• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان: دانش اسکولز یا تعلیمی انقلاب ضروری ؟

8 جنوری 2026ءکو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ میں ڈیرہ بگٹی، سبی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، اور صحبت پور/موسی خیل میں پانچ دانش اسکولز کا سنگِ بنیاد رکھا۔ بعد ازاں چاغی اور واشک میں مزید دو کا اعلان ہوا۔ تقریباً 24 ارب روپے کی لاگت سے یہ بورڈنگ اسکولز مارچ 2027ءسے فعال ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ یہ اسکولز پسماندہ علاقوں کے ذہین اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ مفت رہائش، کھانا، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔یہ اقدام بلاشبہ خوش آئند ہے۔ بلوچستان جیسے رقبے میں وسیع مگر آبادی کے لحاظ سے کم گنجان اور تعلیمی اعتبار سے انتہائی پسماندہ صوبے میں معیاری تعلیم تک رسائی ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ یہ ا سکولز ہزاروں بچوں کے لیے روشنی کی کرن بن سکتے ہیں۔مگر اصل سوال یہ ہےکیا یہ منصوبہ صرف شاندار عمارتوں تک محدود رہے گا، یا واقعی تعلیمی انقلاب کا باعث بنے گا؟ بلوچستان میں تعلیم کے منصوبوں کا المیہ یہی رہا ہے کہ ہم عمارتوں کو ترجیح دیتے ہیں، مگر انسانی وسائل، نصاب کی مطابقت، مسلسل سپورٹ اور پائیداری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔بلوچستان میں سالانہ اسکول میں فی بچہ 77419 روپے سالانہ جو کے اکثر فرضی ناموں پر خرچ کررہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب آدھی رقم بھی کم 31961 حاضر بچے پر خرچ کررہا ہے۔اگر مستقل، تربیت یافتہ اور پرعزم اساتذہ نہ ہوں، طلبہ کو مناسب غذائی، طبی اور نفسیاتی سپورٹ نہ ملے، تو یہ اسکولز بھی وقت کے ساتھ شو پیس بن کر رہ جائیں گے۔ چند سو بچوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ لاکھوں بچے اب بھی اسکول سے باہر رہیں گے۔بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پنجاب سے بھی بڑا ہے، مگر صرف 7-8دانش اسکولز سے پورے صوبے میں تعلیمی تبدیلی ممکن نہیں۔ اگر باقی اضلاع کو نظر انداز کیا گیا تو احساس محرومی مزید گہرا ہو گا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں تقریباً 28 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ ہزاروں اسکول غیر فعال یاگھوسٹ ہیں۔ رپورٹس میں 3694 غیر فعال سکولز کا ذکر ہے۔وسائل کو بکھیرنے کے بجائے ایک جامع، پائیدار اور مرکزیت والا ماڈل زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ 24 ارب روپے کی یہ خطیر رقم ایک منتخب، موسم کے لحاظ سے موزوں اور رسائی میں بہتر مقام (جیسے پشین ،سرانان، اٹوزی اجرم، کوئٹہ کے قریب مناسب جگہ جہاں بڑی اراضی دستیاب ہیں، پر’بلوچستان ایجوکیشن سٹی‘ بنانے میں لگائی جائے۔ یہ محض ایک ا سکول یا چند عمارتیں نہ ہوں بلکہ ایک مکمل تعلیمی ایکوسسٹم ہوبہترین سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا مجموعہ۔ملک کے نامور اداروں (LUMS، NUST، آغا خان یونیورسٹی وغیرہ) کو اشتراک اور شراکت کی دعوت دی جائے۔پورے ملک سے بہترین اساتذہ اور عملہ کو راغب کرنے کے لیے شاندار رہائشی سہولیات جیسے جدید گھر، ان کے بچوں کے لیے معیاری اسکول، ہسپتال، کھیلوں کے میدان، تفریحی مراکز ہوں تاکہ لاہور یا اسلام آباد کا استاد یہاں آنے پر خاندان کے مستقبل کا خوف نہ محسوس کرے بنیادی سہولیات دہلیز پر میسر ہوں صوبے بھر سے طلبہ و طالبات کی آمدورفت کے لیے مستقل سرکاری بس سروس شروع کی جائے ۔بڑے ہسپتالوں کو مدعو کر کے میڈیکل فیکلٹی قائم کی جائے، جہاں میڈیکل طلبہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ صوبے بھر کے مریضوں کا علاج بھی کریں۔موجودہ اداروں بلوچستان یونیورسٹی، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، بولان میڈیکل کالج، لورالائی میڈیکل، جھالاوان میڈیکل، تربت میڈیکل، ڈگری کالجز، سائنس کالجز وغیرہ کو یہاں منتقل کر کے ایک مربوط نظام بنایا جائے۔اب کوئٹہ میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (بولان میڈیکل یونیورسٹی) اربوں روپے کی لاگت سے نئی عمارت(کیمپس )بنائی جا رہی ہے، جس کی صرف زمین 5 ارب روپے میں خریدی گئی ہے اسے بھی اس ایجوکیشن سٹی میں منتقل کر دیا جائے تاکہ تمام طبی تعلیم ایک ہی چھت تلے مربوط ہو جائے اور وسائل کا بہترین استعمال ممکن ہو۔اس ماڈل سے نہ صرف دانش اسکولز بلکہ پورا تعلیمی نظام مستحکم ہو گا۔ اساتذہ کی کمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، کیونکہ ایک جگہ پر تمام سہولیات دستیاب ہوں گی تو پنجاب، خیبر پختونخوا یا دیگر علاقوں سے اچھے ٹیچرز آنے پر آمادہ ہوں گے۔ واشک، چاغی جیسے دور دراز علاقوں میں اسمگلنگ اور غیر مستحکم ماحول میں شہری زندگی چھوڑ کر استاد کیسے آئیں گے؟ جن اضلاع کا اپنا اشیاء خورد و نوش کا دارومدار ایران پر ہے، وہاں بہترین تعلیم ممکن نہیں۔ مرکزی ایجوکیشن سٹی ہی جامع حل ہے۔یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک بار انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان میں ہزاروں بوگس یا کاغذی اسکولز موجود ہیں جو صرف فنڈز کھا جاتے ہیں۔ اس لیے وسائل کو بکھیرنے کے بجائے ایک مضبوط بنیاد پر کام کریں۔دانش اسکولز امید کی کرن ضرور ہیں، مگر انہیں شو پیس نہ بننے دیں۔ اگر’بلوچستان ایجوکیشن سٹی‘ کا ماڈل اپنایا گیا تو بلوچستان کا بچہ نہ صرف ڈاکٹر، انجینئر یا لیڈر بن سکتا ہے بلکہ پورا صوبہ تعلیمی پسماندگی سے نکل سکتا ہے۔ وقت ہے کہ وعدوں سے آگے بڑھ کر ایک مکمل نظام تعمیر کیا جائے نہ کہ صرف عمارتیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کیلئے ایک روشن مثال بن سکتی ہے۔

تازہ ترین