• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ٹرمپ کے اس BoP کے Concept کے حوالے سے ہم پاکستانی لکیر کی کس سائیڈ پر کھڑے ہوں؟ یہ صحیح معنوں میں مشکل ترین فیصلہ ہے۔ لکیر کراس کر کے ٹرمپ کی طرف چلے جائیں یا کہ لکیر کی دوسری جانب رہیں۔ دونوں سائیڈوں کے حق میں اور خلاف خاصے وزن دار دلائل موجودہیں۔ یقینا اسی طرح کے فیصلوں کو مشکل فیصلے کہا جاتاہے۔ لیکن قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتےہیں کہ جب مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

تاہم متعلقہ دلائل کا مزید تجزیہ کرنے سے قبل یہ بات ذہن نشیں کر لینا چاہئے کہ حکومت پاکستان نے واضح کر دیاہے کہ اس بورڈ کا ممبر بننےکا واحد مقصد غزہ کی تعمیرٍنو میں مدددینا ہے۔ اور اس بورڈ کی ممبرشپ پاکستان کو کسی صورت میں بھی معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ مزید یہ کہ یہ بورڈ اقوامٍ متحدہ کے معاون کا کردار ادا کرے گا نہ کہ اس کے متوازی تنظیم کا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں وزیراعظم شہباز شریف کا BoP کے چارٹر پر دستخطوں کا مقصد پاکستانی آرمی غزہ بھیجنے کی کمٹمنٹ نہیں تھا۔ وہ بالکل ایک الگ معاملہ ہے۔

بہرحال BoP کی ممبرشپ کے دو پہلو ہیں۔ پہلا پہلو پاکستان کے حق میں کیاہے؟ دوسرا پہلو مظلوم اہلٍ غزہ کا فائدہ کس میںہے؟ پنجابی کی ایک کہاوت یوں بیان کریں گے کہ ایک بچے نے اپنی ماں سے پوچھا کہ اگرہم دونوں کو آگ لگ جائے تو آپ پہلے کس کی آگ بجھائیں گی میری یا اپنی؟ اُسکی ماں گویا ہوئی ’بیٹا میں اپنی آگ بجھا کر فوراََ تمہاری آگ بجھا دوں گی‘۔ جواب سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اپنی آگ بہرحال پہلے ہی بجھانی پڑتی ہے۔

پاکستان کو فوری تھرٹ بھارت کی طرف سے ہے کیونکہ نریندر مُودی اور اس کی ٹیم مئی 2025 کی جنگ کا بدلہ لینے کی بڑھکیں مارتی پھرتی ہے۔ جبکہ امن کی ضرورت ہمیشہ ہی ہوتی ہے۔ تاہم آجکل ہمیں امن کی اشد ضرورت ہے کہ ماضی میں سخت مالی مشکلات کے بعد چند ماہ سے ہماری اکانومی نے اڑان بھرنی شروع کی ہے۔ یہ Recovery جب تک اسٹیبل نہیں ہو جاتی اس وقت تک ہمیںہر اُس چیز سے دور ہنا چاہئے جو ہماری معیشت پر منفی اثر دکھائے بشمول جنگی صورتحال۔ اس مقصد کیلئے صدر ٹرمپ کو اپنے ساتھ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ایک تو مئی کی جنگ رکوا کر اس نے ہماری فتح برقرار رکھنے میں مدد کی۔ دوسرا اُس کے بعد دنیا کےہر کونے میں جا کر ٹرمپ نے ہماری فتح اور ہمارے ہاتھوں سات بھارتی جہازوں کے گرنے کا ذکر کیا۔

ٹرمپ کے اس طریقہ کار سے مودی اتنا شرمسار ہواہے کہ اس نے مختلف انٹرنیشنل فورمز پر جانا ہی چھوڑ دیاہے۔ اسی لئے ٹرمپ کی گڈ بُکس میں رہنا پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے۔ جب ٹرمپ ہر انٹرنیشنل فورم پرہمارے CDF اور پرائم منسٹر کی تعریفیں کرتے پھرتے تھے تو اہلٍ دانش اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ مستقبل قریب میں وہ ہم سے کچھ چاہتا ہے۔ اب تو بات بالکل واضح ہوگئی کہ دیگر عوامل کے علاوہ وہ BoP کے معاملے میں ہمارا ساتھ ایسے ہی چاہتا ہے جیسے اس نے مئی والی پاک بھارت جنگ کے معاملے میں ہمارا ساتھ دیا۔

میری اگلی دلیل یہ ہے کہ پاکستان کے امیج اور مفاد کی خاطر ایک نئے پلیٹ فارم کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ BoP کے کل 20 اراکین میں سے 8 مسلمان اور 12 غیر مسلم ہیں۔ ان سب کے ساتھ کامریڈشپ میں اضافے کی کوشش پاکستان اور غزہ کے حق میں ہی جائے گی۔ کشمیر اور فلسطین پر ہمارے نقطہء نظر میں رتی برابر ابہام نہیں۔ یہ 7 ممالک پاکستان کے حمایتی ہونگے جبکہ دیگر 12 کی رائے اپنے نظریات اور پالیسی کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش بالکل معروف بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے۔ اس لیے Isolate ہونے کی بجائے کم از کم اس مرحلے پر BoP کا حصہ بننا ہمارے حق میں جا رہا ھے۔ مزید یہ کہ اس سے پہلے اسرائیل اور پاکستان میں کوئی ”رسمی“ رابطہ نہیں تھا۔ اسرائیل کو Recognise کئے بغیر پاکستان کو یہ رابطہ مہیا ہو رہاہے۔ یہ رابطہ پاکستان اور ایران کے حق میں جا سکتا ہے۔ یہ رابطہ اسرائیل اور ایران کو Pre-emptive Strikes سے باز رکھنے میں مدد دے سکتاہے۔ اور نتیجہ امن ہی امن ! فلسطین سے متعلق پاکستان کی ڈکلیئرڈ پالیسی ”دو ریاستی حل“ ہے۔ ممکن ہے BoP کی چھتری کی موجودگی میں اسرائیل کو اس طرف راغب کرنا آسان ہو۔ ہو سکتا ہے اس طرح نسل کُشی کے خلاف پاکستان کی آواز زیادہ مُوثر ہو۔ مغرب کی طرف سےحماس کوغیر مسلحہ کرنے کا بڑا شور آ رہا ہے۔ ابھی وہ مسلح ہیں تو رسمی جنگ بندی کے باوجود آئے دن اسرائیلی فوج اہلٍ غزہ کو لاشوں کے تحفے بھیج رہی ہے۔ اس لیے میری نظر میں حماس کو غیر مسلح کرنا کسی طور درست نہیں۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ اس طرح کی پالیسیوں پر بضد رہے تو ہمارے پاس آپشن موجودہے کہ پارلیمانی اجلاس بلائیں۔ اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ایم این اے حضرات کھل کر دل کی بھڑاس نکالیں۔ اگلے دن حکومت کہے کہ ہماری پارلیمنٹ نہیں مانتی۔ نتیجتاََ پاکستان اُسی وقت BoP کو خیر باد کہہ دے گا۔

تازہ ترین