• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی، پڑھ کر دِل اش اش کر اٹھا، کیسے کیسے نابغے اِس ملک میں پائے جاتے ہیں اندازہ ہی نہیں تھا۔ پہلے پوسٹ ملاحظہ کیجئے، تبصرہ بعد میں ” معاشرے کی اصلاح میں ’نصیبو کا کردار‘ ایک ایسا پہلو ہے جس پر بہت کم بات ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نصیبو کے ہر گانے میں لوک سُدھار کا ایک واضح پیغام چُھپا ہے۔ نئی نسل کے مفکرین کا کہنا ہے کہ نصیبو لعل کے چُنیدہ گانوں میں دیے گئے پیغام پر اگرعمل کر لیا جائے تو معاشرہ بہتری کی طرف سو فیصدی گامزن ہو جائے گا ۔ ’پپیاں دے پیسے وکھرے تے جپھیاں دے وکھرے، جے تُوں رج کے کرنا اے پیار، تے مہینہ طے کر لے۔‘ مراد یہ کہ کسی بھی چیز کا معاملہ کرنے سے پہلے جزئیات کوطے کر لیا جائے تو بعد میں لڑائی جھگڑے سے بچا جا سکتا ہے۔ ہماری عدالتوں پر کیسوں کا بوجھ گھٹانے کا یہ مجرب نسخہ ہے۔ نصیبو کو نوجوانوں کی گِرتی ہوئی صحت پر تشویش لاحق ہے۔اس کا دیسی حل بتاتی ہیں۔ ’دُدھ پیار والا پی لے، مینُوں لگ ناں ایں کمزور وے۔گڑوی دُدھ والی، اِکّو ڈِیک چ پی لے، ۔‘ نوجوانوں میں جگر کی گرمی پرمُضطرِب نصیبو انہیں حکمت کا سنہری اصول بتاتی ہیں۔‘ٹھنڈ پَوَے گی کلیجے دِلدار، پیار دی گنڈیری چُوپ لے۔‘ ہمارے ہاں صحت کی ناکافی سہولتوں کے بارے میں عوام کی آواز بنتے ہوئےنصیبو یوں احتجاج کرتی ہیں۔ ’ہُن کِتھوں میں علاج کراواں، اَدّھی راتیں پِیڑ اُٹھ دی۔‘ مطلب کہ آدھی رات کو کسی کو کوئی تکلیف آ جائے تو علاقے میں دُور دُورتک علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں۔ بارشوں کا موسم ہمارے ملک کے لوگوں میں بہت جانی و مالی نقصان کرتا ہے۔ جانی نقصان سے بچنے کیلئے نصیبو سیفٹی فرسٹ کا یہ اصول بتاتی ہیں۔ ’پیندی اے برسات وے، ناں جاوِیں آج رات وے۔‘ مطلب کہ جہاں موجود ہیں وہیں ٹھہر کے بارش ختم ہونے کا انتظار کریں۔ اپنے مِڈل ایسٹ کے پردیسی بابو کو یوں سمجھاتی ہیں کہ ’ایناں نیڑے ناں ہو دِلدار وے....کلّےہون لگیاں تکلیف ہووے گی۔‘ یعنی جُدائی میں بھی محبوب کے درد کا احساس ہے۔ شہرت پا کے مغرور ہونے والوں کیلئے نصیبو کا کہنا ہے کہ بندے کو اپنی اوقات نہیں بھُولنی چاہیے۔ اپنی غُربت کے دن یاد کر کےنصیبو آج بھی آبدیدہ ہو جاتی ہے۔ ’کچّا میرا کوٹھا، تے کوٹھے دی چَھت چَو گئی۔‘ اِس وجہ سے نصیبو کے کپڑے اکثر بھیگ جاتے تھے۔‘کُڑتی وی گِلّی گِلّی، لاچا وی گِلّا گِلّا۔‘ اللہ اللہ، کیسی بے بسی ہے۔ کیسا کٹھن وقت تھا۔ گویانصیبو لعل ایک عہد ساز شخصیت ہیں اور ان کی گائیکی پر مزید تحقیق جاری رہنی چاہیے۔“

بظاہر یہ پوسٹ لکھنے والے/والی نے نصیبو کا ’توا‘ ہی لگایا ہے مگر انداز خوب ہے۔ نصیبو بیچاری کا قصور یہ ہے کہ ’پینڈو‘ اور ان پڑھ ہے، غریب گھرانے سے تھی اور گڑوی بجاتی تھی۔ فلموں میں گانے کا موقع تو ملا مگر ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑا جنہوں نے اُسے ذومعنی اور فحش گیت بنا کر دیے اور اُس نے گا دیے۔ جبکہ یہ ایسی خداداد صلاحیتوں کی حامل فنکارہ ہے کہ جسکی گائیکی کو کسی سند کی ضرورت نہیں، اِس کا گایا ہوا بذات خود سند کا درجہ رکھتا ہے۔ حال ہی میں نصیبو لعل کا ایک کلپ وائرل ہوا جس میں وہ لتا منگیشکر کا مشہور گانا ’بانہوں میں چلے آؤ، ہم سے صنم کیا پردہ‘ پر اپنی بہن کے ساتھ جگل بندی کر رہی ہے۔ فن کی ایسی بلندی کو چھو کر نصیبو نے وہ گانا گایا ہے کہ اگر لتا جی وہاں موجود ہوتیں تو نصیبو کو اپنا یہ گانا دان کر دیتیں۔ لیکن ہم نے نصیبو لعل کو فقط فحاشی کے ساتھ نتھی کر دیا ہے حالانکہ نصیبو اُن گانوں کی تخلیق کار نہیں تھی، اصل قصور تو فلم کے ہدایتکار اور پروڈیوسر کا تھا جنہوں نے ایسے گانے لکھوائے اور نصیبو نے گائے۔

دوسری بدقسمتی نصیبو لعل کی یہ ہے کہ اُس کا تعلق اشرافیہ سے نہیں ہے، وہ میشا شفیع نہیں ہے، اُس نے شکیرا کی طرح اپنی برینڈنگ نہیں کی، آج بھی وہ فقیرانہ انداز میں رہتی ہے اور اُس طبقے کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہے جسے ہم ’میراثی‘ کہتے ہیں۔ نصیبو کو چونکہ انگریزی نہیں آتی اِس لیے وہ ہم میں سے نہیں۔ اسی اشرافیہ کے لوگ جب کسی کیفے میں جاتے ہیں تو ’ففٹی شیڈز آف گرے‘ میں ایلی گاؤلڈنگ کے گانے ’Touch me like you do‘ پر جھوم اٹھتے ہیں۔ جبکہ یہی گانا اگر نصیبو گائے تو فحش کہلاتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایلی گاؤلڈنگ سے پہلے نصیبو لعل یہ گانا 2007 میں گا چکی ہے، بول تھے: ’پا دے چِٹّے دن ماہیا ہنیر وے، جتھوں مرضی جوانی نوں چھیڑ وے۔‘ اب آپ ہی بتائیں Touch me like you do کیا اِس کی نقل نہیں؟ کہنے والے کہیں گے کہ نرگس نے اِس پر فحش رقص کیا، ٹھیک ہے ایسا ہی ہوگا، مگر ففٹی شیڈز کے کردار کرسچن گرے نے جو کچھ انستازیہ سٹیل کے ساتھ کیا، وہ کیا فحاشی کے زمرے میں نہیں؟

دراصل یہ بحث ہی غلط ہے۔ دنیا میں ہر قسم کی فلمیں بنتی ہیں اور تھیٹر پر ہر طرح کے کھیل دکھائے جاتے ہیں، جس کا جو دل کرتا ہے وہ دیکھتا ہے۔ جو کچھ آج کل ہمارے تھیٹرز میں ہو رہا ہے اُس سے کہیں زیادہ فحش تماشے باقی دنیا میں لگتے ہیں مگر انہیں صرف وہی لوگ دیکھتے ہیں جو اِس قسم کے تماشوں سے محظوظ ہونا چاہتے ہیں۔ اپنے یہاں بھی یہ تخصیص کی جا سکتی ہے، مگر ہم نے ہر مسئلے کا حل چونکہ پابندی نکالا ہوا سو ہم نے وہ پابندی لگا دی ہے۔ سنا ہے کہ بڑی عرق ریزی کے بعد نصیبو لعل کے بیاسی گانے نکالے گئے جن پر اب کوئی رقاصہ نہیں ناچے گی۔ معاشرے کے سب سے پسے ہوئے اور مجبور طبقے پر پابندی لگانا ’نیکی‘ کا کام تھا لہٰذا ہم نے بغیر کسی ’اجازت‘ کے کر ڈالا۔ یہ اور بات ہے کہ نازک معاملات میں ہمارے پر جلتے ہیں اور ہم بغیر پوچھے کوئی کام نہیں کرتے۔ خیر، نصیبو لعل پر واپس آتے ہیں، نصیبو اگر یورپ میں ہوتی تو اسے قدرتی اور خالص آواز کی اصل نمائندہ سمجھا جاتا۔ یورپ میں ایسی آوازوں کو voce bianca کہا جاتا ہے، یہ اطالوی لفظ ہے، اِس سے مراد ہے روشن، کھلی اور گونج دار آواز میں گانا۔ نصیبو کو جنوبی یورپ کی لوک گائیکی کے بارے میں شاید زیادہ علم نہ ہو لیکن ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ وہ اسی گائیکی کی روایت سے تعلق رکھتی ہے، ایسی آواز جو مکمل (فل وائس) ہوتی ہے مگر اس کا لہجہ نرم اور پرسکون ہوتا ہے۔ اپنے کمزور تعلیمی پس منظر کی وجہ سے وہ اپنے گیتوں کے لیے درست مواد کا انتخاب نہیں کر سکی مگر اُس کی گائیکی کی مہارت کو کوئی نہیں چھو سکتا۔ نصیبو لعل کسی آسکر تمغے سے کم کی حقدار نہیں!

تازہ ترین