ذیابیطس کی جَلد تشخیص کے لیے صرف ایچ بی اے ون سی (HbA1c) ٹیسٹ پر انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ HbA1c ٹیسٹ صرف یہ بتاتا ہے کہ خون میں شوگر ماضی میں کیسی رہی مگر یہ نہیں دکھاتا کہ مسئلہ آگے کہاں جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کئی مریضوں میں HbA1c نارمل ہونے کے باوجود انسولین ریزسٹنس شدید ہوتی ہے جو عام ٹیسٹس میں نظر نہیں آتی، HbA1c عموماً تب بڑھتا ہے جب لبلبہ برسوں سے متاثر ہو چکا ہو، آئرن کی کمی اور تھیلیسیمیا جیسے مسائل بھی HbA1c کو کم دکھا سکتے ہیں۔
یہ دونوں ٹیسٹس انسولین ریزسٹنس کی سب سے ابتدائی نشاندہی کرتے ہیں جب بیماری قابلِ واپسی ہوتی ہے۔
عام لپِڈ پروفائل میں موجود یہ تناسب اگر 3.0 سے زیادہ ہو تو دل اور شوگر کے شدید خطرے کی علامت ہے۔
یہ ٹیسٹس دن بھر شوگر کے اتار چڑھاؤ اور کھانے کے بعد کے خطرناک اسپائکس کو واضح کرتا ہے جو عام رپورٹس میں چھپ جاتے ہیں۔
یہ ٹیسٹس دل کی بیماری کے اصل ذرات اور جسم میں سوزش کی سطح بتاتے ہیں جو میٹابولک صحت کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر انسولین ریزسٹنس جَلد پکڑ لی جائے تو ورزش، خاص طور پر ریزسٹنس ٹریننگ، وقتِ مقررہ پر کھانا، مناسب پروٹین اور مربوط طبی نگرانی سے ذیابیطس کو کنٹرول نہیں بلکہ ریورس کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ دیتے ہوئے کہنا ہے کہ ٹیسٹس اور شواہد موجود ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ HbA1c کے خطرناک حد تک بڑھنے سے پہلے یہ ٹیسٹس کروائے جائیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