• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی ظفر اور اعظم تارڑ میں بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت پر بحث

—فائل فوٹوز
—فائل فوٹوز

سینیٹ اجلاس میں سینیٹر علی ظفر اور وزیرِ قانون اعظم تارڑ میں بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے بحث ہو گئی۔

 ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کا آپریشن ہوا جس کا حکومت نے انکشاف کیا، حکومت نے کہا کہ چھپ چھپا کر ان کا پروسیجر کیا، ہم نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی ان کے ڈاکٹر سے ملاقات کرائیں، ہمیں خدشہ ہے کہ یہ سیرس معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر سے ملاقات نہیں کرائی، ان کی آنکھ کو نقصان ہو سکتا ہے، پمز کی رپورٹ پر ہمارے ایکسپرٹ نے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں، بانی کو 2 ایکسپرٹ ڈاکٹرز کی رسائی دی جائے۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ جب نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کا مسئلہ ہوا تو بانی نے کہا کہ ان کا پراپر علاج کرائیں، نواز شریف کو چیک کرنے کی ان کے اپنے ڈاکٹرز کو بھی اجازت تھی، بانیٔ پی ٹی آئی کے ڈاکٹرز کو آج ہی ملاقات کی اجازت دیں، چئیرمین! آپ پمز کو کہیں کہ وہ بانیٔ پی ٹی آئی کی رپورٹ دیں تاکہ ہم اسے پبلک کریں۔

ایوان سے خطاب میں وزیرِ قانون اعظم تارڑ نے جواب میں کہا کہ انڈر ٹرائل قیدی کی ٹرائل کورٹ کے پاس کسٹڈی ہوتی ہے، مجرم جو اپیل میں ہو وہ اپیلٹ کورٹ کی کسٹڈی میں ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے، پمز ایک بڑا ادارہ ہے، اسلام آباد کے بہترین اسپتالوں میں سے ہے، بانی کا پروسیجر اڈیالہ جیل اسپتال میں ہو سکتا تھا، بانی نے خود کہا کہ ان کا پمز میں پروسیجر کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت باکل ٹھیک ہے، ان کا پروسیجر کامیاب ہے، اس میں ٹیکہ لگتا ہے، آپریشن نہیں ہوتا، کوئی مزید پیچیدگی نہیں، 60 سال کے بعد یہ ایک عام ایشو ہے، بانی 74 سال کے ہیں، ایک انجیکشن لگتا ہے، وہ کئی لوگوں کو لگا ہے، بانی نے خود کہا کہ کوئی امن و امان کا مسئلہ ہو سکتا ہے تو انہیں شام کو لے جائیں، بانی نے خود کہا کہ مجھے پمز لے جائیں، پمز کے ڈاکٹرز نے انہیں چیک کر کے کہا کہ اچھی پیش رفت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللّٰہ کو جب گرفتار کیا گیا تھا اس سے قبل ان کو آنکھ کا فالج ہوا تھا، رانا ثناء اللّٰہ لاہور سے اسپتال جا رہے تھے، مجسٹریٹ نے ان کا جوڈیشل کر دیا، رانا ثناء اللّٰہ کو 52 ڈگری سینٹی گریڈ کی جیل میں رکھا جاتا تھا، اس وقت کے وزیرِ اعظم کی ہدایت پر رانا ثناء اللّٰہ کو جیل ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی گئی تھی، ابھی وزیرِ اعظم نے تو نہیں کہا کہ بانی کو ڈاکٹرز اور علاج تک رسائی نہ دی جائے، وزیرِ اعظم انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں۔

وزیرِ قانون نے کہا کہ آئین ہر شخص کو حقوق دیتا ہے، قانونی پراسس کے ذریعے اوپن ٹرائل کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم کو اینٹی کرپشن کیس میں سزا ہوئی، وہ ایک گرفتار قیدی ہیں، انڈر ٹرائل نہیں ہیں، ہیرے جواہرات خریدنے کے کیس میں بھی انہیں سزا ہوئی، انہیں 2 کیسز میں سزا ہوئی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کے جواب کے بعد پی ٹی آئی کے سینیٹرز ایوان سے چلے گئے۔

قومی خبریں سے مزید