ایک زمانہ تھا کہ اچھے کیمرے ہونٹوں کی جنبش سے قیاس کرنے میں مدد دیتے تھے کہ کیا کہا گیا ہوگا،اچھا سیاست دان وہ ہوتا جو موقع محل سے اپنے چہرے پر وہی کیفیت طاری کر لیتا جس کی اس کی مداحوں کو ضرورت ہوتی۔جنرل یحییٰ کے دور میں بنگلہ دیش کی ایک ندی (دریا)میں ایک بڑی نوکا میں پوربو اور پچھمی پاکستان کے دونوں لیڈروں کو چھ نکات، ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس کی تاریخ وغیرہ پر بات کرنے کا موقع دیا گیا۔اخبارات اور ریڈیو پاکستان کے مطابق ساحل پر بین الاقوامی پریس کے نمائندے موجود تھے جنہوں نے دونوں سے کہا کہ رسمی پریس کانفرنس سے پہلے ایک ایک فقرہ کہہ دیجئے ۔بھٹو نے کہا’سیاست دان بھی اداکار ہوتا ہے،جس نے اچھی اداکاری کی وہ اپنے ووٹرز کے دل کی دھڑکن بنا‘ مگر بنگلہ بندھو نے کہا’ہم اداکار نہیں،لاکھوں کروڑوں لاشوں اورنیم جان زندہ لوگوں کے خوابوں پر اداکاری نہیں کی جا سکتی‘ بطور ایک طالب علم مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ابوالقاسم فضل الحق اورحسین شہید سہروری کا یہ شاگرد اپنے اتالیقوں کے برعکس حس مزاح کے ساتھ ساتھ اچھی اداکاری کی صلاحیت سے بھی محروم ہے، حالانکہ لال کباب کوئٹہ میں دیرینہ بیٹھنے والے،ہماری محبوب ملکہ ترنم کے علاوہ جسٹس حمود الرحمن بھی جانتے تھے کہ نہ صرف ہمارے آغا یحییٰ اور ان کے ساتھی جرنیل زیادہ بڑے اداکار تھے اورانہیں اپنی نقرئی طلسمی چھڑی کا زعم تھا کہ جب چاہیں گے مدہوشی کے عالم میں بھی اسٹیج کا منظر ہی نہیں پوری کاسٹ ہی بدل دیں گے۔
یہ سب باتیں اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ اس وقت ایک قیدی کی بہنوں کو ان کی نادان دوست کہا جا رہا ہے،اب معاملہ کسی کے ہونٹوں کی جنبش سے قیاس کرنے کا نہیں ان کا ایک حکم ریکارڈ کیا گیا ہے جو وہ طالبان کی شباہت رکھنے والے اپنے یا بھائی کے عقیدت مند سے کہہ رہی ہیں’چھ فروری کو تربیلا بند کر دو،منگلا بند کردو‘ پانچ فروری یومِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے،ابھی کل ہی آزاد کشمیر کے ایک سابق صدر اور وزیر اعظم سلطان محمودکی نمازِ جنازہ ادا ہوئی ہے،وہ چوہدری غلام عباس اور کے ایچ خورشید جیسے نہیں تھے اور نہ ہی ان کے لئے کوئی خالد حسن جیسا لکھاری ہے جو اردو،انگریزی میں کوئی بڑے پائے کا کالم لکھ سکے۔اس مرحلے پر مجھے اردو کے ناول نگار عزیز احمد یاد آگئے جنہوں نے کشمیر میں پھیلی مفلسی اور بیچارگی پر ناول’آ گ‘ لکھا۔ جس کاہیرو کوئی نہ تھا۔عزیز احمد حیدر آباد دکن میں نظام کی بہو کے اتالیق بھی رہے کچھ معلوم اور نامعلوم وجوہ کے سبب وہ عزیز احمد کو ناپسند کرتی تھیں،حالانکہ دونوں کی مشترکہ دلچسپی تاریخ اور کلچر سے وابستہ رومان کے ساتھ خوبصورت چہروں کے ساتھ تھی۔