• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خودکُش حملہ آوروں کے بارے میں ڈاکیومنٹریاں بنی ہیں،ناول لکھے گئے،فلمیں بنی ہیں، نوحے، شہر آشوب، فتوے، گرفتاری، حتیٰ کہ تنقید کے نئے دبستان میں جب ایڈورڈ سعید، دریدا،فوکو کے ساتھ ٹیری ایگلٹن کی کتابوں کے ترجمے ہوئے تو ابتدا میں تعجب ہوا کہ بعض ویب سائٹس پر ٹیری ایگلٹن کو’’ٹیررسٹ ایگلٹن‘‘ لکھا ہوا ہے کہ اس نے ایک کتاب میں یونانیوں یعنی دیوتاؤں کے زمانے سے خودکش حملہ آوروں کے حق میں کچھ دیوتا دکھائے اور سوال کیا ان کو اس دنیا میں کیوں نہیں رہنے دیتے جو وہ چاہتے ہیں۔

عبدالحلیم شرر کے ناول ’فردوس بریں‘ میں حسن بن صباح جیسے فتنہ گر شیخ الجیل کے نیٹ ورک کا ہی نہیں تعارف کرایا گیا بلکہ بھنگ کے فلک پیما پیالے اور خوبصورت خواتین کو بطور حور اس جنت کی پکی نشانی بنا کے جیسے فدائین کو استعمال کیا جاتا ہے کوئی نصف صدی پہلے امریکی تعاون سے جہاد افغانستان کے پاکیزہ نام سے نوعمر فدائین کی بڑی کھیپ ہمارے دینی مدارس سے حاصل کی گئی اگر مجھے اجازت دیں تو کہوں بھٹو ہٹاؤ تحریک کو بھی مذہب کا ٹچ دیا گیا اور ملتان اس کا مرکز بنا کیونکہ یہاں بھٹو کے انتخابی حریف مولانا حامد علی خان کو دو مرتبہ شکست ہوئی اس لئے کالے منڈی،کبوتر منڈی اور گڑ منڈی کے روہتک، حصار کےتاجر کافی مشتعل تھے مگرکچھ لوگوں کو حیرت ہوئی جب قاسم العلوم اور انوار العلوم کے طالب علم بھی اس میں شریک ہوگئے۔ایک سہ پہرملتان کینٹ کی ایک سستی دکانِ مردانہ آرائش پر میں نے ڈیرہ اسمٰعیل خان کی سرائیکی میں دو نوعمر لڑکوں کی چُہلیں سنیں جو سرمے کے ساتھ عطر بھی خرید رہے تھے ان میں سے ایک کہہ رہاتھا

’’ متان اج ای شہادت تھی ونجے، استاد جی آدھن ایہہ سرمہ تے عطر حوراں کوں بہوں پسند اے اوہ اوکوں گُھٹ کے حا ں نال لیندن جنہا ں ایہہ عطر لایا ہووے تے سُرمہ پاتا ہووے۔‘‘

پھر لوگوں کی کئی کتابیں آئیں،ڈاکیومنٹریاں بنیں مجھے یاد ہے سرکاری میڈیا پر بھی دکھایا گیا کہ ان خود کش فدائین کو جن پہاڑیوں میں تربیت دی جاتی تھی ان پر جہاد،کفار اور حق و باطل کے حوالے سےآیات ربانی کے ساتھ ان کا ترجمہ اردو اور پشتو میں موجود تھا اور ساتھ ہی جنت کے مختلف طبقات کے نقشے تھے۔منو بھائی کے ساتھ مسعود اشعر نے ان پر کالم لکھے۔مسعود اشعر تب مشعل فاؤنڈیشن سے بھی وابستہ ہو گئے انہوں نے اس حوالے سے کچھ اہم کتابیں بھی ترجمہ کرائیں۔ہمارے پیارے دوست تنویر اقبال نظریاتی آدمی بھی تھے اور بہت تیزی سے ترجمہ کرتے تھے سو ایک دو کتابیں انہوں نے ترجمہ کیں نامور شیعہ شاعروں ،ادیبوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو بھی مارنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ۔تب بدقسمتی سےدو برادر ملک مدِ مقابل تھے سو کچھ اہل خبر نے اسے پراکسی وار کہا کچھ لشکروں کے نام رکھے گئے اور کچھ مسجدوں کے بھی نام رکھے گئے تب کچھ لوگ کہتے تھے کہ امریکی ڈالر شیعہ سنی تفریق بڑھانے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے کبیروالہ سے جھنگ تک اور دوسری طرف کوئٹہ اور پشاور کے کچھ علاقوں میں خود کش دھماکوں کے ساتھ گلگت اور بلتستان کی ہزارہ لیڈر شپ کو نشانہ بنایا جانے لگا۔

ہمارے دلوں میں آغا خان ٹرسٹ کے اسکول کالج اور ہسپتالوں کی بڑی عزت ہے کہ وہ بچیوں کی تعلیم اور زراعت اور تجارت پر توجہ دیتے ہیں مگر شاید اسی زمانے میں ایک کتاب میںاسماعیلی اسٹیٹ سے متعلق باتیں سن کر میں کافی پریشان ہوا اور’’ فردوسِ بریں‘‘ کو ایک مرتبہ پھر پڑھا پھر حشاشین نامی فلم آئی تو سادہ معاملات پیچیدہ تر نظر آنے لگے ہمارے شمالی علاقوں میں چرس اور حشیش جتنی وافر اور سستی ملتی ہے اس پر بھی کئی کہانیاں وجود میں آ گئیں۔ضیا الحق دور میں طالب علم تنظیموں میں کشیدگی ایسے آئی کہ ہوسٹلوں کے ناموں میں علی ہال بھی بدقسمتی سے’متنازعہ ‘ سمجھا جانے لگا کچھ طالب علم مجھ سے بھی بحث کرتے تھے کہ سرکار رسالت مآب کے بعد خلافت پر کس کا حق فائق تھا؟ میں انہیں کہتا تھا کہ کئی صدیوں پہلے کے معاملات پر بحث سے زیادہ اس پر توجہ دیں کہ جو ٹولہ آئینی راستے کو چھوڑ کے اب پاکستان پر قابض ہے کیا وہ جائز ہے؟ پھر دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ واریت کی آگ گلیوں محلوں تک آ گئی۔

آج نیٹ فلیکس نے بھارتی فلموں تک رسائی آسان بنادی ہے۔ آپ نےلیاری کے بارے میں فلم دُھریندر دیکھی ہو گی۔ اس میں رحمان ڈکیٹ ،منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ سے بڑھ کر اہم باتیں دو ہیں ایک تو یہ کہ بھارت کے فیصلہ ساز ادارے فیصلہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ہم زک پہنچا سکتے ہیں جب افغانستان کے تعاون سے طالبان کی شکل کے را کے تربیت یافتہ اہل کار ہم پاکستان میں داخل کریں جن کے ہاتھوں میں تسبیحیں ہوں ان کے نام مسلمانوں کے لئے متبرک ہوں دوسرے وہ تمام جدید ہتھیار چلا سکتے ہوں اور انہیں امریکی ڈالر چھاپنے کی سہولت ہو۔ ابھی دو دن پہلے اسلام آباد کی ایک امام بار گاہ میں خودکش حملے نے بہت سے لوگوں کو افسردہ کیا ہے اور کچھ بڑے سوال ہمارے پاسبانوں کے لئے پیدا کر دئیے ہیں۔ طاہرہ اقبال ہماری بہت جرات مند افسانہ نگار ہیں ان کے تازہ ترین افسانوی مجموعے ’’ بازار کا بُت ‘‘ میں ایک افسانہ ہے ’’دھول جمع دھول ‘‘ ۔میں ان کی اور ان کے پبلشر بُک کارنر جہلم کی اجازت سے ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں:

’’ گل خان کو یہی معلوم تھا جو کچھ کہیں گی جنتی حوریں ہی کہیں گی جو اس قدر حسین ہوں گی کہ جنتی ستر برس تک بس ایک ٹک دیکھتا رہے گا تب وہ عرض گزاریں گی کہ حضور میں تو، آپ کی جائز منکوحہ ہوں کیا آپ صرف دیکھتے رہیں گے؟…نادان ! حور کبھی معذور نہیں ہوتی،کبھی کسی حور کا بازو بمباری میں نہیں اڑتا،وہ برقعے میں چھپی ہوئی نہیں ہوتی…مر نہیں گئی ۔ شہید ہو گئی ہے،یوں بھی اس زندگی کا کیا،جب سینے میں کھدی قبروں میں وہ جیتے جی روز دفن ہوتی رہی ‘‘۔

تازہ ترین