• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا

فوٹو: امریکی میڈیا
فوٹو: امریکی میڈیا 

امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا۔

امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر پچھلے سال لگائے گئے صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے ۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ سنایا ۔ جسے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت اضافی ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے اضافی ٹیرف نافذ کرتے وقت اختیارات سے تجاوز کیا۔ یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ جان رابرٹس نے تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ صدر کی جانب سے ’لا محدود مقدار، مدت اور دائرہ کار‘ کے ٹیرف لگانے کا دعویٰ غیر معمولی اختیار ہے جس کے لیے واضح قانونی بنیاد ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ جس ہنگامی اختیار کا سہارا لے کر ٹیرف لگائے گئے، وہ اس حد تک طاقت استعمال کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ماہرین کے مطابق فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، فیصلے نے نئی حد مقرر کردی کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کن پالیسیوں کا نفاذ کر سکتے ہیں، واضح نہیں کہ دیگر ممالک اس فیصلے پر کیا ردعمل دیں گے۔

 فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ وسیع تجارتی اقدامات کالعدم ہو گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر صدر ٹرمپ کا ردِعمل اب تک سامنے نہیں آیا ہے ۔ تاہم وہ فیصلے سے پہلے ہی امریکی عدالت کو خبردار کرچکے ہیں کہ ٹیرف غیر قانونی قرار دیے تو اثرات سنگین ہوں گے، امریکا کے لیے ٹیرف ری فنڈ کی رقم ادا کرنا ناممکن ہوگا۔

ماہرین کے مطابق امریکی حکومت ٹیرف واپس لینے کے بجائے قانون تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، بھارت، پاکستان اور برطانیہ سمیت متعدد ملکوں پر یہ ٹیرف عائد کیے تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق گلوبل ٹیرف صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور اکانومک ایجنڈے کا مرکزی پارٹ ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کا بڑا نقصان کہا جا رہا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں اس موضوع پر بات نہیں کی کہ 14 دسمبر تک وصول کی گئی 134 ارب ڈالرز کی رقم کا کیا بنے گا؟

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ چھوٹی عدالتوں میں زیرِ بحث آسکتا ہے، صدر ٹرمپ نے 2025 میں بھارت اور برازیل جیسے ملکوں پر 50 فیصد جبکہ چین پر 145 فیصد ٹیرف لگایا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید