سندھ ہائی کورٹ نے کاروباری تنازع پر اغواء برائے تاوان کا مقدمہ درج کرنے کے خلاف درخواست میں رپورٹ جمع نہ کروانے پر آئی جی سندھ پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ اور ایف آئی آر لکھنے والے اے ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ مدعیٔ مقدمہ اور ملزم کے درمیان 31 کروڑ روپے کی لین دین کا تنازع ہے، 22 جنوری کو گزری پولیس نے اغواء کا مقدمہ درج کیا تھا۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف چیک باؤنس کے مقدمات درج کروائے ہوئے ہیں، فریقین کے درمیان کاروباری تنازع پہلے سے چل رہا تھا تو اغواء کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟
جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے وکیل سے سوال کیا کہ ملزم کا سی آر او کیوں نہیں کروایا گیا؟ آپ جانتے تھے کہ سی آر او کروایا تو اغواء کا مقدمہ کمزور ہو گا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے وکیل سے کہا کہ اگر یہ ٹرینڈ بن گیا تو پولیس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہو گا، پولیس بھی تو 3، 4 دن رکھنے کے بعد گرفتاری ظاہر کرتی ہے، پولیس کے خلاف بھی اغواء کا مقدمہ درج ہونا چاہیے؟ آئی جی سندھ کو انکوائری کا حکم دیا تھا، کچھ بھی نہیں کیا گیا، آپ جتنی چالاکیاں کر لیں، عدالت سے چھپ نہیں سکتے، اسی وجہ سے آپ کے مقدمات میں سزائیں نہیں ہوتی ہیں، سچی ایف آئی آر داخل کریں گے تو سزا بھی ہو گی۔
سندھ ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی۔