رواں سال عالمی سطح پر سونے کی قیمت تاریخی بلندیوں پر پہنچ گئی۔
سونے کی قیمت نے اس ہفتے بین الاقوامی سطح پر پچھلے تمام ریکارڈز توڑ دیے ہیں اور 5 ہزار 500 ڈالرز فی اونس سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہاں آج ہم عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہونے کی چند اہم وجوہات پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
ورلڈ بینک کی ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق جب دنیا میں غیر یقینی صورتِ حال بڑھ جاتی ہے تو سونے کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے کیونکہ سرمایہ کاری کی دنیا میں اسے ایک ’محفوظ اثاثے‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
جب دنیا میں سیاسی بحران یا تجارتی جنگیں شروع ہوتی ہیں تو سرمایہ کار اسٹاک اور کرنسیوں کی قدر میں تیزی سے آنے والے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دنیا کی موجودہ صورتِ حال بھی کچھ اسی طرح کی ہے، سیاسی تناؤ اور دنیا کی 2 بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے دوران لوگ اپنے فنڈز کو سونے میں تبدیل کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسا اثاثہ ہے جو اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔
امریکی بینک جے پی مورگن کی رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں صرف افراد ہی نہیں بلکہ حکومتیں بھی اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہی ہیں، چین اور بھارت جیسے ممالک کے مرکزی بینک اپنے ذخائر کو بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سونا خرید رہے ہیں۔
یہ ممالک سونے کے ذخائر میں اضافہ اور امریکی ڈالرز میں کمی کر کے اپنی معیشتوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سونے کی قیمت روایتی طور پر امریکی ڈالرز میں رکھی جاتی ہے اور حال ہی میں امریکی ڈالر 4 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔
جب ڈالر سستا ہوتا ہے تو سونا خریدنے کے لیے دیگر ممالک کی کرنسیاں جیسے کہ برطانوی پاؤنڈز استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے سونا سستا ہو جاتا ہے۔
اس لیے مارکیٹ میں سونے کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور پھر اس کی قیمت میں قدرتی طور پر اضافہ ہو جاتا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو نے حال ہی میں شرحِ سود کو مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور جب سود کی شرح کم ہوتی ہے تو بچت اکاؤنٹس کم ادائیگی کرتے ہیں۔
اس طرح کی صورتِ حال میں بھی سرمایہ کاروں کے لیے سونا بہت زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی موجودہ غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر سونے کی قیمت میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر تک سونے کی قیمت 6 ہزار ڈالرز فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