• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: ’’گزارش ہے کہ ایک امام صاحب پر ایک مفتی صاحب نے اعتراض کیا کہ وہ داڑھی کو کالا خضاب لگاتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے، وہ مزید کہتے ہیں: ’’یہ سب کو نماز پڑھائیں، مگر جب تک یہ توبہ نہ کرلیں، میں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا‘‘، جبکہ امام صاحب کا کہنا ہے کہ وہ ہلکا براؤن خضاب لگاتے ہیں، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے، کیا امام صاحب پر عَلانیہ توبہ لازمی ہے؟ ( علامہ مدثر حسین، امریکا)

جواب: بالوں کو رنگنا مستحب ہے، حدیث پاک میں ہے: (۱)ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہود اور نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے، سو تم اُن کی مخالفت کرو،(صحیح بخاری :5899)‘‘۔

(۲)ترجمہ:’’ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جن چیزوں سے سفید بالوں کو مُتغیّر کیا جاتا ہے، ان میں سب سے اچھی چیز مہندی اور کُتم ہے، (سُنن ترمذی:1753)‘‘۔ کُتم ایک قسم کی گھاس، جس سے سیاہ رنگ نکلتا ہے، یعنی سرخ اور سیاہ کا آمیزہ جس کو عنابی رنگ یاگرے براؤن رنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

(۳)ترجمہ: ’’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا، جس نے مہندی سے بالوں کو رنگا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے، پھر ایک شخص مہندی اور کتم سے بالوں کو رنگے ہوئے گزرا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس سے بھی اچھا ہے ،پھر ایک شخص زرد رنگ سے بالوں کو رنگے ہوئے گزرا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ سب سے اچھا ہے، ( سُنن ابو داؤد:4211)‘‘۔

سیاہ خضاب کی ممانعت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’ آخرزمانہ میں ایک قوم کبوتر کے پوٹوں کی طرح سیاہ بالوں کے ساتھ اپنے بالوں کو رنگے گی، وہ (میدانِ محشرمیں) جنت کی خوشبو نہیں پائیں گے ،( سُنن ابوداؤد:4212)‘‘۔

(۲) ترجمہ:’’ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کوپیش کیا گیا، اُن کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ( سفید پھولوں) کی طرح سفید تھے، نبی ﷺ نے فرمایا: ان(سفیدی) کو کسی چیز سے تبدیل کرو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو، (صحیح مسلم: 2102)‘‘۔

امام شافعیؒ کے نزدیک سیاہ خضاب مکروہ تحریمی ہے ، امام مالکؒ کے نزدیک خلافِ اَولیٰ ہے، امام احمد کے نزدیک مکروہ ہے، فقہائے اَحناف میں اکثر کے نزدیک مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک بلاکراہت جائز ہے۔ سیاہ خضاب کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے وعید فرمائی ہے، اس لیے صحیح یہی ہے کہ حالتِ جنگ کے علاوہ سیاہ خضاب لگانا مکروہ تحریمی ہے، تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے : ترجمہ:’’ حالتِ جنگ کے علاوہ بھی مرد کے لیے اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو رنگنا مستحب ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے بالوں کو نہیں رنگا (کیونکہ آپ ﷺ کو رنگنے کی ضرورت نہیں پیش آئی) اور سیاہ رنگ سے رنگنا مکروہ ہے اور ایک قول میں مکروہ نہیں ہے ‘‘۔

اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اس لیے کہ جس وقت آپ ﷺ کی وفات ہوئی، آپ کے سر اور داڑھی مبارک میں بیس بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے بلکہ صحیح بخاری وغیرہ میں ہے: جس وقت آپ ﷺ کی وفات ہوئی ، اُس وقت آپ کے سر اور داڑھی کے کل سترہ بال سفید ہوئے تھے‘‘۔۔ آگے چل لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ذخیرہ ‘‘ میں ہے: حالتِ جنگ کے علاوہ سیاہ خضاب لگانا مکروہ ہے، پس جنگ میں سیاہ خضاب لگانا بالاتفاق مستحسن ہے تاکہ دشمن پر رُعب طاری ہو اوراگر اپنے آپ کو ازواج کے لیے مُزیّن کرنے کی غرض سے ہے، تو مکروہ ہے، عام مشایخ کا یہی مختار ہے اور بعض نے اس کو بلاکراہت جائز کہاہے، امام ابو یوسفؒ سے منقول ہے کہ جس طرح مجھے بیوی کی زینت اچھی لگتی ہے، اُسی طرح بیوی کو بھی میری زینت اچھی لگتی ہے، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار، جلد6،ص:422)‘‘۔

