یہ کہانی اشفاق احمد کے ایک ڈرامے میں سنی تھی، بعد میں پتا چلا کہ دراصل یہ تاؤازم سے منسوب ایک کہاوت ہے۔ تاؤازم چینی فلسفہ ہے جو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتاہے، بنیادی نظریہ اِس فلسفے کا یہ ہے کہ زندگی کی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اسے سادہ انداز میں گزارا جائے۔ پہلے کہانی سُن لیں، تبصرہ بعد میں۔ کسی دور دراز گاؤں میں ایک دانا بزرگ رہتے تھے جنہیں سب عزت سے ’بابا جی‘ کہتے تھے، اُنکے پاس ایک بہت ہی اعلیٰ نسل کا گھوڑا تھا جو پورے علاقے میں مشہور تھا۔ ایک دن وہ گھوڑا اصطبل کی دیوار پھاند کر جنگل کی طرف بھاگ گیا، جب گاؤں والوں کو خبر ملی تو وہ بابا جی کے پاس افسوس کرنے آئے اور کہنے لگے کہ کتنا بڑا نقصان ہو گیا اور اتنا قیمتی جانور ہاتھ سے نکل گیا، یہ تو بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ بابا جی نے اطمینان سے حقہ پیتے ہوئے جواب دیا: ”تمہیں کیسے معلوم کہ یہ بدقسمتی ہے؟
بس یہ ایک واقعہ ہے جو ہو گیا۔“ گاؤں والے حیران ہو کر واپس چلے گئے۔ کچھ مہینوں بعد، وہ گھوڑا اچانک واپس آیا لیکن اکیلا نہیں بلکہ اپنے ساتھ دو مزید گھوڑے بھی لے آیا۔ یہ دیکھ کر وہی گاؤں والے مبارکباد دینے آئے اور کہنے لگے: ”بابا جی! آپ ٹھیک کہتے تھے یہ تو بڑی خوش قسمتی کی بات ہوئی، اب آپ کے پاس مفت میں تین گھوڑے ہو گئے ہیں۔“ بابا جی نے پھر بھی اپنا سکون نہ کھویا اور بولے: ”تمہیں کیسے معلوم کہ یہ خوش قسمتی ہے؟“ بابا جی کا ایک جوان بیٹا تھا جسے گھڑ سواری کا بہت شوق تھا، اُس نے ان نئے گھوڑوں میں سے ایک کو سدھانے کی کوشش کی، اِس کوشش میں وہ گھوڑے سے بری طرح گرا اور اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا اور ہمیشہ کیلئے لنگڑا ہو گیا۔ گاؤں والے پھر ہمدردی جتانے آئے: ”ہائے افسوس، اکلوتا جوان بیٹا معذور ہو گیا، یہ تو بہت بڑا ظلم ہو گیا۔“ بابا جی نے اُنکی طرف دیکھا اور وہی سوال دہرایا: ”تمہیں کیسے معلوم کہ یہ ظلم ہے؟“ ایک سال بعد ملک میں جنگ چھڑ گئی، فوج نے گاؤں کے ہر تندرست اور جوان آدمی کو جنگ کیلئے بھرتی کر لیا، جنگ میں گاؤں کے اکثر جوان مارے گئے لیکن چونکہ بابا جی کا بیٹا معذور تھا اِس لیے اسے فوج میں بھرتی نہیں کیا گیا اور وہ گھر پر ہی اپنے بوڑھے باپ کے پاس رہا۔ گاؤں والے پھر باباجی کے پاس آئے اور انہیں اِس خوش بختی کی مبارکباد دی۔ باباجی نے اسی طمانیت کے ساتھ جواب دیا: ”شاید، پتا نہیں۔“
تاؤازم کا فلسفہ اُن لوگوں کیلئے بے حد سکون آور ہے جو زندگی کو اُس کے بہاؤ پر چھوڑ دیتے ہیں، دریا کی طرح، جس میں کبھی طغیانی آ جاتی ہے اور کبھی اُس کی لہریں خاموش ہو جاتی ہیں۔ دریا اگر پُرسکون ہو تو اُس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ ہی ایسا رہے گا، اور لہریں جب بپھرتی ہیں تو کچھ وقت کے بعد پرانی حالت میں واپس بھی آ جاتی ہیں۔
زندگی کا چلن بھی یہی ہے اور تاؤازم سکھاتا ہے کہ زندگی کی اِس تلخ حقیقت کو اسی طرح قبول کرنا چاہیے، کسی ایک واقعے کی بنیاد پر خوش قسمتی یا بد بختی کا فیصلہ صادر نہیں کر دینا چاہیے۔ بظاہر یہ باتیں درست ہیں، مگر تاؤازم سے کہیں نہ کہیں یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ انسان بس ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ جائے اور خود کو زندگی کی لہروں کے سپرد کر دے۔ آج کل کے دور میں یہ تاؤازم خاصا مہنگا پڑ سکتا ہے جب روزانہ کی بنیاد پر جنگ کرنی پڑتی ہے۔ اِس قسم کے فلسفے عموماً اُن لوگوں کو بھاتے ہیں جو آسودہ حال ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کی آسائشیں حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔
