ہمارے دفتر میں ایک کلرک ہوا کرتا تھا جو روزانہ دیر سے کام پر آتا تھا، ایک دن میں نے اسے بلا کر سرزنش کی تو کہنے لگا کہ سر دراصل میں روزانہ صبح سورہ البقرہ کی تلاوت کرتا ہوں اِسلئے دیر ہو جاتی ہے۔ یہ ہمارا عمومی رویہ ہے، اپنی نالائقی اور کام چوری کو چھپانے کیلئے مذہب کی پناہ لینا۔ اگر وہ کلرک واقعی روزانہ قران کی تلاوت کرتا تو کبھی ایک سیکنڈ کیلئے بھی کام سے غفلت نہ برتتاکیونکہ بے ایمانی مذہب کی تعلیم ہی نہیں، بلکہ مذہب تو اُلٹا دیانت اور امانت داری سکھاتا ہے۔ دفتری اوقات میں نماز کے وقفے کا بھی یہی حال ہے، خاص طور سے جمعے کی نماز جو سوا بارہ شروع ہوتی ہے اور تین بجے ختم ہوتی ہے۔ ہمارے ایک کولیگ ہوا کرتے تھے، وہ سوا ایک بجے جمعہ پڑھنے جاتے اور زیادہ سے زیادہ پونے دو بجے واپس آجاتے تھے۔ مجھے کبھی سمجھ نہ آ سکی کہ آخر باقی لوگ اِس طرح جمعہ کی نماز کیوں نہیں ادا کر سکتے! تبلیغ کیلئے جانے والوں کا بھی یہی حال ہے، اپنے بیوی بچے گھر میں رُل رہے ہیں اور خود سال دو سال کیلئے دین کی تبلیغ پر نکل کھڑے ہوئے ہیں، اور تبلیغ بھی اُن ممالک میں جا کر کر رہے ہیں جہاں کے لوگ پہلے ہی ہم سے زیادہ ایمان دار ہیں۔ اب یہ سمجھ نہیں آتی کہ انہیں اپنے جیسا بنا کر ہم دین کی کیا خدمت کریں گے! لیکن یہ تبلیغی جماعت والے بھلے لوگ ہیں، خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، گھر گھر دستک دیتے ہیں، نہ انہیں کوئی پانی پوچھتا ہے، نہ کوئی کرسی پر بٹھاتا ہے، یہ اپنی دعوت دے کر چلے جاتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ نہیں کہ وہ خوش اخلاق ہیں یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ تمام مذہبی لوگ، بشمول مبلغین، مدرسوں سے فارغ التحصیل ہونیوالے عالم اور خطیب، عوام کو دیانت داری کیساتھ کامیاب زندگی گزارنے اور معاشرے کا مفید شہری بننے کا کوئی لائحہ عمل دیتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہے۔
مفتی تقی عثمانی صاحب اِس مسئلے کی بابت فرماتے ہیں کہ مدارس سے سوال پوچھنا ہی غلط ہے کہ اُنکے ہاں کتنے سائنسدان اور انجینئر پیدا ہوئے کیونکہ مدرسے تو قرآن و سنت اور شریعت کے ماہرین پیدا کرتے ہیں اور یہ کام الحمد اللّٰہ کامیابی سے جاری و ساری ہے، اگر پوچھنا ہی ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کے اداروں سے پوچھیے جن کو اربوں روپے اِس کام کیلئے دیے جاتے ہیں کہ انہوں نے کتنے ماہر طبیعات اور کیمیادان پیدا کئے، کیا قانون کی سند دینے والی جامعہ سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ اُس نے کوئی اکاؤنٹنٹ کیوں نہیں پیدا کیا یا کامرس کالج سے بازپُرس کی جاتی ہے کہ وہاں سے بہترین وکیل کیوں فارغ التحصیل نہیں ہوتے، ہر کام کا ایک دائرہ کار ہوتا ہے، اسی کے مطابق چیزوں کو پرکھا جانا چاہیے۔ مفتی صاحب کا مکمل خطاب انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ بظاہر اُنکا بیان خاصا متاثر کن ہے اور دلیل بھی دل کو لگتی ہے مگر حقائق کچھ مختلف ہیں۔ ہم اکثر اسلام کے جس سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے ہیں اُس دور میں مدرسوں کا ماڈل ہی یہی تھا کہ وہاں بیک وقت دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی، آپ اُن تمام مسلم سائنس دانوں، فلاسفہ اور علمائے کرام کی فہرست بنا لیں جو آٹھویں سے چودھویں صدی کے درمیان پیدا ہوئے، یہ سب لوگ مکتب میں تعلیم حاصل کرتے تھے، جامعات اور مدرسوں کا کوئی علیحدہ نظام نہیں تھا، اسی مکتب سے جج، فلسفی اور عالم نکلتا تھا اور وہیں سے سائنسدان، طبیب اور ریاضی دان پیدا ہوتے تھے، لہٰذا یہ دلیل ہی غلط ہے کہ مدرسوں کو کام فقط ماہرین شریعت پیدا کرنا ہے۔ ایک نکتہ مفتی صاحب نے یہ بھی پیش کیا کہ عوام میں جب کسی کو دین کی بابت پوچھنا ہوتا ہے تو وہ کسی جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے ایم اے اسلامیات کے پاس نہیں جاتا بلکہ ہمارے پاس آتا ہے، اسی لیے مسجدیں آباد ہیں، قرآن پڑھا جا رہا ہے اور لوگ دین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ یہ بات بھی درست نہیں۔ یہ نظام مسیحیت میں ہے جہاں پاپائے روم دین کے معاملے میں حتمی اتھارٹی رکھتا ہے، وہاں پورا ایک سلسلہ مراتب ہے جو شرعی معاملات کی تشریح کا اختیار رکھتا ہے، اِسکے برعکس اسلام میں پاپائیت کی کوئی گنجائش نہیں، یعنی جو ماہرین شریعت مدارس پیدا کر رہے ہیں ہمارے دین نے اِس بارے میں ایسا نہ کوئی حکم دیا اور نہ ایسی کوئی روایت موجود ہے۔ اور رہی بات مساجد کے آباد ہونے کی تو وہ کسی مدرسے کے مولوی کی وجہ سے آباد نہیں ہو رہیں وہ ایک پاکستانی مسلمان کی دین سے فطری محبت کی وجہ سے آباد ہیں۔ مدارس اور علما کے ذمے اگر کوئی ایک کام تھا تو وہ یہ تھا کہ حکومت کو ایسے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام کا ڈھانچہ پیش کرتیں جو اسلام کے اصولوں سے مطابقت رکھتا اور جسکے بارے میں اطمینان سے کہا جا سکتا کہ یہ ہے وہ اسلامی نظام جسکی ہم ہمیشہ سے بات کرتے تھے۔
اِس بحث سے قطع نظر ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ واقعی مدارس کا کام سائنس دان اور فلسفی پیدا کرنا نہیں، لیکن کیا جو لاکھوں لوگ مدارس سے ہر سال فارغ التحصیل ہوتے ہیں، وہ معاشرے میں کسی ’ویلیو ایڈیشن‘ کا سبب بنتے ہیں یا یہ بھی اُنکا کام نہیں؟ مثلاً جمعے کی نماز کا خطبہ سن لیں، خطیب صاحب جس فرقے سے تعلق رکھتے ہوں اسی کے ارد گرد گھوم گھام کر گفتگو فرماتے رہیں گے۔ اگر بریلوی ہوئے تو بزرگوں کی کرامات سنائیں گے اور شیعہ ہوئے تو اہل بیت کے قصے سنا کر خطبہ ختم کرینگے۔ سوال یہ ہے کہ جمعے کا خطبہ پاکستان کے عوام کو مفید شہری بنانے کیلئے کیوں نہیں استعمال ہو سکتا؟ اِس میں کیا قباحت ہے کہ مولوی صاحب دین کی مثالوں سے لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ کن باتوں پر عمل پیرا ہو کر معاشرے کے مفید شہری بن سکتے ہیں۔ اور فقط یہی کیوں، جمعے کے خطبے میں نوجوانوں کی کیرئیر کاؤنسلنگ کیوں نہیں کی جا سکتی، مسجد صرف نماز پڑھنے کی حد ہی کیوں رہ گئی ہے، یہ ایک کمیونٹی سینٹر کا کام کیوں نہیں کر سکتی جو کہ اسلام کی روایت بھی تھی اور دین کی روح بھی! عورتوں کو ہم نے مساجد سے بالکل ہی لاتعلق کر دیا ہے حالانکہ دنیا بھر کی مساجد بشمول خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں عورتیں نماز پڑھتی ہیں، ہم نے اللّٰہ جانے کون سے دین کی تشریح اپنا لی ہے!اِس قسم کی باتیں جب بھی کی جاتی ہیں تو جواب میں دلیل کی بجائے زیادہ تر گالم گلوچ اور طعنے ہی ملتے ہیں۔ خیر، ہمیں ہے حکمِ اذاں۔ معاشرے کا چلن ہی یہ ہو گیا ہے تو کیا سیکولر اور کیا مذہبی، کیا پڑھے لکھے اور کیا جاہل، مقابلہ اب دلیل سے نہیں ٹرولنگ سے کیا جاتا ہے۔ ”سنا ہے اس کو شغف ہے بہت ’ٹرولنگ‘ سے...سو ہم بھی معجزے اپنے ہُنر کے دیکھتے ہیں۔“