ہماری روزمرہ زندگی میں کچھ استعاروں اور اصطلاحات کو ان کے سیاق و سباق اور حقیقی مطالب سے ہٹ کر اس کثرت اور لاپروائی سے بولا جاتا ہے کہ ان کے معنی ہی بدل جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات وہ اصطلاحات سوسائٹی کے مختلف دھڑوں اور طبقوں میں وجہءِ عناد و فساد بھی بن جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی متنازع اصطلاحات کو استعمال کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے اور ان کے حقیقی سیاق و سباق کو مدنظر رکھا جائے ۔ ایسی ہی ایک اصطلاح اقلیت اور اکثریت کے حوالے سے ہے جو معاشرے میں اونچ نیچ اور غیر حقیقی تفاخر یا شرمندگی کو جنم دیتی ہے اور شہریوں کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات متاثر کرتی ہے۔ ہم اکثر سنتے آئے ہیں کہ ہمیں اپنی اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے یا ہمارا آئین اقلیتوں کے ساتھ مساوی برتاؤ کرنے کی تلقین کرتا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں اکثریت اور اقلیت کی تعریف کیا ہے کیا اکثریت اور اقلیت زیادہ انسانوں اور کم انسانوں کے درمیان فرق کا نام ہے اور وہ بھی ایک انسانی معاشرے میں ؟ انسانوں کے معاشرے میں انسانوں کے درمیان اکثریت اور اقلیت کے کیا معنی ہیں ؟ جیسے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ایک جنگل میں دیگر جانور اکثریت میں ہوتے ہیں اور انسان اقلیت میں ۔ یہ تو درست ہے کہ وہاں تو انسان اقلیت میں ہو سکتے ہیں ۔ اسی طرح انسانوں کی بستی میں دیگر جانور اقلیت یعنی کم تعداد میں پائے جا سکتے ہیں اور ان کی نسبت انسانوں کی بہتات یا اکثریت ہوتی ہے لیکن انسانوں کو مذہب رنگ و نسل اور خطے کی بنیاد پر انسانوں کی بستی میں اقلیت قرار دینا کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ کیونکہ یہ لفظ اقلیت جہاں ان لوگوں کے دلوں میں خوف ، مایوسی ، اکیلے پن اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے جنہیں ہم اقلیت کا نام دیتے ہیں بلکہ باقی کی نام نہاد اکثریت میں احساسِ برتری اور احساسِ تفاخر پیدا کرنے کا باعث بھی بنتا ہے جو اکثر اوقات انہیں دوسروں کو کمتر سمجھنے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ یوں ایک ایسا معاشرہ جو مذہب ، رنگ ، نسل یا ذات پات کی بنیاد پر انسانوں کو اکثریت اور اقلیت میں تقسیم کر دیتا ہے وہ امن ، صلح ، سلامتی اور درگزر کے اصولوں سے بہت دور چلا جاتا ہے جو ایک مہذب انسانی معاشرے کے بنیادی لوازمات ہوتے ہیں بلکہ وہ تقسیم پھر رکنے کا نام نہیں لیتی ۔ پہلے مذہب کے نام پر تقسیم ہوتی ہے ، پھر تقسیم کا یہ عمل ہر مذہب کے اندر فرقوں اور ضمنی فرقوں کی سطح تک پھیلتا چلا جاتا ہے ۔ یہی سلسلہ رنگ ، نسل اور ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی تقسیموں تک سرایت کر جاتا ہے ۔ ایسی تقسیم در تقسیم سوسائٹی میں انسانی فلاح و بہبود کی بجائے انسان ایک دوسرے سے اپنی خود ساختہ تقسیموں کی وجہ سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی حقیقی مہذب جمہوری معاشرے میں تمام انسان اکثریت یا اقلیت کے منفی اور طبقاتی تصور کی بجائے صرف ریاست کے شہری ہوتے ہیں ۔ جن کے یکساں حقوق و فرائض ہوتے ہیں اور وہ ایک جیسے شہری ہونے کی وجہ سے اپنے دوسرے شہریوں کے حقوق و فرائض کا احترام کرتے ہیں ۔ اگر اکثریت اور اقلیت کی اس غیر فطری تقسیم کو نہ روکا جائے تو کل کو قد کی لمبائی ، آنکھوں اور بالوں کی رنگت ،اور دیگر انسانی خدو خال کے تفاوت کی وجہ سے طرح طرح کی نئی اکثریت اور اقلیت کا وجود بھی عمل میں آ سکتا ہے جو انسانی تمدن کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ یاد رکھیے کسی بھی جاندار کا جسمانی وجود اس کی نوعِ خلقت کی بنیاد پر اسے دوسروں سے طبعی طور پر مختلف بناتا ہے ۔ اس کے نظریات کی وجہ سے نہیں ۔ نظریاتی یا رنگ و نسل کا اختلاف گلشن کی رنگا رنگی میں اضافہ کرتا ہے جس سے کائنات کی خوبصورتی بڑھتی ہے ۔ لہذا اسے ان اختلافات کی وجہ سے تقسیم کا باعث نہیں بننا چاہیے ۔ ہمارے معاشرے میں جو کوئی بھی ہمارے ساتھ رہتا ہے اور ہماری معاشرت کا حصہ ہے ۔ وہ ہمارے ہی وجود کا حصہ ہے اس کی خوشی ، خوشحالی اور دکھ درد سب ہمارے ہیں ۔ انسانوں کے معاشرے میں کوئی انسان اکثریت یا اقلیت میں نہیں ہوتا سب برابر ہوتے ہیں ۔ جب ہم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں تو اس سے ہماری سوچ اور وجود میں وسعت اور ایک دوسرے کے لئے محبت اور انسیت پیدا ہوتی ہے ۔ اسی طرح کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا کہ جس کی وجہ سے ہم کسی کو دوسرے سے برتر یا کمتر سمجھیں اور بعض اوقات تو نظر نہ آنے والے لوگ یا کام بظاہر نظر آنے والے مظاہر سے زیادہ اہم ہوتے ہیں ۔ اس کی مثال وہ عالیشان عمارتیں ہیں جنہیں ہماری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں لیکن کیا ان کی بنیادوں میں لگنے والی اینٹیں جو نظر نہیں آتیں اور جنہوں نے اس عظیم الشان عمارت کو سہارا دیا ہوتا ہے ، اہمیت کے لحاظ سے نظر آنے والی عمارت سے کسی طرح کم ہیں ؟ اس لیے انسانوں کیلئے انسانوں کی بستی میں اقلیت کا لفظ انسانی توہین کے علاوہ اور کچھ نہیں۔جس کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے آج کے اشعار
ہے تعریف اقلیت کی کہ فرق ہو نوعِ خلقت میں
انساں اقلیت ہوتا ہے ، حیوانوں کی بستی میں
ملک و مذہب رنگ و نسل اور خطوں کی تقسیموں سے
انساں نہیں اقلیت ہوتا ، انسانوں کی بستی میں