• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی سیاست میں بعض تبدیلیاں بظاہر عسکری نوعیت کی محسوس ہوتی ہیں، مگر درحقیقت ان کے اثرات معیشت، سفارت کاری اور بین الاقوامی طاقت کے توازن تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان کی دفاعی صنعت، خصوصاً مقامی طور پر تیار کردہ جنگی طیارہ جے ایف-17 تھنڈر، اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت آئی ہے۔ یہ معاملہ محض ایک ہتھیار یا طیارے کی فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان بتدریج ایک دفاعی صارف سے نکل کر ایک فعال اور قابلِ اعتماد عالمی دفاعی سپلائر کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کو ایک فیصلہ کن موقع مئی 2025ءمیں بھارت کیساتھ ہونیوالی شدید عسکری کشیدگی کے دوران ملا۔ یہ محض ایک محدود سرحدی جھڑپ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا عملی جنگی ماحول تھا جس میں فضائی، الیکٹرانک اور میزائل صلاحیتوں کا براہِ راست امتحان ہوا۔پاکستان ایئر فورس نے اس تنازع کے دوران جے ایف-17 تھنڈر کو فعال کردار میں استعمال کیا، جسکے نتیجے میں یہ طیارہ محض کاغذی یا نظریاتی صلاحیت کے بجائے عملی طور پر جنگ میں آزمودہ قرار پایا۔دفاعی دنیا میں ’کومبیٹ پروون‘ ہونا کسی بھی نظام کیلئے سب سے بڑی سند سمجھا جاتا ہے۔ عالمی اسلحہ منڈی میں خریدار ممالک اب محض تکنیکی خصوصیات یا دعوؤں پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ ایسے نظاموں کو ترجیح دیتے ہیں جو حقیقی جنگی حالات میں اپنی افادیت ثابت کر چکے ہوں۔ جے ایف-17تھنڈر کیلئے بھارت کے ساتھ حالیہ فضائی تصادم ایک ایسا ہی موڑ ثابت ہوا، جس کے بعد اس طیارے کے بارے میں عالمی تاثر میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔پاکستان کی دفاعی صنعت میں مرکزی حیثیت رکھنے والے جے ایف-17 تھنڈر کی اصل طاقت اس کے تصوراتی ڈیزائن میں پوشیدہ ہے۔ یہ طیارہ کسی ایک مخصوص کردار کیلئے نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ملٹی رول پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ فضائی برتری، زمینی اہداف پر حملہ، بحری کارروائیاں اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے مختلف مشنز میں حصہ لینے کی صلاحیت نے اسے جدید فضائی جنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔ بلاک تھری ورژن میں جدید اے ای ایس اے ریڈار، طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی وی آر میزائل اور بہتر الیکٹرانک نظاموں کی شمولیت نے اس طیارے کو 4.5 جنریشن لڑاکا طیاروں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔

جدید عالمی سیاست میں دفاعی معاہدے صرف اسلحے کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ طویل المدتی سیاسی اعتماد، انٹیلی جنس تعاون، فوجی تربیت اور اسٹرٹیجک ہم آہنگی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی صنعت کو خارجہ پالیسی کے ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے۔عالمی سطح پر جن ممالک نے پاکستانی دفاعی مصنوعات میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، ان میں بنگلہ دیش، سعودی عرب، عراق، انڈونیشیا، مراکش، سوڈان، نائجیریا، ایتھوپیا اور مشرقی لیبیا نمایاں ہیں۔ ان تمام ممالک میں ایک قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ یا تو محدود دفاعی بجٹ رکھتے ہیں یا مغربی سپلائرز پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔عرب دنیا میں پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کا ایک اہم ستون سعودی عرب ہے۔ ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے نے واضح کر دیا تھا کہ ریاض اسلام آباد کے ساتھ اپنے عسکری تعلقات کو محض رسمی تعاون تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ یہ دفاعی تعاون اب معاشی اور اسٹرٹیجک مفادات کے امتزاج کی صورت اختیار کر رہا ہے جوکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک سنگِ میل ہوگا ۔

گزشتہ برسوں میں پاکستان کو شدید معاشی دباؤ، قرضوں کے بوجھ اور بیرونی انحصار جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں دفاعی برآمدات کا بڑھنا محض اضافی آمدن نہیں بلکہ معاشی خودمختاری کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے 2025 میں تقریباً 10 ارب ڈالر کے دفاعی برآمدی معاہدے کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ جے ایف-17 معاہدوں سے ممکنہ مجموعی آمدن 13 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔پاکستان کے لیے یہ لمحہ مواقع کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی لے کر آیا ہے۔ دفاعی صنعت میں کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہو سکتی ہے جب اسے شفاف پالیسی، برآمدی نظم و ضبط اور متوازن سفارت کاری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ اسلحے کی فروخت محض تجارتی معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات علاقائی سیاست، داخلی سلامتی اور بین الاقوامی ساکھ پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اپنےدفاعی تعلقات کودانشمندانہ اندازمیں وسعت دینا ہوگی۔ پاکستان کی دفاعی صنعت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر اس تبدیلی کا مرکز ہےمگر اصل امتحان اس کامیابی کو طویل المدتی قومی حکمتِ عملی میں ڈھالنے کا ہے۔ اگر پاکستان دفاعی پیداوار کو معاشی اصلاحات، متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پیش رفت محض چند معاہدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

تازہ ترین