چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ گزشتہ سال 4 اعشاریہ 9 ملین افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے جبکہ اس سال 5 اعشاریہ 9 ملین ٹیکس ریٹرن جمع ہوئیں۔
الحمرا ہال میں تھنک فیسٹ کے دوسرے روز ٹیکس کے حوالے سے نشست ہوئی، جس میں مفتاح اسماعیل اور راشد محمود لنگڑیال نے شرکت کی۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس سال ٹیکس ریٹرن میں 20 فیصد اضافہ ہوا، تنخواہ دار پر ٹیکس ریٹ زیادہ ہے، ریجنل ممالک سے موازنہ کریں تو ہمارا ریٹ زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار اپنی آمدن چھپا نہیں سکتا، 15 سال پہلے ٹیکس ریٹ کم تھا، تب بھی لوگ کم ٹیکس دیتے تھے۔
راشد محمود لنگڑیال نے مزید کہا کہ 500 ارب وفاقی حکومت کا خرچہ ہے، کمپلائنس ریٹ بڑھانا پڑے گا، آپ نے سپر ٹیکس کی بحث پچھلے سال سے سنی، یہ کئی سال سے تھا، عملدرآمد ہوا تو اس پر شور مچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں ایک فیصد ٹیکس ایڈوانس ہے، اصل مسئلہ ہے کہ ٹیکس رجیم ہائی ہے، ایکسپورٹ بڑھانا انتہائی ضروری ہے، ایکسپورٹ لیڈ اکانومی کے بنا ہم نہیں چل سکتے۔
چیئرمین ایف بی آر نے یہ بھی کہا کہ یہاں ہمیشہ بات ہوئی کہ بجلی گیس کی قیمت کم کریں، ہم نے طاقت ور شوگر ملوں، سیمنٹ سیکٹر پر مانیٹرنگ کی اور ٹیکس بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ملز کے پاس گئے، انہوں نے کہا کیمرے نہیں لگوانے، جو جتنا طاقتور ہے وہ کیمرے نہیں لگوانا چاہتا۔ جس سیکٹر سے کہیں ٹھیک ہوجائیں وہ کہتے ہیں دوسرے کو کریں، خود کوئی ٹھیک نہیں کرنا چاہتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں سیلز ٹیکس آن گڈز برابر ہے، بھارت میں اس مد میں 5 یا 6 فیصدجی ڈی پی اکٹھا ہوتا ہے، پاکستان میں اس مد میں 3 فیصد ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ ایف بی آر میں 17 ہزار افراد کام کرتے ہیں، محکمے میں ٹیکنالوجی لارہے ہیں، ایک سال میں بہت اصلاحات کیں، ایف بی آر میں سفارش کو جرم قرار دیا، ہم نے ملازمین کے خلاف کارروائی کی، کرپشن پر گرفتار کیا۔