امام ابو یوسف ؒ کے قول کا مستفاد یہ ہے کہ بیوی کی دلداری کے لیے بالوں کو رنگنے کی گنجائش ہے۔ جہاں تک حالتِ جنگ کے استثناء کا مسئلہ ہے، تو آج کل جنگیں ماضی سے مختلف ہیں، یہ ہائی ٹیک اور جدید اسلحے کا دور ہے، آمنے سامنے کی شخصی اور میدانی جنگ کا دور نہیں ہے کہ شخصی وجاہت اور رُعب سے دشمن پر ہیبت طاری ہوجائے۔

مذکورہ امام صاحب کے یہ وضاحت کرنے کے بعد کہ وہ ہلکا براؤن رنگ استعمال کرتے ہیں، ان کی بات پر اعتماد کیاجاسکتا ہے، بازار میں دستیاب رنگوں میں کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں، بعض ہربل بھی ہوتے ہیں، ان کے استعمال کا طریقہ اور لگائے رکھنے کا دورانیہ لکھا ہوتا ہے، عموماً زیادہ وقت تک خضاب لگائے رہنے سے رنگ گہرا یا پختہ ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں کے سر اور داڑھی میں سفید بال کم اور کالے بال زیادہ اور گھنے ہوتے ہیں، اس وجہ سے کالا رنگ غالب نظرآتاہے ، پس ہلکا براؤن رنگ استعمال کرنا چاہیے اور اسے جلد دھونا چاہیے ،تاکہ رنگ پختہ نہ ہو۔

بہر صورت امام صاحب کی وضاحت کے بعد اعتراض کرنا درست نہیں ہے، اُن کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہوگی۔ ہمیں امام صاحب کی جو تصویر بھیجی گئی ہے، اس میں براؤن رنگ کا تاثر آتا ہے، اگرچہ بالوں کی غالب اکثریت سیاہ ہونے کی وجہ سے سیاہی کا غلبہ نظر آتا ہے۔

قرائن وشواہد قطعیہ کے بغیر علماء کو ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی سے اجتناب کرنا چاہیے، اس طرح عوام بھی علماء کی اہانت پر جری ہوں گے ۔ امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ’’ اہلسنّت سے بتقدیرِ الٰہی جوایسی لغزش ِ فاحش واقع ہو، اُس کا اِخفاء(چھپانا)واجب ہے کہ معاذاللہ ! لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے، تو جو نفع اُن کی تقریر اور تحریر سے اسلام وسنّت کو پہنچتا تھا، اُس میں خلل واقع ہوگا، اُس کی اشاعتِ اشاعتِ فاحشہ ہے اور اشاعتِ فاحشہ بنصِّ قرآن عظیم حرام، ( فتاویٰ رضویہ، جلد29،ص:594)‘‘۔مزید لکھتے ہیں: ’’عالم کی خطا گیری اور اس پر اعتراض حرام ہے اور اس کے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور استفادۂ مسائل چھوڑدینا اس کے حق میں زہر ہے، اُس کا کیا نقصان، ( فتاویٰ رضویہ ،جلد23،ص:711) ‘‘۔

داڑھی کو سیاہ رنگ کرنا اعتقادی مسئلہ نہیں ہے کہ اس پر عوام کے سامنے عَلانیہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے، یہ عملی مسئلہ ہے۔ مزید یہ کہ اگر توبہ کی معنویت یعنی رجوع پایاجائے توکافی ہے، امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری محدثِ بریلی رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے: ’’ (حقیقت توبہ کے لیے) لفظ توبہ نہ ضروری، نہ کافی،(فتاویٰ رضویہ، جلد13،ص:429)‘‘۔ یعنی اگر توبہ کی معنویت نہ پائی جائے تو محض زبان سے توبہ کہہ دینا کافی نہیں ہے اور معنویت پائی جائے تو لفظ توبہ کہنا ضروری نہیں ہے۔( واللہ اعلم بالصواب)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید