آسٹریلوی تحقیق میں اعصابی عارضے شیزوفرینیا میں آوازیں سنائی دینے کی ممکنہ وجہ دریافت کرلی گئی ہے۔
آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی (UNSW) کے ماہرِ نفسیات کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں اس بات کے مضبوط شواہد سامنے آئے ہیں کہ شیزوفرینیا میں آوازیں سنائی دینے کی وجہ ممکنہ طور پر دماغ کی اپنی اندرونی آواز کو پہچاننے کی صلاحیت میں خرابی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس خرابی کے باعث انسان کو اپنے ہی خیالات بیرونی آوازوں کے طور پر محسوس ہونے لگتے ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے شیزوفرینیا بلیٹن میں شائع ہوئی ہے، جو ایک 50 سال پرانے نظریے کی تائید کرتی ہے۔
اس نظریے کے مطابق جب دماغ اپنی اندرونی آواز کے ردِعمل کو درست طور پر کم (tone down) کرنے میں ناکام رہتا ہے تو سمعی فریبِ نظر (auditory hallucinations) پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرِ نفسیات نے اندرونی گفتگو (inner speech) کو دماغ میں موجود وہ خاموش آواز جو ہمارے خیالات کو بیان کرتی ہے قرار دیا۔ ان کے مطابق عام افراد میں دماغ اس خود پیدا ہونے والی آواز پر کم ردِعمل دیتا ہے۔
ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب ہم بولتے ہیں، چاہے صرف ذہن ہی میں کیوں نہ ہو، تو دماغ کا وہ حصہ جو بیرونی آوازوں کو پراسیس کرتا ہے، کم متحرک ہو جاتا ہے۔ تاہم جن افراد کو آوازیں سنائی دیتی ہیں، ان میں یہ پیش گوئی درست طور پر کام نہیں کرتی اور دماغ ایسا ردِعمل ظاہر کرتا ہے جیسے آواز کسی اور کی ہو۔
اس حوالے سے تحقیق کے لیے ماہرین نے تین گروپس کا مطالعہ کیا۔ پہلا گروپ 55 ایسے افراد پر مشتمل تھا جنہیں شیزوفرینیا اسپیکٹرم ڈس آرڈر تھا اور جنہوں نے گزشتہ ایک ہفتے میں آوازیں سننے کا تجربہ کیا تھا۔
دوسرے گروپ میں 44 شیزوفرینیا کے مریض شامل تھے جنہیں حالیہ عرصے میں فریبِ سماعت کا سامنا نہیں ہوا تھا، جبکہ تیسرے گروپ میں 43 صحت مند افراد شامل تھے۔
شرکاء کو EEG کیپ پہنائی گئی اور انہیں ہیڈفون کے ذریعے آوازیں سنائی گئیں۔ اس دوران ان سے کہا گیا کہ وہ خاموشی سے ’با‘ یا ’بی‘ کہنے کا تصور کریں، جبکہ انہی میں سے کوئی ایک آواز بیک وقت سنائی جا رہی تھی۔
صحت مند افراد میں اس وقت دماغی سرگرمی کم ہو گئی جب تصور کی گئی آواز اور سنی جانے والی آواز ایک جیسی تھیں، جس سے ظاہر ہوا کہ دماغ نے آواز کی درست پیش گوئی کی اور اپنا ردِعمل کم کردیا۔
اس کے برعکس، جن افراد کو حال ہی میں آوازیں سنائی دیتی رہی تھیں، ان میں بالکل الٹا ردِعمل دیکھا گیا، جہاں دماغی سرگرمی مزید بڑھ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں شیزوفرینیا اور سائیکوسِس (psychosis) کے خطرے کی شناخت کے لیے حیاتیاتی اشاریوں (biomarkers) کی تلاش میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ فی الحال ایسا کوئی لیبارٹری ٹیسٹ دستیاب نہیں جو شیزوفرینیا کی واضح شناخت کر سکے۔