• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی ایم ایف کی شرط مہنگی پڑگئی؛ گیس کمپنیوں کو 100 ارب روپے کا ریونیو گھاٹا

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)آئی ایم ایف کی شرط مہنگی پڑ گئی؛ گیس کمپنیوں کو 100 ارب روپے کا ریونیو گھاٹا، کھاد کے کارخانوں کے پاور پلانٹس پر لیوی کا نفاذ: پیٹرولیم ڈویژن نے وزارت قانون سے رائے مانگ لی۔ حکام اور صنعتی ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے برآمدی صنعت کے کیپٹیو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت ’’آف دی گرڈ لیوی‘‘ کے نفاذ کے بعد، پاکستان کی گیس فراہم کرنے والی دونوں سرکاری کمپنیوں کو مجموعی طور پر تقریباً 100 ارب روپے کے ریونیو (آمدن) کا نقصان ہوا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافے نے اسے برآمد کنندگان کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے استعمال میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے نیٹ ورک میں، برآمدی صنعتوں کی جانب سے گیس کا استعمال 180 ایم ایم سی ایف ڈی سے گر کر صرف 25 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گیا ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے علاقوں میں یہ کھپت 210 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 90 ایم ایم سی ایف ڈی تک آ گئی ہے۔ گیس کمپنیوں کو پہنچنے والے اس بڑے مالی نقصان کے باوجود، حکومت اب تک ’’آف دی گرڈ لیوی‘‘ کی مد میں صرف 9 ارب روپے جمع کر سکی ہے، جو رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 105 ارب روپے کے ہدف سے بہت کم ہے۔
اہم خبریں سے مزید