• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سفارتی کامیابی، امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچادیا

پاکستان نے واشنگٹن میں اپنی سفارت کاری کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے واشنگٹن میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی تعریف کی ہے۔

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے علاقائی تنازعات کو عالمی فائدے میں بدلا اور صدر ٹرمپ کی ثالثی کو بھرپور انداز میں سراہا۔

بین الاقوامی جریدے کے مطابق بھارت سفارتی تنہائی اور 50 فیصد ٹیرف کے نقصان سے دوچار ہوا ہے۔

جریدے کے مطابق پاک بھارت تنازع پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کے مسترد کرنے کے بعد تعلقات منجمد کیفیت میں داخل ہوگئے ہیں، اسی بحران کو پاکستان نے سفارتی موقع میں بدلا۔

دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا، ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔

دی ڈپلومیٹ نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کے درمیان گفتگو سیکیورٹی سے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل گئی ہے، پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون بھی دوبارہ بحال ہوگیا ہے۔

بین الاقوامی جریدے کے مطابق پاک امریکا تعلقات کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی ہے، جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا تجارتی معاہدہ طے پایا۔

جریدے نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مل کر بڑے تیل ذخائر کو ترقی دیں گے۔ دسمبر 2025 میں پاکستان نے ایف 16طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے امریکی منظوری حاصل کی۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کی تجدید پر بھی زور دیا، امریکا نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔

بین الاقوامی جریدے نے لکھا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہونے پر امریکا نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔

قومی خبریں سے مزید