورڈ کے قیام کو ایک نئی امید کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں تعمیرِ نو، عبوری انتظامیہ، سلامتی اور خطےکو ملیشیا سے پاک موضوع شامل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ترک صدر ایردوان ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو شامل کرنے کی دعوت دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک اخلاقی اور سیاسی وزن حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس میں ترکیہ، مصر اور پاکستان جیسے مؤثر اور فلسطین نواز ممالک کو شامل نہ کرلیا جائے۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ شمولیت عملی ہوگی یا محض علامتی؟ کیا صدر ایردوان ، صدر السیسی اور وزیراعظم شہباز شریف کو فیصلوں میں حقیقی اختیار دیا جائے گا یا انہیں ایک اخلاقی پردے کے طور پر استعمال کیا جائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو اس پورے امن بورڈ کے مستقبل اور ساکھ کا تعین کرے گا۔ گزشتہ برسوں میں درجنوں اسلامی ممالک نے غزہ میں ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار ضرور کیا، مگر عملی اقدامات، مؤثر سفارتی دباؤ یا اجتماعی حکمتِ عملی کا فقدان واضح رہا۔اسی پس منظر میں غزہ امن بورڈ میں ترک صدر ایردوان( بانی رکن ) ، مصر کے صدر السیسی اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو دی گئی دعوت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے ۔ یہ دعوت دراصل اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ اگر غزہ کے مستقبل کے بارے میں کوئی منصوبہ عالمِ اسلام میں اخلاقی وزن حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس میں ترکیہ، مصر اور پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اگر صدر ایردوان، صدر السیسی اور وزیراعظم شہباز شریف اس بورڈ کا حصہ بنتے ہیں تو فلسطینی عوام کی توقعات غیر معمولی حد تک بڑھ جائیں گی۔ ان کی شمولیت کو محض علامتی نہیں بلکہ ایک ضمانت سمجھا جائے گا کہ غزہ کا مستقبل کسی خفیہ سمجھوتے، یکطرفہ سیکورٹی فارمولے یا اسرائیل نواز انتظام کے تحت طے نہیں ہوگا۔ یہ توقعات صدر ایردوان، صدر السیسی اور وزیراعظم شہباز شریف کیلئے اخلاقی سرمائے کیساتھ ساتھ ایک بھاری ذمہ داری بھی بن جائیں گی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غزہ امن بورڈ کا مجوزہ ڈھانچہ، جس میں غزہ کو غیر عسکری حیثیت دینا ، حماس کو غیر مسلح کر نا اور بین الاقوامی نگرانی جیسے نکات شامل ہیں، پاکستان ، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک کے مؤقف سے کئی حوالوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔ یہ تینوں ممالک ہمیشہ اس بات پر زور دیتے چلے آرہے ہیں کہ فلسطینی مزاحمت کو محض سیکورٹی مسئلہ بنا کر ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے سیاسی، تاریخی اور انسانی پہلوؤں کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ آیا یہ رہنما اس بورڈ کے اندر رہتے ہوئے اپنے اس بیانیے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں گے یا نہیں۔اگر یہ تینوں ممالک اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو بلاشبہ وہ غزہ کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے فیصلوں میں مرکزی حیثیت اختیار کر جائیں گے۔ ان کی موجودگی اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ غزہ کی تعمیر نو محض انفراسٹرکچر تک محدود نہ رہے بلکہ انسانی وقار، سیاسی خودمختاری اور اجتماعی شناخت کے عناصر بھی اس عمل کا حصہ بنیں۔ تاہم اس قبولیت کے ساتھ یہ خطرہ بھی جڑا ہوا ہے کہ کہیں انہیں ایک ایسے ڈھانچے کا حصہ نہ بنا دیا جائے جس کے بنیادی خدوخال پہلے ہی طے ہو چکے ہوں۔یہ خدشہ اسلئے بھی تقویت پا رہا ہے کہ اس امن بورڈ کے سربراہ خود امریکی صدر ہونگے، اور اس کے بیشتر کلیدی ارکان جن میں مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، ٹونی بلیئر ، جیرڈ کشنر اور اجے بانگا شامل ہیں، کا جھکاؤ امریکی و اسرائیلی مفادات کی طرف رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان، ترکیہ اور مصر کی آواز کتنی مؤثر ہوگی، اور اختلاف کی صورت میں انکے پاس کون سا عملی اختیار ہوگا؟۔ یہ سوال ابھی جواب طلب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تینوں ممالک باہمی مشورےسے اس دعوت کو مشروط طور پر قبول کریں، ایسی شرائط کیساتھ جو فلسطینی خودمختاری، انسانی حقوق اور سیاسی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ یہ راستہ سب سے زیادہ مشکل، مگر شاید سب سے زیادہ بامعنی بھی ہوگا۔ اس صورت میں وہ نہ صرف امن بورڈ کے اندر رہ کر اثر انداز ہو سکیں گے بلکہ اگر منصوبہ اپنے اصل مقصد سے ہٹے تو کھل کر اختلاف کا حق بھی محفوظ رکھ سکیں گے اور علیحدگی بھی اختیار کرسکیں گے۔

تازہ ترین