• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ کمیٹی ارکان چیئرمین ایف بی آر کی کارکردگی پر برہم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے امریکا برآمدات، بارٹر ٹرید اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کارکردگی پر سخت سوالات پوچھ لیے۔

اسلام آباد میں چیئرپرسن سینیٹر انورشہ رحمان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزارت تجارت، ٹی ڈیپ اور ایف بی آر کی کارکردگی پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

کمیٹی ارکان ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ پر وی بک ماڈیول جاری نہ کیے جانے پر چیئرمین ایف بی آر پر برہم ہوگئے۔

حکام وزارت تجارت نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ بارٹر ٹریڈ کیلئے ایس آر او اکتوبر میں جاری کردیا تھا، وی بک کیلئے ماڈیول ابھی تک ایف بی آر نے تیار نہیں کیا۔

اس پر کمیٹی رکن سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہ بہت بڑی نااہلی ہے، ایف بی آر سے پوچھا جائے، انہیں طلب کرکے کہا جائے کہ معاملہ حل کریں۔

سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ ایف بی آر تو ہمارے لیے طالبان بن گیا ہے، اس پرسینیٹر طلحہ محمودنے کہا کہ ایف بی آر طالبان نہیں تاتاری لشکر کی طرح ہے، جہاں جاتا ہے تباہی پھیر دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر میں چنگیز خاں کو کلہاڑا دے کر بیٹھایا گیا ہے، سنا ہے جب چیئرمین ایف بی آر کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں شعبہ ٹیکس کے باعث مشکل میں ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔

سینیٹر طلحہ محمود کے سوال پر حکام نے بتایا کہ بہتر ٹیرف کے باوجود امریکا کو برآمدات نہ بڑھنے کی بڑی وجہ پاکستان میں زیادہ پیداواری لاگت ہے۔

وزیر تجارت جام کمال کے مطابق چین اور بھارت پر زیادہ ٹیرف سے مواقع تو ملے، مگر طویل المدتی سرمایہ کاری نہ ہونے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جولائی تا دسمبر امریکا کو ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کا زیادہ فائدہ ویتنام، بنگلادیش اور کمبوڈیا نے لیا۔

حکام نے بتایا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کو تقریباً 7 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمد کرتا ہے جبکہ بھارت بغیر رعایت کے بھی اتنی ہی برآمدات کر رہا ہے۔

اجلا س میں خواتین کاروباری وفد کے انتخاب میں شفافیت، چترال کی مصنوعات کے فروغ اور بلند ٹیکس ریٹس پر بھی سوالات اٹھائے گئے، اس موقع پر برآمدی لاگت کم کرنے اور پالیسی اصلاحات پر زور دیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید