پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ قومی ٹیم حکومتِ پاکستان اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ہدایات پر مکمل طور پر عمل کرے گی۔
قومی کھلاڑی کا یہ بیان حکومتِ پاکستان کی جانب سے 15 فروری کو سری لنکا میں شیڈول آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء کے گروپ مرحلے میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اتوار کے روز حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء میں شرکت کرے گی، تاہم گروپ مرحلے میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میدان میں نہیں اترے گی۔
اس فیصلے کا اعلان حکومت کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے کیا گیا۔
سلمان علی آغا نے حالیہ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کھلاڑی حکومت اور پی سی بی کے فیصلوں کے پابند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یقینی طور پر ورلڈ کپ کھیلنے جا رہے ہیں اور یہ فیصلہ ہمارا نہیں ہے، ہماری حکومت اور ہمارے چیئرمین جو بھی فیصلہ کریں گے، ہمیں اس پر عمل کرنا ہو گا اور ہم بالکل ویسا ہی کریں گے جیسا وہ کہیں گے۔
بلے باز نے زور دیا کہ ورلڈ کپ میں ہر میچ یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے، چاہے گروپ مرحلے میں میچوں کی تعداد کچھ بھی ہو۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ ورلڈ کپ کھیلتے ہیں تو ہر میچ اہم ہوتا ہے، ہم 3 میچز کھیلیں گے اور تینوں ہی انتہائی اہم ہوں گے، اگر 4 بھی ہوتے تو وہ بھی اتنے ہی اہم ہوتے، ہم تمام میچز کو ایک جیسا لیں گے اور ہر میچ جیتنے کی کوشش کریں گے۔
سلمان آغا نے تسلسل اور نظم و ضبط کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ٹیم کی توجہ تمام شعبوں میں منصوبہ بندی کے مؤثر نفاذ پر مرکوز ہے۔
انہوں نے حالیہ سیریز میں پاکستان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کا اعتماد بڑھ رہا ہے اور تمام شعبوں سے اجتماعی کارکردگی سامنے آ رہی ہے، امید ہے کہ ہم یہی مومینٹم ورلڈ کپ تک لے کر جائیں گے۔
فخر زمان کی حالیہ فارم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سلمان آغا نے اوپنر کی بھرپور حمایت کی اور ان کے تجربے کو سراہا۔
واضح رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء بھارت اور سری لنکا میں 7 فروری سے 8 مارچ تک کھیلا جائے گا۔
پاکستان اپنا پہلا میچ 7 فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا، اس کے بعد 10 فروری کو امریکا اور 18 فروری کو نمیبیا سے مقابلہ کرے گا۔