• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی محکمہ انصاف نے 30 جنوری کو جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے برآمد 30 لاکھ صفحات، ایک لاکھ 80 ہزار تصویریں اور دو ہزار ویڈیوز جاری کردیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ عوام ان حقائق پر دم بخود ہیں لیکن فیک نیوز گھڑنے والے بھی سرگرم ہیں۔ جعلی ای میلز اور جعلی تصویریں پھیلائی جارہی ہیں۔ جن لوگوں کے نام اس ڈیٹا میں نکلے ہیں، ان کے سیاسی مخالفین بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ امریکا میں سیکس ٹریفکنگ کے اس کیس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ مرکزی مجرم ایپسٹین اور ان کی ساتھی گیلین میکسویل پر اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے کا الزام ثابت ہوگیا تھا۔ ایپسٹین نے 2019 میں جیل میں خودکشی کرلی تھی جبکہ اس کی ساتھی گیلین میکسویل کو 2022 میں بیس سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ ان کے سوا کسی شخص پر نہ کوئی الزام ہے اور نہ کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

یہ ضرور ہے کہ ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر برطانوی بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈیو سے شاہی خاندان کے خطاب اور مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ بعض ای میلز اور تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کچھ غلط فیصلے کیے۔ ان کے علاوہ ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر لیری سمرز، سلواکیہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائرواسلاو لائچاک اور برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈیل سن مستعفی ہوئے ہیں۔ لیکن انھوں نے یہ فیصلہ سیاسی اور سماجی دبائو پر کیا، کسی قانونی کارروائی کی وجہ سے نہیں۔

ان فائلز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، صدر کلنٹن، ان کی اہلیہ ہلیری، صدر جارج بش سینئر، ایلون مسک، بل گیٹس اور درجنوں اہم شخصیات کے نام ہیں۔ لیکن کسی ای میل میں نام آنے یا کسی گروپ فوٹو کا حصہ ہونے پر کسی کیخلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا۔ صدر ٹرمپ کیخلاف ان کے سیاسی مخالفین بہت شور مچارہے ہیں لیکن ایسے کوئی شواہد نہیں نکلے جن کی بنا پر ان کے خلاف عدالت جاسکیں۔ صدر ٹرمپ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی ایپسٹین سے دوستی رہی۔ لیکن بقول ان کے وہ دوستی بہت سال پہلے ختم ہوگئی تھی اور انھیں علم نہیں تھا کہ ایپسٹین جنسی جرائم میں ملوث تھے۔ جیفری ایپسٹین کے تعلقات امرا اور سیاست دانوں سے تھے اور ایلیٹ کلاس کے لوگ جنسی جرائم کے لیے نہیں، نیٹ ورکنگ اور ریلیشن شپ بلڈنگ کے لیے اس کی محفلوں میں جاتے تھے۔ ایپسٹین نے ورجن آئی لینڈز میں دو جزیرے خریدے ہوئے تھے جن میں محفلیں ہوتی تھیں۔ ایلون مسک کی ای میلز سے پتا چلتا ہے کہ وہ ان جزائر پر آکر بڑے لوگوں سے میل ملاقات چاہتے تھے۔ لیکن شاید وہ کبھی وہاں نہیں جاسکے۔

سوشل میڈیا پر ایک خبر بل گیٹس سے متعلق چل رہی ہے کہ وہ روسی لڑکیوں سےمبینہ تعلقات کے باعث جنسی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے تھے اور علاج کے لیے جیفری ایپسٹین سے مدد مانگی تھی۔ ایپسٹین فائلز میں بل گیٹس کی ایسی کوئی ای میل موجود نہیں۔ ایپسٹین نے ازخود یہ بات لکھ کر اپنے آپ کو ای میل کی تھی لیکن بل گیٹس اس کی تردید کرچکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی گردش میں ہیں جن میں بھارتی فلم اسٹار میرا نائر کسی بچے کے ساتھ ایپسٹین اور بل کلنٹن کے ساتھ موجود ہیں۔ بعض لوگوں نے اس بچے کو نیویارک کا مئیر ظہران ممدانی قرار دیا جو میرا نائر کے صاحب زادے ہیں۔ ان فائلز میں میرا نائر کا نام ضرور آیا ہے کیونکہ انھوں نے ایپسٹین کی کسی محفل میں شرکت کی تھی لیکن ظہران ممدانی کا ذکر نہیں اور نہ اس وقت ان کی عمر اتنی کم تھی، جتنی اے آئی سے بنائی ہوئی تصویر میں نظر آتی ہے۔

ان ای میلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی ہیں لیکن کہیں یہ بات ثابت نہیں کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث تھے۔ ایک ای میل سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ جیفری کو ایک سفارتی تقریب میں جانے کی اجازت دی گئی ہے جس میں کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے آنا تھا۔ یقینی طور پر ایپسٹین اس تقریب کے میزبان نہیں تھے۔

پاکستان میں کچھ لوگوں کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ امریکا میں جسم فروشی قانوناََ جرم ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کسی نے پیسے یا تحفہ دے کر یا لے کر ایسا کیا، یا اٹھارہ سال سے کم عمر شخص کے ساتھ تعلقات قائم کیے تو سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی شخص کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ اب تک جاری کی گئی فائلز میں ایسا کچھ نہیں جسے عدالت میں ثبوت یا کم از کم الزام لگانے کے لیے کافی سمجھا جائے۔

تازہ ترین