دنیا اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے توازن بدل رہے ہیں، عالمی نظام نئی صف بندیوں سے گزر رہا ہے، اور ریاستوں کیلئے محض بقا نہیں بلکہ باوقار موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ایسے میں ترکیہ کا 2026 کا قومی وژن محض ایک حکومتی دستاویز یا سیاسی تحریر نہیں، بلکہ یہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ترک صدی اب کس سمت میں آگے بڑھے گی۔ صدر ایردوان کی جانب سے پیش کردہ یہ وژن ایک ایسے دور میں سامنے آیا ہے جب علاقائی جنگیں، عالمی معاشی دباؤ، توانائی کے بحران اور سفارتی کشمکش دنیا کی سیاست کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 کیلئے ترکیہ کا یہ بیانیہ نہ صرف داخلی سطح پر اہم ہے بلکہ عالمی سیاست کے تناظر میں بھی غیر معمولی معنویت رکھتا ہے۔
صدر ایردوان کے مطابق 2026ءکی بنیاد کسی خلا میں نہیں رکھی گئی۔ یہ ان 23برسوں کا تسلسل ہے جن میں ترکیہ نے سیاسی عدم استحکام، فوجی بالادستی،معاشی کمزوری اور خارجہ انحصار جیسے مسائل سے نکل کر ایک نسبتاً خودمختار ریاست کی شکل اختیار کی۔ اس تناظر میں 2026ءکو محض ایک اور کیلنڈر سال کہنا درست نہیں، بلکہ یہ ترک صدی کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں حاصل شدہ تجربات کو فیصلہ کن نتائج میں ڈھالنے کا ارادہ واضح طور پر جھلکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدر ایردوان 2026 ءکے تمام اہداف کو ماضی کی اصلاحات اور خدمات سے جوڑتے ہیں۔ انکے نزدیک مستقبل کی تعمیر جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی تسلسل، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد سے ممکن ہے۔
2025 کو صدر ایردوان نے عالمی غیر یقینی کا سال قرار دیا، ایک ایسا سال جب عالمی تجارت، سلامتی اور سفارتکاری تینوں دباؤ کا شکار رہیں۔ مگر اسی ماحول میں ترکیہ نے جس نظم و ضبط اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا، وہ 2026 کے وژن کی بنیاد بنتا ہے۔صدر ایردوان کے وژن کا ایک مرکزی ستون خارجہ پالیسی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں طاقت کے بلاکس دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں، ترکیہ نے نہ مشرق سے تعلقات توڑنے کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی مغرب سے لاتعلقی کا۔ اسکے برعکس، ایک ترکیہ محورخارجہ پالیسی اپنائی گئی جسکی بنیاد خودمختاری، توازن اور اصول پسندی ہے۔2026ءمیں ترکیہ کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو تنازعات میں فریق بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے۔ یوکرین بحران سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک، ترکیہ نے خود کو ایک امن ساز قوت کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے۔ صدر ایردوان کے مطابق 2026 ءمیں ترکیہ بیک وقت تین سفارتی دائروں میں متحرک رہے گا۔ یورپی یونین کی مکمل رکنیت کا ہدف بدستور برقرار ہے۔
دوسری جانب، ترک ریاستوں کی تنظیم کے ساتھ سیاسی، معاشی اور دفاعی انضمام کو مستقبل کی ایک اہم ترجیح کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اسی طرح عالمِ اسلام کے ساتھ تعلقات کو محض علامتی نہیں بلکہ فعال اور نتیجہ خیز بنانے کا عزم بھی 2026ءکے وژن کا حصہ ہے۔معاشی میدان میں 2026ءکے وژن کا لہجہ دفاعی نہیں بلکہ پراعتماد ہے۔ صدر ایردوان کے مطابق عالمی معاشی دباؤ، افراطِ زر اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ترکیہ نے ترقی کا تسلسل برقرار رکھا۔ OECD ممالک میں تیسری تیز ترین معیشت بننا اور قومی آمدن کا1ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنا اسی اعتماد کا اظہار ہے اور سینٹرل بینک کے ذخائر کا 200ارب ڈالر سے تجاوز کرنا محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ مالی نظم و ضبط اور اعتماد کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہی معاشی استحکام 2026ءمیں مہنگائی کیخلاف فیصلہ کن اقدامات کی بنیاد بننے والا ہے۔صدر ایردوان کے وژن میں مہنگائی کے خلاف جدوجہد کو محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی انصاف سے جوڑا گیا ہے۔ 2026 کو اس لحاظ سے فیصلہ کن سال قرار دیا گیا ہے تاکہ افراطِ زر کو قابو میں لا کر عوام کی قوتِ خرید میں حقیقی اضافہ کیا جائے۔
ترکیہ کی 2025ء میں 273ارب ڈالر کی برآمدات اور تاریخی ریکارڈ قائم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ترکیہ نے عالمی طلب میں کمی کے باوجود اپنی پیداواری صلاحیت برقرار رکھی۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ ترکیہ خود کو صرف ایک منڈی نہیں بلکہ ایک پیداواری مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ایردوان کے مطابق ترک کنٹریکٹرز کی 138ممالک میں موجودگی محض معاشی کامیابی نہیں بلکہ ایک قسم کی خاموش سفارتکاری بھی ہے۔45 ترک کمپنیوں کا عالمی سطح پر سرفہرست اور دوسری بڑی قوت کے طور پر ابھرنا ترکیہ کی تکنیکی صلاحیت اور اعتماد کا مظہر ہے۔دفاعی صنعت میں پیش رفت کو صدر ایردوان نے قومی خودمختاری کے ساتھ جوڑا ہے۔ 2026 میں دفاعی صنعت کا سیریل پروڈکشن کے مرحلے میں داخل ہونا ترکیہ کو صارف نہیں بلکہ دفاعی سازو سامان تیار کرنیوالے ممالک میں شامل ہونا ایک بہت بڑا قدم ہے۔دہشت گردی سے پاک ترکیہ کا ہدف 2026 ءکے وژن میں ایک قومی عزم کے طور پر شامل ہے۔ اسے روزمرہ سیاست سے بالاتر رکھ کر پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اس مسئلے کو طویل المدتی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔صدر رجب طیب ایردوان کا پیش کردہ 2026 کا وژن دراصل ترکیہ کے قومی بیانیے کی ایک جامع شکل ہے۔ یہ وژن خودمختاری، استحکام، ترقی اور عالمی اثر و رسوخ کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ وژن کتنا پرکشش ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ترکیہ اس تسلسل، نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھ پائیگا جو اس وژن کی روح ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو 2026ءواقعی ترکیہ کیلئے ایک فیصلہ کن سال ثابت ہو سکتا ہے، ایک ایسا سال جو ترک صدی کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت میں بدل دے گا۔