• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے پر انتہاپسندوں کے سامنے کھڑا ہونیوالا شخص اسٹار بن گیا


بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے کے خلاف انتہا پسندوں کے آگے کھڑا ہونے والا مقامی ہندو شہری سوشل میڈیا اسٹار بن گیا۔

 بجرنگ دل کے کارکن مسلمان دکاندار کو اس کی دکان کا برسوں پرانا نام "بابا" تبدیل کرنے کے لیے دھمکا رہے تھے، جس پر دیپک کمار نامی شخص سامنے آیا۔

انتہا پسندوں کو اپنا نام محمد دیپک بتایا اور دلائل دے کر انتہاپسندوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، نفرت انگیزی کے خلاف اقدام پر دیپک کمار کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد ایک ہفتے میں 9 لاکھ سے اوپر چلی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق محمد دیپک دراصل دیپک کمار ہے، جو پیشے کے لحاظ سے ایک جم ٹرینر ہے۔ وہ واقعہ جس نے دیپک کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا، 26 جنوری 2026 کو پیش آیا۔

کوٹدوار میں بعض ہندو تنظیموں نے ایک کپڑوں کی دکان ’بابا اسکول گارمنٹس‘ کے نام پر اعتراض کیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ لفظ ’بابا‘ ہندو مذہبی روایت سے جڑا ہوا ہے اور کسی مسلمان دکاندار کو یہ نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

دکان کے مالک وکیل احمد کا کہنا تھا کہ ان کی دکان تقریباً 30 برس سے چل رہی ہے اور اس سے قبل کبھی کسی نے نام پر اعتراض نہیں کیا۔ ان کے مطابق لفظ ’بابا‘ مختلف مذاہب میں استعمال ہوتا ہے اور یہ صرف ہندو مذہب تک محدود نہیں۔

اسی دوران دیپک کمار نے مداخلت کی اور بجرنگ دل اور دیگر گروپوں کے افراد سے بات کی۔ جب حالات کشیدہ ہو گئے اور ان سے ان کی شناخت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنا تعارف محمد دیپک کے نام سے کروایا۔

دیپک کے مطابق جب بجرنگ دل کے چند افراد دکاندار سے سوالات کر رہے تھے اور نام پوچھے جا رہے تھے تو محمد دیپک کا نام بے ساختہ ان کے ذہن میں آیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ صرف ایک بھارتی شہری ہیں اور ہر انسان کو اس ملک میں بغیر نشانہ بنے جینے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے، کیونکہ موت کے بعد انسان کے اعمال ہی اس کی پہچان بنتے ہیں۔

دیپک کے مطابق 26 جنوری کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی ہے۔ انہیں مسلسل فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں سے اکثر حمایتی ہیں، تاہم اس صورتحال نے ان کے روزگار کو بھی متاثر کیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید