• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سنسان سڑک ہو، تا حد نگاہ کوئی آبادی نہ ہو، ارد گرد سنگلاخ پہاڑ ہوں اور سامنے چٹیل میدان۔ دوستوں کا ساتھ ہو، آوارہ گردی کا موڈ ہو اور کام سے فراغت ہو۔ کشادہ گاڑی ہو، پٹرول کے کنستر ہوں اور کھانے پینے کا سامان ہو۔ اور پھر کئی میل کی مسافت کے بعد یکدم ایک سروس ایریا آ جائے جہاں آ کر لگے کہ ہم دوبارہ مہذب دنیا میں داخل ہو گئے ہیں، گویا ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔ ایسا سفر کرنا میرا ایک خواب تھا/ہے اور یہ خواب بلوچستان میں پورا ہو سکتا تھا۔ کئی مرتبہ منصوبہ بنایا، مختلف اضلاع میں مہمان خانے مختص کروا لیے اور نقشہ سامنے رکھ کر اُن شاہراہوں کی نشاندہی بھی کر لی جن سے گزر کر یہ خواب حقیقت میں بدل سکتا تھا مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی مصروفیت آڑے آ گئی۔ ایک آدھ مرتبہ تو ہمارے مہربان دوست عامر رانا نے اِس منصوبے کو سامنے رکھ کر باقاعدہ روڈ میپ بھی تشکیل دے دیا مگر دو ٹکے کی نوکری کی وجہ سے ہم نہ جا سکے، اور اب پتا نہیں کبھی جا سکیں گے یا نہیں۔

دل اداس ہے، بلوچستان کی وجہ سے۔جب تک بات احساس محرومی کی تھی تب تک پنجاب اور دیگر صوبوں کے لکھاری، دانشور اور عام لوگوں کی ہمدردیاں ناراض بلوچوں کیساتھ تھیں، مگر جب سے شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابیوں کا قتل عام شروع ہوا ہے اور دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے بے گناہ اور معصوم شہریوں کو بم دھماکوں میں اڑانا شروع کیا ہے تب سے بلوچ کاز کا جنازہ نکل گیا ہے، دنیا کی کوئی دلیل اُن حملوں کا جواز فراہم نہیں کر سکتی جو اسکولوں، بازاروں اور دفاتر میں عام شہریوں پر کیے جاتے ہیں۔ شیکسپیئر نے کہا تھا ”کچھ لوگ پیدائشی طور پر عظیم ہوتے ہیں، کچھ اپنی محنت سے عظمت حاصل کرتے ہیں اور کچھ پر عظمت زبردستی مسلط کر دی جاتی ہے۔“ اِس مکالمے میں تھوڑی سی ترمیم کے بعد عرض ہے کہ ”کچھ دہشت گرد تنظیمیں طویل وقت لے لیتی ہیں، کچھ تھک ہار کر دم توڑ دیتی ہیں اور کچھ کو زبردستی تھکا کر مارا جاتا ہے، مگر انجام سب کا ایک جیسا ہوتا ہے۔“ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی دہشت گرد تنظیم ہو جو ریاستی رِٹ کے سامنے ٹِک سکی ہو۔ جب ریاست فیصلہ کر لے کہ اب ابہام نہیں، تذبذب نہیں اور بندوق کے ذریعے سیاست کی اجازت نہیں، تو پھر مسلح گروہ یا تو تحلیل ہو جاتے ہیں یا تاریخ کے حاشیوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ اور پاکستانی ریاست نے تو یہ کام نہایت کامیابی کے ساتھ ماضی قریب میں کیا ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے اِس ملک میں خود کش دھماکے ہوتے تھے، ہم سوچتے تھے کہ نہ جانے ہماری زندگیاں نارمل کب ہوں گی، ہر عید خون سے رنگین ہوا کرتی تھی، لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے دہشت گردی کا قلع قمع کیا گیا۔ یہ شورش دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور اسے ایک مرتبہ پھر اسی طرح کچلنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان چلتے ہیں۔ یہ کوئی یک رنگ، یک زبان یا یک قومی خطہ نہیں، اِس صوبے کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے مگر کوئی ایک لسانی گروہ پورے صوبے کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ بلوچ آبادی کئی زبانیں بولتی ہے اور اُن میں سے ایک بڑی آبادی ایسی ہے جس کا نسلی، لسانی اور سماجی تعلق ہی اُس علیحدگی پسند بیانیے سے نہیں بنتا جسے آج کچھ دہشت گرد تنظیمیں پورے صوبے کی آواز بنا کر پیش کرتی ہیں۔ اگر دور کی عینک لگا کر صوبے کے اضلاع کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ شمالی بلوچستان کے بڑے حصے، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب، لورالائی، زیارت اور خود کوئٹہ، پشتون اکثریتی علاقے ہیں جہاں نہ علیحدگی کا بیانیہ مقبول ہے اور نہ ہی مسلح بغاوت کی کوئی سنجیدہ حمایت ہے۔ یہ علاقے دہائیوں سے قومی سیاست، پارلیمانی عمل اور آئینی جدوجہد کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر بلوچستان کی شورش واقعی ”صوبے کی تحریک“ ہوتی تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ آبادی کا اتنا بڑا اور جغرافیائی طور پر اہم حصہ اس سے لاتعلق رہتا۔ دوسری طرف وہ اضلاع جہاں بلوچی یا براہوی زبان بولی جاتی ہے، جیسے مکران، آواران، پنجگور، کیچ، خضدار، قلات، مستونگ یا واشک۔ وہاں بھی تصویر یکساں نہیں۔ یہاں بھی ہر بلوچ، ہر براہوی یا ہر قبیلہ مسلح جدوجہد کا حامی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں بھی اکثریت کی سیاسی خواہشات روزگار، تعلیم، ترقی اور عزتِ نفس کے گرد گھومتی ہیں نہ کہ علیحدگی یا ریاست سے جنگ کے گرد۔ اس کے باوجود ایک محدود دہشت گرد گروہ خود کو پورے بلوچستان کا ترجمان قرار دے کر ایک ایسے بیانیے کو زندہ رکھنے کی کو شش کر رہا ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن بات اتنی سادہ بھی نہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں عوامی حمایت کے بغیر بھی محض گوریلا جنگ کی تکنیک استعمال کرکے سیکورٹی اداروں کو مصروف رکھ سکتی ہیں۔

