سندھ حکومت کے محکمۂ تعلیم کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ نے کیمبرج انٹرنیشنل امتحانی نظام سے منسلک نجی اسکولوں کی جانب سے طلبہ کے داخلے منسوخ کرنے یا انہیں مجبوراً پرائیویٹ امیدوار کے طور پر امتحانات میں بٹھانے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
ایڈیشنل رجسٹرار پروفیسر رفیعہ ملاح کی جانب سے جاری کردہ گشتی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں جن کے مطابق برٹش کونسل آف پاکستان کے ذریعے کیمبرج انٹرنیشنل امتحانات (سی آئی ای) سے وابستہ اسکول مختلف وجوہات کی بنیاد پر طلبہ کو ریگولر امیدوار کے طور پر امتحان دینے سے روک دیتے ہیں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کی جانب سے عموماً طلبہ کی مطلوبہ حاضری پوری نہ ہونے یا اندرونی امتحانات میں غیر تسلی بخش کارکردگی کو جواز بنایا جاتا ہے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ اسکول اپنی داخلی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ تعلیمی سال کے دوران طلبہ سے مکمل اور بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں اور بعد ازاں بغیر مناسب جواز کے طلبہ کو پرائیویٹ امیدوار بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو طلبہ کو تعلیمی اور نفسیاتی نقصان سے دوچار کرتا ہے۔
محکمۂ تعلیم کے مطابق سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005ء کے تحت کسی بھی نجی ادارے کو داخلہ یا تسلسلِ تعلیم سے متعلق پالیسی بنانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ کی پیشگی منظوری لازم ہے جبکہ خود ساختہ یا غیر منظور شدہ پالیسیاں غیر قانونی اور کالعدم تصور ہوں گی۔
گشتی مراسلے میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ کمزور تعلیمی کارکردگی کی صورت میں ذمے داری طلبہ کے بجائے اسکول انتظامیہ اور تدریسی عملے پر عائد ہوتی ہے، جن کا فرض ہے کہ وہ مناسب تدریس، تعلیمی نگرانی اور اصلاحی معاونت فراہم کریں، طلبہ کو سزا کے طور پر پرائیویٹ امیدوار بنانا ادارہ جاتی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے ہدایت کی ہے کہ یہ عمل فوری طور پر بند کیا جائے، بصورتِ دیگر خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