آگ کہیں بھی لگے چاہے کراچی کے گل پلازہ میں یا لاہور کے ایک ہوٹل میں یا بلوچستان میں کسی گھر کے اسٹوو میں لکڑی اور کوئلہ دھماکے سے پھٹنے سے انسانی جانوں کا نقصان تو ہوتا ہے مالی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں ایسے میں عام طور پر اڑوس پڑوس کے لوگ تین دن وہاں پکا پکایا کھانا پہنچاتے ہیں، حاکم بھی موقع پر پہنچ کر وعدے کرتے ہیں،دلاسہ دیتے ہیں، مرنے والوں کے معاوضے کی بات کرتے ہیں مرحومین کے بچوں کے لئے نوکری کا وعدہ کرتے ہیں تاہم کوشش کرتے ہیں کہ جہاں آگ نے زیادہ بڑا نقصان کیا ہو جب تک وہاں جلی ہوئی ہڈیوں کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہو جائے اور پہلی انکوائری رپورٹ نہ آجائے تب تک قصوروار کی طرف انگلی نہ اٹھائی جائے مگر بد قسمتی سے گل پلازہ کے سانحے پر غیر متعلق لوگ بھی جو کچھ کہہ رہے ہیں اور ذمہ دار منصبوں پر فائز لوگ بھی زیادہ تر غیر ذمہ داری سے ایسے بول رہے ہیں کہ وہاں وقفے وقفے سے بھڑکنے والی آگ اور دھواں ان کے اشارے پر دو چار گھروں کو نہیں سندھ اسمبلی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے اور اگر ہو سکے تو کوئی آئین کو بھی جلا کر دس بارہ برس کے لئے ویسا مارشل لا لگا دے جس کی چاہ میں جمہوری دور کا ایک ایک دن ان پر بھاری ہو جاتا ہے ۔
مشکل یہ ہے کہ ہمارے بہت سے چینلوں سے وابستہ افراد زیادہ تر تیزی سے اردو بولنے والے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ اردو زبان کو تیزی کی بجائے تندی سے بولا جائے تو یہ بولنے والوں کی نیت بھی ظْاہر کردیتی ہے حالانکہ شعلے بھڑکانے والے معصومیت سے یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ نیتوں کا حال پاک پروردگار جانتا ہے۔ بے شک کچھ چینل اور اینکرپرسن ہیں جو شعلہ فشاں مقررین کو یا د دلا رہے ہوتے ہیں کہ جناب والا اس پلازے کی زمیں کے ایم سی کی ملکیت تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کو ننانوے برس کی لیز پر کراچی میں ٹرام چلانے کے لئے دی گئی تھی مگر ہمارے ایک شعلہ فشاں مقرر کراچی کے میئر تھے جنہوں نے اس پلازہ کوننانوے برس کی لیز پر ایک کمپنی کو دیا جس نے یہ پلازا بنا دیا اور پھر اس پلازے میں توسیع ہوتی رہی ممکنہ طور پر بجلی چوری کو سہولت بنانے کے لئے جماعت اسلامی سے وابستہ دو مئیر آئے جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ایسی سہولت کے لئے اپنی مٹھی گرم کی ہوگی یا کروائی ہو گی ۔ظاہر ہے کہ ایسے مقررین کا ہدف ذوالفقار علی بھٹو ہے جس نے ایک شکست خوردہ ملک کے لوگوں کا اعتماد بڑھایا۔ لاہور میں اسلامی سربراہی اجلاس کرکے جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے وسائل فراہم کرنے والے لیبیا کے معمرقدافی تھے انہوں نے لاہور کے عوام سے خطاب بھی کیا تھا اور پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر ظہور احمد نے ان کے عربی خطاب کا اردو ترجمہ کیا تھا،اسی کانفرنس میں یاسر عرفات تھے،حافظ الاسد تھے،اور سب سے بڑھ کے شاہ فیصل تھے تاہم بہت افسوس ہوا جب پاکستان کے روایتی دوست شاہ ایران نہیں تھے۔