یہ منظرنامہ دنیا کے دیگر ممالک میں دیکھی گئی مسلح تحریکوں سے حیرت انگیز حد تک ملتا جلتا ہے۔ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز نے بھی یہی دعویٰ کیا تھا کہ وہ تمام تامل عوام کی آواز ہیں اور کولمبیا میں FARC نصف صدی تک یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہ کسانوں، محروم طبقات اور ریاستی ناانصافی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، مگر دونوں کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔ بلوچستان میں بھی اصل سوال یہی ہے کہ کیا ایک دہشت گرد ٹولے کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ صوبے کی کثیر النسلی، کثیر لسانی آبادی کو یرغمال بنا لے؟ کیا پشتون اکثریتی اضلاع، شہری بلوچ، دیگر لسانی گروہ اور قبائل یا وہ بلوچ جو پاکستان کے اندر سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، سب کو ایک ایسے بیانیے میں ضم کر دیا جائے جسے انہوں نے کبھی اختیار ہی نہیں کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ بی ایل اے یا اس جیسے گروہوں کو بلوچستان کی اکثریتی آبادی کی تائید حاصل نہیں۔ ان کی طاقت کا اصل انحصار ہتھیار، خوف اور ایک مصنوعی بیانیے پر ہے، نہ کہ عوامی مینڈیٹ پر۔ عامر رانا، جو اِن امور پر اتھارٹی رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بی ایل اےنے باقاعدہ بیان جاری کیا کہ اگر بھارت مشرقی سرحد سے حملہ کرے تو مغربی سرحد سے بی ایل اے اُس کا ساتھ دے کر(خاکم بدہن)پاکستان کو توڑ دے گا۔ بھارت کے ساتھ مئی ۲۰۲۵ میں جو پاکستانی فوج نے کر دیا، اُس کے بعد تو وہ اب کئی برس تک اپنے زخم چاٹتا رہے گا، اور رہی بات بی ایل اے کی تو دنیا کی کوئی تحریک ایسی نہیں جو عوامی حمایت کے بغیر محض کسی بیرونی طاقت کے بل بوتے پر کامیاب ہو جائے۔ تاریخ کا یہی سبق ہے۔

سنسان سڑک ہو، تا حد نگاہ کوئی آبادی نہ ہو، ارد گرد بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ ہوں اور سامنےچٹیل میدان ہو۔ کون کافر ہوگا جو یہ رومان انگیز سفر نہ کرنا چاہے گا۔ یار زندہ صحبت باقی، یہ خواب پورا ہوگا۔

تازہ ترین