کشمیر کی وادی ِجنت نظیر!تجھے تو نوے کی دہائی کے وہ ابتدائی دن یاد ہونگے نا جب وادی کے اُس پار سےکشمیری نوجوانوں نے جہاد افغانستان سے نئے ولولے پانے کیلئے بڑی تعدادمیں اونچے بر فیلے پہاڑی راستوں کو طے کرتے ہوئےاِس پارآتے کتنے نوجوان جانیں ہارگئے اور کتنے فراسٹ بائٹ کا شکار ہو کر اپنے ہاتھوں اور پیروں سے محروم ہو بیٹھے ۔جماعت اسلامی نے اپنےکارکنان اور قائد قاضی حسین احمدؒ کی قیادت میں دیدئہ و دل فرش راہ کر دئیے۔محترم الیف الدین ترابی صاحب ان دنوں سعودی عرب سےتعلیم مکمل کر کے منصورہ آئے تھے ۔وہ اکثر کہتے کہ وادی میں تحریک آزادی کی نئی لہر اٹھی ہے، گاہے بہت سی باتوں پر اتنا یقین نہ آتا کہ اچانک ایک موسم سرما میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان آن پہنچے اور انکے لئے جماعت اسلامی نے پوری قوم سے مدد کیلئے اپیل کر دی ۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی کہتے ہیں کہ ،میں اور ڈاکٹر ایوب ٹھاکر قاضی صاحب سےملنے منصورہ آئے تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کشمیر کی تاریخ میں کون سا ایسادن ہے کہ جسکو ہم پاکستان میں منا سکیں، میں نے کہا کہ 5جنوری۔5جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کے پاک و ہند کمیشن نے کشمیر پر قرارداد پاس کی اور دوسری 21 اپریل 1948ء جب سلامتی کونسل نے کشمیر پر قرارداد نمبر 47 قبول کی، ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ آغا جان نے کہا کہ پانچ جنوری تو بہت قریب ہے، لیکن ہم ان شاء اللہ 5فروری کو اس دن کا اعلان کرتے ہیں اور ہمارے پاس تیاری کیلئے یہ مہینہ ہے ۔ پھر وہ ہمیں عبداللہ عمر نصیف جو رابطہ عالم اسلامی کےسیکرٹری جنرل تھے اور میاں نوازشریف کے پاس بیٹھے تھے، ملاقات کیلئے لےکر گئےاور ان کو کہا کہ ہم کشمیرکیلئے پورے عالم اسلامی کو متحرک کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی، انکی خواہش تھی کہ بے نظیر بھٹو ہی اسکااعلان کریں۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ کس قدر بے لوث انسان ہیں کہ اللہ نے انھیں موقع دیا ہے مگر یہ دوسروں کو آگے کر رہے ہیں۔ لہٰذا بے نظیر صاحبہ اور نواز شریف صاحب نے مرکزی طور پر بھی 5 فروری کو یوم کشمیر منانے کے اعلان کو قبول کیا اور یوں یہ اعزاز جماعت اسلامی اور قاضی حسین احمدؒ کو ملا کہ انھوں نے 5فروری کو یوم کشمیر کی روایت کا آغاز کیا۔
جماعت اسلامی کی قیادت نے ہیلی کاپٹر کرایے پہ لے کر ایک ہی دن میں لاہور ، اسلام آباد ، مظفرآباد اور کراچی میں یوم کشمیر کی ریلیوں سے خطاب کیا ۔قاضی حسین احمدؒ نے انھی دنوں سینٹ کے ممبران کا ایک آل پارٹیز وفد بنا کر دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور سربراہان مملکت سے لے کر پارلیمانی وفود کے ساتھ تبادلہ خیال اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ۔ترکی کے صدر ترگت اوزال کے متعلق آغا جان بتاتے تھے کہ ان سے آدھا گھنٹہ ملاقات طے تھی مگر انکی مسئلہ کشمیر سے دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ ہم تین گھنٹے بات چیت کرتےرہے۔