بھٹو نے قومی اسمبلی کے اسپیکر صاحب زادہ فاروق علی کو دعوت نامہ دے کے بھیجا انہوں نے اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ شاہ نے کہا کہ بھٹو بڑی غلطی کر رہا ہے اب امریکہ اسے مروا دے گا۔تاہم اپنے ڈرائنگ روم میں انہوں نے پنجابی میں احباب کو بتایا ’’ بھٹو تو پاغل ہو گیا اے،ہُن امریکہ اینوں چھڈے گا نئیں‘‘ بہر طور انیس سو بہتر میں یہ کانفرنس ہوئی جس میں پاسبانِ حرم شاہ فیصل کو پاکستان کے لئے اشک بار آنکھوں سے دعا کرتے لوگوں نے دیکھا ۔پھر اگلے ہی برس تہتر کا دستور آیا،ابھی افتخار عارف کا ایک کلپ مقبول ہوا ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان بنانے والا نیشنل بک فاؤنڈیشن ،نیشنل سنٹر اور دیگر علمی ادارے بنانے والا بھٹو ملک کی کایا پلٹنا چاہتا تھا کم سے کم وقت میں،اس لئے اس کا نشان مٹانے کا سوچنے والے نہیں جانتے کہ اسلام آباد کو قائد اعظم یونیورسٹی اور علامہ اقبال یونیورسٹی دینے والا،ملتان،بہاولپور اور گومل کو ایک ایک بڑی یونیورسٹی دینے والا سچ مچ ایک اساطیری کردار تھا۔ابھی تو پاکستان کے جنگی قیدیوں کی کہانیاں چھپنے لگی ہیں جنہیں وہ اپنی مہارت سے بھارت کی قید سے چھڑا کے لایا تھا یہی نہیں فاروق ستار صاحب! گل پلازہ کی آتش زدگی کے عینی گواہ بول رہےہیں کراچی کے ایک انگریزی اخبار میں۔محمد عمران اس پلازہ سے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بچ نکلے آپ نے ان کی روداد پڑھی ہوگی ،ان کی ہارٹ سرجری ہوئی ہے وہ شوگر کے بھی مریض ہیں مگر وہ اندھیرے میں ہاتھوں کی زنجیر بنا کے وہاں سے نکلے ۔
پلازہ کی چھت پر جا کر انہوں نے دیکھا کہ قریب ہی رمپا پلازہ کی طرف لوگ کود رہے ہیں سو وہ بھی کوشش کرکے اس راستے سے نکل آئے مگر اس کی روداد میں کئی سوال ہیں کہ چھت کی طرف جانے والے راستے مقفل کیوں تھے؟ پھر پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ اور مئیر تو خیر نکمے ہیں گورنر سندھ تو ہیلی کاپٹر چار طرف سے منگوانے کا دعویٰ کرتے ہیں ایک ہیلی کاپٹر وہ چھت پر کیوں لینڈ نہ کروا سکے جہاں سے کئی گاڑیاں بعد میں اتار لی گئیں۔ بد قسمتی سے ایم کیو ایم کا شیرازہ بکھر گیا،ان کے قائد نے فرضی لیب میں دو کاغذ جلا کے نتیجہ نکالا ہے کہ پلازہ میں نہ صرف آگ جان بوجھ کے لگائی گئی بلکہ وہاں ایسے کیمیکل چھڑکے گئے کہ یہ آگ کئی دن تک بجھے بھی نہیں،یہ تو رؤف کلاسرا نے دبئی سے بولنے والے حیدر رضوی کو آئینہ دکھایا ہے وگرنہ میرے پاس تو وسائل نہیں نہ کوئی ٹیم کہ اتنے بڑے لوگوں کے ماضی کا ذکر کر سکوں۔اے کراچی کے باشعور لوگو! دو ڈھائی کروڑ آبادی کے اس شہر پر رحم کرو یہ غریب نواز شہر ہے ۔ یہ روزی اور روٹی دیتے ہوئے کسی سے نہیں پوچھتا کہ تم بلوچ ہو،مہاجر ہو،پشتون ہو یا کچھ اور، آئندہ کے لئے اسے زخم نہ لگائیں
گر نہ سمجھےکوئی تو کیا کہئے
خامشی میں سوال تو ہے
(اکرام عتیق)