• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک وقت تھا کہا جاتا تھا کہ منصف اورمیر سپاہ کو خاموش رہنا چاہئے،پھر کچھ لوگوں نے اس فہرست میں اضافہ کر کے کہا کہ سائنس دان خاص طور پر نیوکلیئر توانائی پرکام کرنیوالے کو تو بالکل ہی خاموش رہنا چاہئے۔ اسی لئے جب نسیم حسن شاہ چیف جسٹس بنے تو کچھ کالم نگاروں نے انہیں بہت باتونی جج کہا مگر شاہ جی کی باتیں جاری رہیں اوراسی رو میں ان کے منہ سے نکل گیا کہ بھٹو کی پھانسی سے متعلق میرے ضمیر میں خلش ہے سو دوسرے بولنے والے جج قاضی فائز عیسیٰ نے بھٹو سے متعلق دیگر منصفوں کے ضمیر کی خلش بھی دور کر دی۔ پھر بولنے والے سائنس دانوں نے تو باقاعدہ کالم ہی لکھنے شروع کئےڈاکٹرعبدالقدیر خان کے بارے میں آپ جو مرضی آئے کہیے جنرل مشرف کے زمانے میں ان سے جو سلوک ہوا اس کے بعد انہیں باقاعدہ کالم نگاری سے منع کیا گیا مگر نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملے ، اول تو وہ بھوپال کے تھے پھر پاکستان کے ایسے قومی راز ان کے پاس تھے جن میں بھٹو،ضیا کے ساتھ اسحاق خان بھی آ بیٹھے یوں ان کے کالموں کے قاری بڑھتے گئے،اسی دوران ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی میدان میں آ گئے اپنی پریس کانفرنسوں کے ساتھ اورعبدالقدیر خان کا کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈالنے لگے۔

اس زمانے میں ہمارے ایک سینئرایمرسونین ڈاکٹر انور نسیم سائنس دانوں کے باقاعدہ لطیفے سنایا کرتے جس پہ ہم ’اردو والے‘ بہت خوش ہوتے لیکن وہ ایک اور کالم نگار، ڈاکٹر عطا الرحمن کا ذکراحتیاط سے کیا کرتے تھے کہ وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پیش رو یعنی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے مشیر اور ایک سائنسی ادارے کے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر عطا نے ابھی کل ہی اپنے تازہ ترین کالم میں اپنی سائنسی فتوحات بلکہ اعزازات کا ذکر کیا ہے اس لئے امکان یہ ہے کہ وہ ہمارے بہت مصروف وزیراعظم کے سائنسی مشیر ہو جائیں لیکن یہ ایک قومی راز ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے صدر نشیں کا تقرر کیوں نہیں ہو رہا؟ ایسے موقع پر کئی اخبار مختلف کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔کسی کسی کو اس موقع پر یاد آتا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم پر کہا گیا تھا کہ تعلیم اور صحت اب وفاق نے صوبوں کو وسائل اور مسائل کے ساتھ منتقل کر دئیے ہیں۔تب ہمارے ڈاکٹر عطا الرحمٰن ہی فاضل حرارت کے ساتھ جناب افتخار محمد چوہدری کی طرح متحرک تھے سو وکلا کے محبوب جج نےتعلیم کووفاق کے حوالے کیا تاہم صوبوں کو بھی اختیار دیا یا اشارہ دیا کہ وہ اپنا اپنا ایچ ای سی بنا لیں۔میرے نزدیک اس موقع پر جناب زرداری نے سندھ ایچ ای سی کا چیئرمین اپنے’خرگوش‘ کو بنا کر کافی مثالیت پسندوں کے دل توڑ دئیے یہ اور بات ڈاکٹر عاصم حسین کے ہسپتال میں مبینہ طور پرحق پرستوں کے لئے بہت سہولتیں تھیں خاص طور پر ان کے مجروحین کے لئے،اس لئے سندھ ایچ ای سی نے جو اقدامات کئے ان کی موافقت کیلئے فضا پیدا نہ ہوئی تاہم پنجاب ایچ ای سی کی سربراہی کے لئے یونیورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایم نظام الدین جیسے فعال شخص کا تقرر ہوا ، ان سے صوبے کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ میاں شہباز شریف بھی خوش رہے مگر ان کی وفاقی چیئرمین سے محاذ آرائی رہی تاہم ڈاکٹر نظام اپنی مہارت سے اہم کام کرتے رہے۔