گاؤں کے جس باباجی کی کہانی تاؤازم میں مشہور ہے یقیناً وہ باباجی کسی این جی او میں کنسلٹنٹ ہوں گے اور ڈالروں میں تنخواہ وصول کرتے ہوں گے، اسی لیے انہوں نے گھوڑے کے بھاگ جانے کی پروا نہیں کی، اُن کے اصطبل میں ایک سے ایک اعلیٰ اور عربی النسل گھوڑا موجود ہوگا۔ اگر اُن کی روزی روٹی اُس ایک گھوڑے سے چلتی ہوتی تو یقیناً انہوں نے گھوڑے کی ایف آئی آر بھی کٹوانی تھی اور محض حقہ پینے کی بجائے گھوڑے کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کرنی تھی۔
سچ پوچھیں تو یہ تمام فلسفے بیک وقت درست بھی ہیں اور بے سمت بھی۔ آپ اپنی سہولت کے مطابق کوئی بھی فلسفہ اپنا سکتے ہیں۔ ’ویلے‘ بیٹھنے کے بہانے بھی دستیاب ہیں اور انتھک محنت کرنیوالوں کی سبق آموز کہانیاں بھی پڑھنے مل جاتی ہیں۔ باباجی قسم کے کردار کہانیوں اور ڈراموں میں تو ملتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں لوگ ایسے ردعمل نہیں دیتے اِلّا یہ کہ وہ بہت ہی chill ہوں۔ فدوی کی رائے میں حقیقی زندگی میں لوگوں کو اِس قسم کی نصیحتیں کرنی چاہئیں کہ صبح سویرے اٹھنا نری حماقت ہے، خاص طور سے سردیوں میں نرم گرم لحاف سے باہر نکل کر نہانے سے آپ کو نمونیا ہو سکتا ہے، لہٰذا بستر میں ہی دبکے رہیں، ویسے بھی اتنی صبح اٹھ کر آپ نے کون سا تیر مار لینا ہے۔ ماضی میں جینا چھوڑ دیں، ویسے بھی آپ کا ماضی اتنا شاندار نہیں تھا بلکہ خاصا مایوس کن تھا، جتنا زیادہ یاد کریں اتنا پچھتاوا ہوگا۔
آپ نے اکثر یہ تسلی بخش فقرہ سنا ہوگا کہ فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائیگا، بے شک اِس میں بڑی حکمت ہے، بالآخر جب ہم سب فوت ہو جائیں گے تو فکر کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں باقی بچے گی۔ اور یہ بات تو اکثر ہمیں بہت متاثر کرتی ہے کہ یہ برا وقت ہے، یہ بھی آخر گزر ہی جائے گا، جی ہاں، یہ سوچنے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی چارہ بھی تو نہیں۔ اور اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ سناؤ میاں کیسے ہو تو فوراً کسی چائنا کے موٹیوویشنل اسپیکر کی طرح جواب دیں کہ میں بہت مزے میں ہوں چاہے یہ بات دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ کوئی بھی آپ کی بیماریوں اور پریشانیوں کے بارے میں سن کر بور نہیں ہونا چاہتا۔ تفنن برطرف، گھوڑے والی کہانی اتنی بھی فضول نہیں، باباجی نے فقط اُس میں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات سے نہ گھبرانا ہے اور نہ ہی خواہ مخواہ جذباتی ہونا ہے، زندگی ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح نہیں ہوتی، یہ مسلسل بہتی چلی جاتی ہے، ایک کے بعد دوسرا مرحلہ پیش آئے گا، تحمل سے تمام مرحلوں کا سامنا کریں۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ جو چیزیں اُس کے بس میں نہیں ہوتیں اُن پر کُڑھتا ہے اور جو بس میں ہوتی ہیں اُن کا حل نکالنے کی بجائے آسمان کی طرف تکتا رہتا ہے۔ اِس سوچ کو ریورس کرنے کی ضرورت ہے۔ بقول جون ایلیا: ”یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو... کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا۔“