پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ ایک طرف کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی ہے، تو دوسری جانب لوگ معاشی مسائل کا شکار ہیں۔
اسلام آباد میں چوہدری منظور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف آپریشن پراداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پیپلز پارٹی اپنے ادراوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت زراعت کا بحران ہے، اس وقت کسان کی صورتِ حال خراب ہے، چاول کی ایکسورٹ 30 فیصد کم ہوگئی ہے، گندم امپورٹ کی گئی تو ہم نے شور مچایا کہ کسان کی کمر توڑ دی۔
ندیم افضل چن کا کہنا ہےکہ پنجاب حکومت نے کہا کسان مافیا ہے، ہم روٹی سستی کرنے لگے ہیں، آج گندم اور روٹی کیوں مہنگی ہے، ناقص پالیسیوں کی وجہ سے یہ بحران ہے، کونسا مافیا اس سے پیسہ کما رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوریا، ڈی اے پی اور تیل کی قیمتیں انٹرنیشنل قمیتوں پر خریدنے کے لیے تیار ہیں، آج پنجاب حکومت کسان کو اپنی فصل باہر نہیں جانے دے رہی۔ کینو، آلو، مکئی اور سبزیوں کا بحران ہے۔
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ریڑھیوں پر عام آدمی کو بھی سبزیاں مہنگی مل رہی ہیں، نہ کسان کو فائدہ ہو رہا ہے نہ عام آدمی کو، تو فائدہ کس کا ہو رہا ہے، سولر سسٹم سے سب کا فائدہ ہوا۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ سولر سسٹم کی وجہ سے بجلی سستی ہوئی روزگار چل پڑے تھے، اب نیپرا اور اداروں نے نیا فراڈ شروع کر دیا ہے، پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں مگر عوام کے ساتھ پہلے کھڑی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا پہلے عوام کے ساتھ پہلے معاہدہ ہے، پنجاب میں کسان مشکل میں ہے، زراعت کا شعبہ بحران میں ہے، پیپلز پارٹی کسان کے ساتھ ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو کسان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کسان کی بات کی، اگر اب کسان کے مسائل حل نہ ہوئے تو پھر کسان کے ساتھ سڑکوں پر کھڑے ہوں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری منظور کا کہنا ہے کہ مزدور، کسان، تنخواہ دار اور پینشنر کبھی پیسہ اپنے پاس نہیں رکھتے، یہ پاسکو، این ایف سی اور زرعی بینک کو بند کر رہے ہیں، یہ ادارے زراعت کو بہتر کر رہے ہیں۔
چوہدری منظور نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اس وقت زراعت کی صورتِ حال کیا ہے، جب کسان کے پاس گندم تھی، تو ریت 2 ہزار روپے من تھا، آج 4 ہزار ہے، آلو کا اس وقت سب سے بڑا بحران ہے۔