دنیا بھر میں تھائیرائیڈ کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تاہم ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ جدید طبی ٹیسٹ، بہتر اسکریننگ اور عوامی آگاہی ہے نہ کہ بیماری کی شدت۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بروقت تشخیص سے تھائیرائیڈ کینسر قابلِ علاج ثابت ہوتا ہے۔
تھائیرائیڈ ایک چھوٹا تتلی کی شکل کا غدود ہے جو گردن کے اگلے حصے میں ہوتا ہے اور جسم کے میٹابولزم، دل کی دھڑکن اور درجۂ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے خلیات میں غیر معمولی افزائش کینسر کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق تھائیرائیڈ کینسر ان بیماریوں میں شامل ہے جس کی بروقت تشخیص زندگی کو مکمل طور پر معمول پر لا سکتی ہے۔
تھائیرائیڈ کینسر کے 7 بڑے خطرے کے عوامل
ماضی میں ریڈی ایشن کا سامنا
بچپن میں سر، گردن یا سینے پر ریڈی ایشن لینا سب سے مضبوط خطرہ ہے، خاص طور پر اگر کسی اور بیماری کے علاج کے دوران یہ یہ ٹیسٹ ہوا ہو۔
خاندانی تاریخ اور جینیاتی بیماریاں
اگر خاندان میں تھائیرائیڈ کینسر کی کوئی ہسٹری ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض موروثی بیماریاں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔
خواتین اور ہارمونل عوامل
یہ کینسر مردوں کے مقابلے خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے خاص طور پر 30 سے 60 سال کی عمر میں۔
آئیوڈین کی کمی
آئیوڈین کی طویل کمی تھائیرائیڈ کے مسائل اور کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین آئیوڈائزڈ نمک کے مناسب استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔
پہلے سے موجود تھائیرائیڈ گلٹیاں یا کوئی سوجا ہوا پٹھا
اگر گردن میں پرانی یا بڑھتی ہوئی گلٹی ہو تو اس کا معائنہ ضروری ہے، کیونکہ کچھ گلٹیاں کینسر میں بدل سکتی ہیں۔
موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی
موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر متوازن غذا تھائیرائیڈ کینسر کے خطرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
عمر اور ماحولیاتی اثرات
یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے مگر نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی بھی اس بیماری کی ممکنہ وجہ سمجھی جاتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر گردن میں نئی یا بڑھتی ہوئی گلٹی، آواز میں مسلسل بھاری پن، نگلنے یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوری طبی معائنہ کروانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق، تھائیرائیڈ کینسر بروقت تشخیص کی صورت میں سب سے زیادہ قابلِ علاج کینسرز میں سے ایک ہے، اس کی علامات اور خطرے کے عوامل سے آگاہی ہی بہترین تحفظ ہے۔