اب بھی خبریں یہی ہیں کہ تین افراد کی سمری بنائی گئی پینل میں ایک پنجاب یونیورسٹی ، دوسرے قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں جب کہ تیسرا نام کراچی کے ایک رئیس الجامعہ کا ہے شاید تیسرے نام کی منظوری پر وفاقی وزیرِ تعلیم زور دے رہے ہوں گے ،یوں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس تاخیر سے صرف اسلام آباد نہیں ملک بھر کی جامعات بھی بہت سے کاموں کے لئے منتظر ہیں۔اور تو اور اسلامک انٹر نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے بہت سے کام بھی رکے ہوئے ہیں کہ وہاں کے ایکٹ میں بھی ایچ ای سی کے چیئرمین کا ایک کردار ہے خصوصی۔ البتہ پنجاب ایچ ای سی کے لاہور دفتر سے خبر ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ایک ترمیم کے ذریعے سربراہ کے لئے عمر کی حد پینسٹھ برس مقرر کر کے لاہور اور فیصل آباد میں افسردگی پھیلا دی گئی ہے ۔ میں ایک یونیورسٹی کے بارے میں جانتا ہوں وہاں ایک وائس چانسلر نے ہی خود کشی کر لی دوسرے جیل گئے تیسرے نےضمانت قبل از گرفتاری کرائی ہے۔

مگر آج تک کسی نے نہیں کہا کہ سرچ کمیٹی کے معزز اراکین کا بھی مواخذہ کیا جائے یا انہیں مقرر کرنے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ نادم کرنے کا بندوبست ہونا چاہئے۔ مقرر کرنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم میرٹ پر سب کام کرتے ہیں تاہم یہ زیادہ مناسب نہیں کہ کوئی وائس چانسلر مقرر ہو تو ان کے کوائف کے ساتھ اثاثے بھی یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ہوں اور ہو سکے تو ان کی عمومی شہرت اگرخوشامدی یا بیرونی دوروں کے شائق کی ہو تو اسے بھی اہمیت دی جانی چاہئے۔ ہم عام طور پر ان پاکستانیوں کو بہت عزت سے دیکھتے ہیں جو امریکہ،برطانیہ ،جرمنی ،جاپان یا چین میں پڑھاتے ہیں مگرجو کچھ وہ اپنی کتب میں لکھتے ہیں ہمارے پالیسی ساز ادارے ان پر توجہ دیتے ہیں؟ ساجد جاوید برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے چانسلر رہے ہیں اور اب وہاں کی حکومت میں ان کا اہم مقام ہے انہوں نے اپنی تازہ کتاب میں لکھا ہے کہ میرے والد میرے چہرے اور سر پر ضربیں لگاتے تھے اور میری والدہ انگریزی کا ایک لفظ نہ بول سکتی تھیں اور نہ سمجھ سکتی تھیں میرے نزدیک ایسے والدین کو امیگریشن اگر دینی ہو تو کچھ شرائط کے ساتھ ۔ ہم نہیں جانتے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے اندر امن قائم کرنے کا در حقیقت کیا پروگرام بنایا ہے،البتہ یونیسیف نے غزہ میں اسکولوں کی عمارتوں کی تباہی اور معاونات تعلیم پہنچانے میں اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود عزم ظاہر کیا ہے کہ اس سال تین لاکھ سے زائد بچوں پر یہاں تعلیم کا دروازہ کھولا جائے گا۔

تازہ ترین