غالب عاشق تھا،سو پشتوں سے سپاہی ہونے پر فخر کرتا تھا مگر سمجھتا تھا کہ اب نئے حاکم جو آئے ہیں ان کےپاس ٹیکنالوجی،وردی اور حکمت عملی بھی نئی ہے اس لئے دلی ،آگرہ میں رہ کر بھی وہ کلکتہ کے سفرکو یاد کرتا رہا جس میں ایک ہندو لڑکی نے اس کی پھنسیوں پر مرہم تو رکھا مگر میر ؔکے وقت سے پکنے والے دل کے پھوڑے پر بھی کچھ ایسا نشتر چلایا کہ امیر خسرو کی طرح کالے رنگ سے پرہیز کے باوجود ایک زمیں زاد کے لئے فارسی میں مثنوی کہہ ڈالی۔ اسی غالب کو اپنی معشوق فریبی پر بھی ناز تھا،جانتا تھا کہ مجنوں،لیلیٰ پر مرتا تھا ،وہ ہمارے رئوف پاریکھ کی طرح لغت میں دلچسپی رکھتا تھا اس لئے واقف تھا کہ لیلیٰ کالے رنگ کی تھی مگر مجنوں کیلئے سب کچھ تھی ۔غالب کو بھی لطف آتا تھا جب لیلیٰ بھی اس کے آگے مجنوں کی شکایتیں کرنے بیٹھ جاتی شاید اسی لئے اسے شیریں فرہاد کے مقابلے پرلیلیٰ مجنوں کا قصہ زیادہ پسند تھا شاید وہ جانتا تھا کہ ملکہ زیادہ تر بادشاہ کے اشارے پر فرہاد جیسے عاشق ڈھونڈتی ہے جو بلامعاوضہ بے ستوں پہاڑ کھود کر میٹھے پانی کی نہر بادشاہ کے محل تک پہنچا دیں۔ وہیں عاشقوں پر ہنستی کنیزوں کے قہقہوں کی کھنک بھی قصے کی غنائیت میں شامل ہو جاتی سو کلامِ غالب میں جہاں بھی مجنوں آتا ہے صحرا بھی اس کی دیوانگی کی وسعت سے شرما جاتا ہے۔
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا میرے ہوتے
گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا میرے آگے
(اے معلمو! مجھے نہ بتائو کہ اس میں کون کون سی صنعت آئی ہے) تاہم عاشق کو کل زمانوں اور مکانوں کے عاشقوں کی اوقات سے واقف کرنے کیلئے ایک دشت تو چاہئے،ہمارے خواجہ فرید ہوں،سچل سرمست یا مست توکلی(جو کوئی توکلی تو طوق علی بناتا ہے ہمارا شاہ مری اس کا تعاقب سنگ در دست ہوکے کرتا ہے) ایک تو عاشق ہو یا معشوق حتیٰ کہ رقیب کی بھی دھاڑ ادھر سے ادھر گونجتی ہے،دوسرے وہاں واعظ کی نگاہِ سقم شناس نہیں پہنچتی( ’نگاہ سقم شناس‘ کی ترکیب کیلئے وجاہت مسعود کا شکریہ) تیسرے نئے مجنوں کے دعوے اپنی جگہ پر کچھ عرصے کے بعد ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنا سچا تھا ،مخلص تھا اپنے عزم اوروعدے کے ساتھ۔ یہ سب باتیں مجھے یاد آ رہی ہیں کہ تھل کے ریگ زار میں ایک یونیورسٹی بنائی گئی ہے جسے ابتدا میں سرگودھا یونیورسٹی کے بھکر کیمپس کا درجہ حاصل تھا،آج اس کی باگ ڈور فزکس کے استاد ڈاکٹر سعید احمد بزدار کے ہاتھ میں ہے۔میں نے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ10 جولائی 2006ءمیں ملتان کے نواح میں گرنے والے فوکر طیارے کا حادثہ ڈاکٹر افتخار راجہ جیسے نیورو سرجن کے ساتھ دو بہت نیک نام جج،زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نصیر خان کیساتھ میرے اس مخلص کلاس فیلو ڈاکٹر عبدالرئوف کو بھی ہماری دنیا سے بہت دور لے گیا۔ڈاکٹربزدار نے پوچھا رئوف شیخ کے کچھ اور کوائف ، تصویر اور کتابوں کے نام؟ میں نے لکھا وہ چنیوٹ سے انیس سو تریسٹھ میں میٹرک کرکے ملتان آیا،ہم دونوں نے ایف اے،بی اے،ایم اے ایک ہی درس گاہ سے کیا،حتیٰ کہ مفلسی میں پہلا عشق بھی ایک ساتھ کیا (الگ الگ لڑکیوں سے)،کلاس مختصر تھی مگر کلاس فیلو کچھ زیادہ تھے رول نمبروں کے بغیرتین استادوں کے چھوٹے بھائی بھی انہی میں سے تھے،ایک برقع پوش کھنکتی ہنسی کی لڑکی بھی تھی جو باقاعدہ طالب علم نہیں تھی مگر اپنی بے باکی سے امیر زادی لگتی تھی،ویسے تونامور شاعر صادق مصور کی ایک بیٹی بھی ہماری کلاس فیلو تھی ۔ ہم اپنی اس کلاس فیلو کی شاعری سے مرعوب نہیں ہوتے تھے تاہم بعد میں ضیا دور میں چھ ماہ شاہی قلعے میں زیر تفتیش؍ تشدد رہنے والے کامریڈ صلاح الدین حیدر انہیں داد دینے کیلئے وہاں جاتے تھے ۔ہمارا ایک کلاس فیلو غلام فخرالدین بلوچ تھا ۔ فاطمہ جناح صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے مقابل آئیں تو پھر فیلڈ مارشل کی ہیبت کے دانت گرنے لگے، جنگ پینسٹھ میں گوہر الطاف نے ریڈیو پاکستان کے خبرنامے،اشفاق احمد کے تلقین شاہ ، جمیل الدین عالی کے قومی نغموں نے ایک طرح سے ایوب خان کو غازی ایوب خان بنا دیا تھا مگر تاشقند معاہدے نےکچھ ایسے راز فاش کئے جن سے ہمارے ڈکٹیٹر کا ہار سنگھار،مسّی،کجلے کی دھار کچھ عجیب طرح سے اتاری کہ تب کراچی ،ڈھاکہ ،پشاور،لاہور کے ساتھ ملتان میں طالب علموں میں ایک جیسا اشتعال پایا گیا اس دور میں ہمارا فخر بلوچ اسٹوڈنٹ یونین کا صدر ہو گیا۔تاشقند معاہدے کے پہلے شہید جودت کامران کی یادگار بنا دی گئی،جو کرکٹ کھیلتا تھا،بہت اسمارٹ تھا ہم سے دو تین کلاس جونیئر تھا تاہم فخر بلوچ نے ننگے پائوں گرلز کالج ملتان کے قریب قائم اس یادگار پرایسے حاضری دی کہ لڑکیوں نے راہ کو پھولوں کی پتیوں سے ہی مزین نہیں کیا بلکہ اپنے بال کھول کر سودائیوں کی طرح بچھ گئیں ۔ فخر کی ہی تجویز پر رئوف اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا کہ ہم تینوں میں سے جسے پہلے ملازمت ملی وہ ایک تہائی اپنے لئے رکھ کے باقی دوضرورت مند بے روزگاروں کو بھیج دے گا۔ اب ہوا یہ کہ ہم تینوں میں سے فخر بلوچ کو ہفت روزہ شہاب میں پہلے نوکری ملی مگر اس نے ایک درد ناک خط لکھ کے خود کو وعدےسے آزاد کرایا’’ یارو! میں ایک لڑکی سے دوسری مرتبہ عشق کر بیٹھا ہوں اس لئے انگوٹھی دوبارہ بنوانی پڑی ہے وغیرہ وغیرہ‘‘ادھررئوف شیخ کے ایک رشتہ دار چنیوٹی سیٹھ نے کراچی کی ایک فیکٹری (ٹافیاں اور ڈبل روٹی بنانے والی) میں اسے تین سو چوہتر روپے ماہوار پر ملازم رکھا،ایک ماہ کے بعد رئوف شیخ نے منی آرڈر کے ذریعے مجھے ایک سو ستاسی روپے بھیج دئیے،سو ڈاکٹر سعید احمد بزدار اگر آپ اپنے کتب خانے میں گوشہ عبدالرئوف شیخ بنا دیں تو میں ایک سو ستاسی روپے کا کچھ قرض اتار سکوں۔
خواجہ فرید کی ایک کافی کے دو بیت سن لیجئے(اوڑک کا مطلب ہے آخر کار)
لائی دلڑی چوٹ اندر دی
وِسری سیجھ رنگیلی گھر دی
رُلدی ریت تتی تھل بر دی
اوڑک موت نصیب تھیوسے