• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناک کی بندش سے فوری نجات کیلئے سائنسی طور پر آزمودہ 6 آسان گھریلو طریقے

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ناک اور سائنسز (Sinuses) کی بندش ایک عام مگر تکلیف دہ مسئلہ ہے جس سے سر میں دباؤ، بھاری پن اور سردرد محسوس ہوتا ہے۔ 

ماہرینِ صحت کے مطابق سائنسز میں بلغم کا گاڑھا ہو جانا اور درست طریقے سے خارج نہ ہونا اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ نیٹی پاٹ جیسے طریقے مؤثر ہو سکتے ہیں مگر بہت سے افراد کے لیے یہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے ہیں۔ 

اسی لیے ماہرین چند آسان اور محفوظ گھریلو طریقوں کی تجویز دیتے ہیں جو بغیر کسی خاص آلے کے سائنسز کو قدرتی طور پر صاف کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

سائنسی بنیادوں پر آزمودہ 6 مؤثر طریقے درج ذیل ہیں:

1۔ زیادہ پانی پئیں

پانی اور دیگر سیال مشروبات بلغم کو پتلا کرتے ہیں جس سے سائنسز کی نکاسی آسان ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مناسب ہائیڈریشن ناک کی بندش کم کرنے کا پہلا قدم ہے۔

بھاپ لینا

گرم پانی کی بھاپ ناک کی نالیوں کو نم اور بلغم کو پتلا کرتی ہے، گرم شاور بھی اسی مقصد کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

گرم کپڑے کا استعمال

ناک، گالوں اور پیشانی پر گرم، گیلا تولیہ رکھنے سے سوجن کم ہوتی ہے اور دباؤ میں آرام ملتا ہے جس سے سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔

سر اونچا رکھ کر آرام کرنا یا سونا

سوتے یا لیٹتے وقت سر کو تکیے کے ذریعے اونچا رکھنے سے بلغم نیچے کی طرف بہنے میں مدد ملتی ہے اور صبح کے اوقات میں ہونے والی بندش کم ہو سکتی ہے۔

کمرے کی ہوا میں نمی برقرار رکھیں

خشک موسم یا ہیٹر کی ہوا ناک کی جھلیوں کو خشک کر دیتی ہے۔ کمرے میں ہیومیڈیفائر استعمال کرنے سے نمی برقرار رہتی ہے اور سائنسی طور پر تکلیف کم جاتی ہے۔

ہلکی پھلکی چہرے کی مالش

ناک اور پیشانی کے اطراف ہلکی مالش سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور دباؤ میں وقتی آرام مل سکتا ہے۔

کب ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟

اگر ناک کی بندش 10 دن سے زیادہ رہے، تیز بخار، شدید درد، چہرے پر سوجن یا نظر متاثر ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ بیکٹیریل انفیکشن یا دائمی سائنوسائٹس کی علامت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی سائنسز تکلیف کے لیے پیچیدہ طریقوں کی ضرورت نہیں۔ چند آسان اور سائنسی بنیادوں پر تسلیم شدہ گھریلو تدابیر سے ناک کی بندش میں نمایاں آرام ممکن ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔  

صحت سے مزید