• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایچ آئی وی ادویات کا غلط استعمال: بھارتی شخص کو اے آئی چیٹ بوٹ سے مشورہ لینا مہنگا پڑ گیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک 45 سالہ شخص بغیر ڈاکٹر سے رجوع کیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ کے مشورے پر ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ادویات استعمال کرنے کے نتیجے میں شدید بیمار ہو کر اسپتال جا پہنچا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مریض نے ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں خود ہی خرید کر مکمل کورس شروع کر دیا تھا، چند دنوں کے اندر ہی اس میں اسٹیونز جانسن سنڈروم (Stevens-Johnson syndrome) نامی شدید اور جان لیوا الرجک ردِعمل ظاہر ہوا جس کے سبب اسے اسپتال داخل ہونا پڑ گیا۔

ماہرین نے مذکورہ مریض کی صورتِ حال پر ردِ عمل دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ پری ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PrEP) ایک مستند طبی علاج ہے جو ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن صرف اس صورت میں محفوظ اور مؤثر ہے جب اسے ڈاکٹر کی نگرانی میں، مکمل ٹیسٹ اور باقاعدہ فالو اپ کے ساتھ لیا جائے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر طبی مشورے کے ان ادویات کا استعمال سنگین سائیڈ ایفیکٹس، اعضاء کو نقصان اور جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹولز صرف عمومی معلومات کے لیے ہیں، تشخیص یا دواؤں کے نسخے کے لیے نہیں، کسی بھی طاقتور دوا کا استعمال صرف مستند ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
صحت سے مزید