ایک اور بہت خوبصورت پٹھان افسانہ نگار تھیں،پشاور یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں جب انہیں عزیز احمد کے افسانے اور ناول اچھے لگے تو طالب علمانہ اشتیاق میں عزیز احمد کو خط لکھ دیا انہوں نے کہا کہ میں پشاور میں آرہا ہوں فلاں ہوٹل میں مجھے ملو گویا عزیز احمد کے ناولوں میں ہیروئین بھی شاید نہیں تھی اچھے کپڑوں میں ملبوس پڑھی لکھی دراز قد ۔عزیز احمد نے شاید سوچا ہوگا کہ لڑکی کا نام ہی جب نثار ہے تو پذیرائی کے بہت امکانات ہیں وہ کیا جانتے تھے کہ وہ خاتونِ محترم بٹ بھی ہیں اور انہوں نے قرۃ العین حیدر پر کتاب بھی لکھنی ہے اپنے ناول اور یادداشتوں کے علاوہ اور اس میں اسلامی تاریخ اور کلچر پر لکھنے والوں کی بھوک اورپیاس کے بارے میں بھی لکھتے ہوئے ان کی تنہائی میں ملنے کی آرزو بھی درج کر دیں گی۔
کیا عجب خود کو جوش ،فراز اور تارڑ کی طرح مرکز کائنات خیال کرنے والے عزیز احمد نے اسی دل شکستگی میں زریں تاج،جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں اور خدنگِ جستہ جیسے شاہکار افسانے لکھے۔ہر وہ شخص جس نے عزیز احمد پر ڈھنگ سے کام کیا وہ ایک پراسرار کردار ابو سعادت جلیلی کے مکتوبات کے ساتھ جرائد میں شائع ہونے والے عزیز احمد کے انشائے لطیف،شاعری اور دیگر متعلقہ مواد کی ہاتھ سے لکھی نقول بھیجنے میں ڈاکٹر معین الدین عقیل اور مشفق خواجہ یا ڈاکٹر فرمان فتح پوری یا ڈاکٹر تبسم کاشمیری کی طرح مستعد تھے۔ہم سب ان کا شکریہ ادا کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ انہوں نے بہت سے خوش نویس ملازم رکھے ہوں گے اور سب کو ’سعادت جلیلی ‘ طرزِ املا کی تربیت دی ہو گی،کبھی کبھی خیال آتا تھا کہ ضروری نہیں یہ مرد ہو یا نظام کی بہو درِ شہوار کی طرف سے کوئی وصیت ہو کہ میرے اتالیق کی دل جوئی کے لئے کوئی محکمہ قائم ہو جس کے اخراجات کی کفالت کے لئے انہوں نے کوئی جڑائو انگشتری ابو سعادت جلیلی یا ان کے نسائی روپ کے الطاف کے لئے رکھی ہو۔
ایسے ہم جیسے لوگ جو جواہر لال نہرو کی کتابیں پڑھتے رہے مہاتما گاندھی کے مرن برت کو اداکاری خیال نہیں کرتے حتیٰ کہ ایک انسان دوست سیاست دان بھارتی شاعر اٹل بہاری واجپائی کے دوستی بس پر بیٹھ کے لاہور میں آکر مینارِ پاکستان پر کھڑے ہوکے دوستی کے دو چار شبدوں کو بھی اداکاری خیال نہیں کرتے مگر پھر یہ کون ہے جو کوئٹہ،مکران،خاران اور گوادر میں بی ایل اے کی وردی پہن کے ہمارے بچوں کو مارتے ہیں اور پھرایک پوری رات میں انہیں غیر مسلح کرتے ہوئے ہمارے ہی کچھ جوان شہید ہوتے ہیں تو ہم کیسے گمان کر سکتے ہیں کہ کسی قیدی کی نادان بہنیں جو کچھ کر رہی ہیں اور چاہ رہی ہیں وہ معصومیت ہے؟
یوم کشمیر پر پنڈی سازش کیس کے قیدی بھی یاد آتے ہیں ،سیٹو،سینٹو جیسے ٹھگو اور ہمارے وہ خوش فہم دوست جو کہتے ہیں ذرا صدرٹرمپ وسط مدتی انتخاب جیت جائیں اور یہ جو خم ہے زلفِ ایاز میں وہ غازہ اورشیراز میں نکل جائیں تو ہمارا مسئلہ کشمیر بھی وہی حل کرا دیں گے۔