پنجاب میں 18سال کے بعد نئے سرے سے بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے جس پر عوام کے مختلف طبقوں میں ملا جلا ردِعمل پایا جاتا ہے کیونکہ 18 سال پہلے جب اس تہوار پر پابندی عائد کی گئی تھی تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کیمیکلز لگی اور دھاتی ڈور سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی تھیں اور یہ تہوار جو بسنت بہار کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ خونی بسنت کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ بسنت اس خطے یعنی برصغیر پاک و ہند کا ایک موسمی تہوار ہے جسے بہار کی آمد کی نسبت سے بسنت بہار بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ موسم سرما کے خاتمے کی نشانی ہونے کی وجہ سے ’’بسنت پالا اڑنت‘‘بھی کہلاتا ہے۔ چونکہ بہار کا موسم تمام موسموں کا سردار ہوتا ہے اس لیے اس کی آمد کا اہتمام رنگ برنگے کپڑوں ،کھانوں اور پتنگوں سے اس طرح کیا جاتا ہے کہ زمین پر رنگ برنگے پھولوں کی طرح آسمان بھی رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا ہے۔ سرسوں کے پھولوں کی نسبت سے، جو اس موسم کی مخصوص فصل ہے۔
پیلا رنگ ان رنگوں میں نمایاں ہوتا ہے اس لیے پیلے اور گیروے رنگ کو بسنتی رنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس رنگ کو شاعری میں حریت اور بغاوت کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک دلفریب منظر ہوتا ہے اور دوستوں اور رشتہ داروں اور دیگر جاننے والوں کے ساتھ ایسا وقت گزارنا ایک یادگار موقع بن جاتا ہے۔ ہمارے بچپن میں تو پتنگیں بسنت کے مخصوص دنوں کے علاوہ سردیوں کے پورے موسم میں اڑائی جاتی تھیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج سے 50سال پہلے عیدوں کے علاوہ چند ایک ہی ایسے تہوار تھے جن کو بڑے ذوق و شوق سے منایا جاتا تھا اور ان میں سے ایک تہوار بسنت کا ہوتا تھا جس میں پتنگیں اڑانے اور لڑانے کے ساتھ ساتھ روایتی کھانوں کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں سردیوں کے موسم میں فیملی کی خواتین اور بچے اپنے دن کا زیادہ وقت اپنے گھروں کی چھتوں پر دھوپ میں گزارتے تھے ۔
اس لئے بچے اور نوجوان چھتوں پر پتنگ بازی سے لطف اندوز ہوتے رہتے تھے۔ چونکہ پرانے شہر میں گھر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے تھے لہٰذا چھتوں پر پتنگیں لوٹنے کیلئے نوجوانوں کی آمد و رفت بھی جاری رہتی تھی۔ جس میں لڑائی جھگڑے بھی ہوتے تھے اور حادثے بھی۔ جن میں بعض اوقات جانی نقصان بھی ہوتا تھا۔
مجھے بھی پتنگ بازی کا بڑا شوق تھا اور اسی شوق میں میرے ساتھ ایک خوفناک حادثہ بھی پیش آیا۔ وہ اس طرح کہ ہم لوگ اپنے گھروں کی سب سے اونچی چھت جسے عام طور پر ممٹی کہا جاتا ہے جو (Stair case) یعنی سیڑھیوں کی چھت ہوتی ہے اس پر چڑھ کر پتنگ بازی کرتے تھے اسی چھت پر کھڑے میرے پاس سے کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور گزری تو میں نے وہ ڈور پکڑنے کیلئے ادھر ادھر دیکھے بغیر چھلانگ لگا دی اور سیدھا ممٹی کی چھت سے چھ سات فٹ نیچے دوسری چھت پر جا گرا۔ جس سے میرے دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور مجھے دو مہینے تک زیرِ علاج رہنا پڑا ۔یہی وجہ ہے کہ والدین اکثر بچوں کو پتنگ بازی سے منع کرتے تھے حالانکہ اس زمانے میں کیمیکلز یا دھاتی ڈور کا رواج نہ تھا لیکن بسنت اس وقت بھی بہت محفوظ اور خطرے سے خالی نہ تھی۔ بعد میں تو کیمیکلز لگی یا دھاتی ڈور کی وجہ سے اس تہوار کی خطرناکی میں مزید اضافہ ہو گیا اور خوشی کا یہ تہوار جان لیوا بن گیا ۔جسکی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی اور حکومت کو اس تہوار پر پابندی لگانی پڑی۔ اب پنجاب حکومت نے تقریباً 18 سال کے بعد دوبارہ اس تہوار پر پابندی اس امید کے ساتھ ختم کی ہے کہ لوگ کیمیکلز لگی یا دھاتی ڈور کا استعمال نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے موٹر بائکس پر حفاظتی راڈز کی پابندی بھی عائد کر دی ہے لیکن کیا یہ تمام حفاظتی اقدامات بسنت پر ہونے والے حادثوں کی روک تھام کر سکیں گے ؟ یہ جاننے کیلئے ہمیں کچھ تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یوں تو دنیا کے بہت سے ممالک خصوصاً مشرق بعید کے ممالک تھائی لینڈ ،جاپان اور کوریا میں بھی پتنگ بازی کی جاتی ہے لیکن وہاں کی پتنگ بازی اور ہمارے ہاں کی پتنگ بازی میں بہت فرق ہے وہاں صرف(kite flying )کائٹ فلائنگ ہوتی ہے یعنی پتنگیں اڑائی جاتی ہیں اور اس کے بعد انہیں اتار لیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں (kite fighting) کائٹ فائٹنگ ہوتی ہے یعنی پتنگیں لڑائی جاتی ہیں تاکہ مخالف کی پتنگیں کاٹی جا سکیں جہاں لڑائی ہو وہاں ہتھیاروں کی ضرورت پڑتی ہے چنانچہ پسے ہوئے شیشوں سے بنی ہوئی مانجھے اور کیمیکلز کی ڈوریں ہتھیاروں کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں بھی ڈوروں کے نام تلوار مارکہ اور خنجر مارکہ ہوا کرتے تھے کیونکہ دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے بعد ’’بو کاٹا‘‘ آوازیں سب سے زیادہ خوشی دیتی ہیں۔ کیا اس بسنت میں یہ روایت بدل جائے گی اور ہم پتنگیں لڑانے کی بجائے صرف پتنگیں اڑانے پر اکتفا کریں گے؟ اگر ایسا ہو تو یقیناً بسنت ایک محفوظ اور خوشیوں بھرا تہوار بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر سابقہ حادثوں کے خطرات برابر موجود رہیں گے۔آج کا شعر
محبت زخم دیتی ہے، محبت مار دیتی ہے
محبت سے بڑی دنیا میں راحت بھی نہیں ہوتی