اس زمانے میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی سیکرٹری جنرل محترمہ عائشہ منور پاکستان کے مختلف شہروں سے خواتین کے وفود بناکر کشمیر کے دورے پر جاتیں، مقبوضہ وادی سے آئے لوگوں کے احوال سنتیں اور دامے ، درمے ، سخنے مدد کرتیں۔مال روڈ لاہور پر جماعت اسلامی کا جلوس اور پھر جلسہ قابل دید ہوتا ۔تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی شرکت آج بھی یاد ہے ۔نوابزادہ نصراللہ کی نپی تلی تقریر ذہن میں آج بھی تازہ ہے ۔کشمیر کیلئے میری امی نے اپنے سارے گہنے آغاجان کو لاکر دے دیئے تھے کہ جب پوری قوم سے اپیل کر رہے ہیںتو میرے زیور سب سے پہلے وصول کریں۔ ان دنوں خواتین کا جذبہ بے مثال تھا۔
آج اسی جذبے کو پھر سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ جنت نظیروادی کو جہنم کی آگ کی طرح نہ جلاؤ۔ یہ وادی جسے ایشیا کا دل کہا جاتا ہے۔ جو تین نیوکلیئر طاقتوں پاکستان، چائنہ اور بھارت کے سنگم پر واقع ہے، جسکی سرحدیں دنیا کے چھ ممالک پاکستان،انڈیا، چین، افغانستان ، کرغیزستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی دونوں لحاظ سے پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور جسکیلئے سلامتی کونسل کی قرارد دیںموجود ہیں جسکی تائید امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے کی تھی کہ کشمیر کا مستقبل وہاں کے باشندوں کی مرضی کے مطابق طے کیا جائیگا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ان گزشتہ ستر برسوں میں مذاکرات کے تقریباََ ڈیڑھ سو سے زیادہ ادوار ہوئے مگر کوئی نتیجہ خیز فیصلہ کبھی منظر عام پر نہ آسکا۔کشمیریوں کی پانچ نسلیں غلامی کی زنجیریں توڑنے کی جدوجہد میں عمریں گزار چکیں مگر کوئی کسی قوم کو کیسے غلام بنا سکتا ہے جبکہ انکی ماؤںنے انھیں آزاد جنا ہو۔بھارت اس حقیقت کو جتنا جلدی جان لے، اتنا ہی بہتر ہوگا کہ کوئی بھی کشمیر کا سودا نہیں کرسکتا۔ہم سب جتنا جلدی مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی طرف قدم اٹھائیں اتنا ہی اس خطے کی ترقیکیلئےمفید ہوگا، آئیں مظلوم کشمیری قوم کو اسکا حق خودارادیت دے کر اپنے اپنے ملکوں میں غریب عوام کی بنیادضرورتوں اور معاشی استحکام پر توجہ دیں ورنہ ایٹمی اسلحوں کے انبار پر بیٹھایہ خطہ، اللہ کی پناہ، کہیں بھسم نہ ہوجائے۔ کشمیر کو ہماری پانچ فروری کی وقتی ہمدردی نہیں ، ہماری جاگتی ہوئی فکر، مسلسل آواز اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم ثابت قدم رہے تو زنجیریں خود کمزور پڑنے لگیں گی۔کشمیر آج بھی ایک صدا ہے جو ہمارے ضمیروں سے ٹکرارہی ہے۔ یہ صدا کسی ایک دن کو گونج نہیں چاہتی ، بلکہ ایک ایسی نسل کا جواب مانگتی ہے جو سچ کو اپنے لہجے، اپنے الفاظ اور اپنے عمل میں ڈھال لے۔ پانچ فروری اگر ہمیں یہ ہمت دے دے کہ ہم ہر دن حق کے ساتھ کھڑےرہیں ، تو یہی دن ایک تاریخ بن جائے گا۔ ورنہ دن گزرتے رہتے ہیں، مگر سوال زندہ رہتے ہیں۔ کشمیر بھی ایک سوال ہے اور اب یہ سوال ہم سب سے جواب مانگ رہا ہے۔