ڈونکاسٹر شفلڈ ایئرپورٹ کے دوبارہ کھلنے کے بعد فضائی سفر میں ایک نئی اور انقلابی سہولت متعارف کرانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کے تحت 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والے جدید برقی طیارے، جنہیں ’’اسکائی ٹیکسیز‘‘ کہا جا رہا ہے، ایئرپورٹ سے پرواز کر سکیں گے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق یہ جدید الیکٹرک طیارے ہلکے وزن کے ہوں گے اور ایک وقت میں تقریباً پانچ مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایئرپورٹ کی مجوزہ ترقیاتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد ڈونکاسٹر کو جدید اور ماحول دوست فضائی ٹرانسپورٹ کے مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔
یہ طیارے EVTOL کہلاتے ہیں، جس کا مطلب الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ ہے۔ ان میں پر اور پروپیلر دونوں موجود ہوتے ہیں، جس کی بدولت یہ ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی انداز میں اڑان بھر سکتے ہیں اور ہوائی جہاز کی طرح طویل فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کی فضائی ٹرانسپورٹ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈونکاسٹر شفلڈ ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر کرسچین فوسٹر نے بتایا کہ ایئرپورٹ انتظامیہ اس منصوبے کے لیے متعدد فراہم کنندگان سے بات چیت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کچھ ’’منفرد اور مختلف‘‘ کرنے کا خواہاں ہے تاکہ مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں اور خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
واضح رہے کہ ڈونکاسٹر شفلڈ ایئرپورٹ کو 2022 میں اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب سابق آپریٹر پیل گروپ نے اعلان کیا تھا کہ ایئرپورٹ کو چلانا مالی طور پر مزید ممکن نہیں رہا۔ تاہم اب اسے 2028 میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف فضائی سفر تیز اور ماحول دوست ہو گا بلکہ ڈونکاسٹر کو برطانیہ میں جدید ہوابازی کے میدان میں نمایاں مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