وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مصالحتی پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگرد جب بھی شہروں میں کارروائی کرتے ہیں تو انسانوں کو ڈھال بنالیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 بھی نہیں تھی، شعبان اور پنجگور میں حملوں سے متعلق خفیہ معلومات تھیں، عالمی میڈیا سے درخواست ہے کہ دہشت گردوں کو دہشت گرد کہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ دوران جنگ ہر طبقہ فکر کو ریاست کے ساتھ کھڑ ے ہونا چاہیے، 2018 سے پہلے ریاست کی پالیسی مصالحت کی نہیں تھی، دہشت گردی کے واقعات میں مصالحتی پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے بعد سب سے بڑی دستاویزات نیشنل ایکشن پلان ہے، جس پر سیاسی و عسکری قیادت میں اتفاق رائے ہے، بلوچستان حملوں میں 31 شہری اور 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا کہ نوشکی میں کومبنگ آپریشن اب بھی جاری ہے، دہشت گردوں کو 2 یا 3 فیصد سے زائد عوام کی حمایت حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ے کہا کہ ایک سال کے دوران ہزار دہشت گرد انٹیلی جینس بیسڈر کارروائیوں میں مارے گئے، صوبے میں ان کی اور ان کے سہولت کاروں کی مجموعی تعداد 4 تا 5 ہزار سے زائد نہیں ہے۔